خواب، حقیقت اور ہمیشہ کی زندگی،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
انسانی دل خواہشات، تمناؤں اور خوابوں کی ایک ایسی لامتناہی نگری ہے جہاں ہر لمحہ کوئی نہ کوئی نیا خواب جنم لیتا رہتا ہے۔ انسان فطرتاً آسائش پسند، بے صبرا اور جلد باز واقع ہوا ہے؛ اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ اس کا ہر خواب فوراً تعبیر پا جائے، ہر ادھوری خواہش حقیقت کا روپ دھار لے اور دنیا کی ہر مادی کامیابی اس کی جھولی میں آ گرے۔ بظاہر یہ سوچنا اور تمنا کرنا کتنا دلکش، سحر انگیز اور تسلی بخش لگتا ہے کہ کاش! ہمارے خوابوں کی تعبیر فوراً حقیقت بن جائے اور زندگی میں کبھی کسی محرومی یا ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن اگر ہم اپنے دل و دماغ کے بند دریچے کھولیں اور کائنات کے نظام پر تدبر کریں، تو ایک بہت ہی گہرا اور روح کو جھنجھوڑنے والا سوال سامنے آتا ہے کہ اگر اس عارضی اور فانی دنیا میں انسان کو اس کی مرضی کے مطابق سب کچھ مل جائے گا، تو پھر آخرت کے لیے کیا بچے گا؟ اور اگر کائنات کا مالک ہمارے تمام ادھورے خواب اور تمنائیں اسی زمین پر پوری کر دے، تو اس ابدی دنیا کے عالی شان انعامات اور جنت کی کیا تڑپ باقی رہے گی؟
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مادی دنیا ہمارے خوابوں کی مستقل تعبیر گاہ نہیں بلکہ محض ایک آزمائشی مسافر خانہ ہے۔ یہ ایک ایسا دار الامتحان اور میدانِ عمل ہے جہاں ہمیں ایک محدود وقت اور مہلت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اصل، حقیقی اور سچی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، جو ہمیشہ رہنے والی ہے، ابدی ہے اور جسے کبھی فنا نہیں ہونا۔ دنیا کا ہر آرام، ہر مادی کامیابی، ہر قیمتی رشتہ اور ہر خوبصورت تعبیر ایک نہ ایک دن مٹی میں مل جانے والی ہے، جبکہ آخرت کا صلہ، وہاں کے باغات، رب کا دیدار اور وہاں کا مستقل سکون دائمی اور لازوال ہے۔ دانشمندی، عقلِ سلیم اور فہم و فراست کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم اس ہمیشہ رہنے والی زندگی کی فکر کرتے، اپنے راتوں کے سکون اور دن کی محنت کو اس ابدی سفر کو سنوارنے کے لیے وقف کرتے اور اپنے ہر عمل کا رخ اس ابدی منزل کی طرف موڑتے۔ مگر افسوس کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی ظاہر بینی اور مادی سحر ہے۔
بدقسمتی سے، ہم انسان دنیا کی ظاہری رنگینیوں، رعنائیوں، آسائشوں اور اس کی فانی زندگی کے سحر میں اس حد تک مگن ہو چکے ہیں کہ یہاں کی چند روزہ کامیابیوں کو ہی اپنی اصل منزل اور آخری ٹھکانہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہم صبح سے شام تک ان مادی خوابوں کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے میں اپنا قیمتی وقت، جوانی، صحت اور توانائیاں ضائع کر دیتے ہیں جن کی حقیقت تپتے ہوئے صحرا میں ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ ہم ایک گاڑی، ایک شاندار مکان، ایک اچھے دنیاوی عہدے یا کسی عارضی تمنا کو حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں، اور اس لایعنی دوڑ میں اس آخرت کی فکر کرنا بالکل بھول جاتے ہیں جہاں کا سفر ناگزیر ہے اور جہاں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے۔ وقت کا بہتا دریا ہمیں روز پکارتا ہے، سفید ہوتے بال اور گرتی ہوئی صحت ہمیں روز یاد دلاتی ہے کہ ہماری مہلت مختصر ہے اور رختِ سفر باندھنے کا وقت قریب سے قریب تر ہو رہا ہے، مگر ہم دنیا کی غفلت کی چادر تان کر اب بھی سوئے ہوئے ہیں۔
خواب دیکھنا انسان کی فطرت کا حصہ ہے اور یہ بذاتِ خود برا نہیں ہے، لیکن دنیاوی خوابوں اور مادی خواہشات میں اس طرح کھو جانا کہ ابدی زندگی کا ہوش ہی نہ رہے، سراسر خسارے، نادانی اور گھاٹے کا سودا ہے۔ اگر ہم دنیا میں ادھورے رہ جانے والے خوابوں، ٹوٹی ہوئی امیدوں اور ناپید تعبیروں پر دل گرفتہ، اداس اور مایوس ہونے کے بجائے اپنی سوچ کا زاویہ اور باطنی رخ بدل لیں، تو ہماری زندگی انتہائی پرسکون ہو جائے گی۔ جب انسان یہ سچائی دل سے تسلیم کر لیتا ہے کہ دنیا کی ہر محرومی، ہر ٹوٹی ہوئی خواہش اور ہر ادھورا خواب دراصل آخرت کے کسی بہت بڑے، انمول اور خوبصورت اجر کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، تو اس کے دل کو وہ باطنی اطمینان، قلبی سکون اور سرور نصیب ہوتا ہے جو مادی دنیا کی تمام رعنائیاں، خزانے اور دولت مل کر بھی نہیں دے سکتیں۔ مؤمن کا اصل خواب دنیا کی فانی آسائش نہیں، بلکہ اپنے رب کی رضا، مغفرت اور جنت کا حصول ہوتا ہے۔
پس ثابت ہوا کہ دنیا کی محبت دراصل ایک دھوکا ہے اور وقت کی پیشانی پر لکھا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ اصل اور دائمی زندگی آخرت کی ہے۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جو وقت کی اس گہری حقیقت کو وقت رہتے سمجھ لے، دنیا کی غفلت کی نیند سے جاگے اور فانی خوابوں کی نگری سے دل لگانے کے بجائے ابدی زندگی کی تیاری کو اپنا اصل مقصدِ حیات بنا لے۔ دنیا کو صرف ایک مسافر کی طرح ضرورت کے تحت برتا جائے اور دل کو ہمیشہ آخرت کی تڑپ اور یادِ الٰہی سے آباد رکھا جائے۔ جب انسان کے دل میں یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ اصل زندگی تو بس آخرت کی ہے، تو وہ دنیا کے ملنے پر اتراتا اور تکبر نہیں کرتا، اور اس کے چھن جانے یا خوابوں کے ٹوٹنے پر مایوس ہو کر مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اللہ پاک ہمیں دنیا کے اس ظاہری دھوکے سے بچائے اور آخرت کی حقیقی کامیابی کے لیے مخلصانہ محنت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین
مزید پڑھیں




