ٹین ایج میں ایکنی اور کیل مہاسے ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
نو عمری یعنی 'ٹین ایج' انسانی زندگی کا وہ حسین مگر نازک ترین دور ہے جہاں بچپن کی بے فکری آہستہ آہستہ رخصت ہو رہی ہوتی ہے اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان ایک ہمہ گیر کیمیائی اور جسمانی انقلاب سے گزرتا ہے۔ اس مرحلے پر جہاں ذہن میں طرح طرح کے سوالات، الجھنیں اور جذباتی طوفان جنم لیتے ہیں، وہی جسمانی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں چہرے اور جلد کی حالت پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ بلوغت کی اس عبوری عمر میں جب اندرونی غدود بیدار ہوتے ہیں، تو ان کے اثرات محض جسمانی صحت تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ نوعمر کی نفسیات، خود اعتمادی اور سماجی رویوں کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ ایکنی اور جلدی بیماریاں بظاہر صرف چند دانوں یا داغ دھبوں کا نام معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ کسی نو عمر کے لیے گہری ذہنی اذیت اور مسلسل ناخوشگواری کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
اس جلدی اور نفسیاتی بحران کے اسباب اور وجوہات کا سائنسی و حیاتیاتی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوغت کا آغاز ہوتے ہی جسم کے اندر اینڈروجن نامی ہارمونز کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہارمونز جلد کے نیچے موجود سیبیشیس غدود کو ضرورت سے زیادہ فعال کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں زہریلا اور چکنا مادے یعنی سیبم کا اخراج حد سے بڑھ جاتا ہے۔ جب یہ اضافی تیل جلد کے مردہ خلیات، گرد و غبار اور فضائی آلودگی کے ساتھ ملتا ہے، تو جلد کے باریک مسام بند ہو جاتے ہیں۔ مساموں کی اس بندش کے اندر بیکٹیریا کی پرورش شروع ہو جاتی ہے جو سوزش، سرخی، پیپ دار دانوں، بلیک ہیڈز اور سنگین قسم کی ایکنی کی شکل میں چہرے، گردن اور پیٹھ پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آج کے ڈیجیٹل دور میں نامناسب طرزِ زندگی، پروسیسڈ اور فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال، چٹ پٹی اور تلی ہوئی اشیاء، دیر تک جاگنے کی عادت، پانی کا کم استعمال اور تعلیمی یا سماجی دباؤ سے پیدا ہونے والا ذہنی تناؤ ان دانوں کو مزید شدید بنا دیتے ہیں۔ چہرے کے ان داغ دھبوں کا بدترین اثر نوعمر کی نفسیات پر پڑتا ہے؛ آئینے میں خود کو دیکھ کر پیدا ہونے والا احساسِ کمتری، ہم عمر ساتھیوں کا تمسخر، اور محفلوں سے کٹ کر تنہائی اختیار کر لینا اس عمر میں عام بات بن جاتی ہے۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے اور جلد کو سنگین خرابیوں سے بچانے کے لیے چند انتہائی بنیادی اور مؤثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے۔ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ چہرے کی صفائی کا باقاعدہ خیال رکھا جائے لیکن صابن یا کیمیکلز کا بے دریغ استعمال نہ کیا جائے، بلکہ دن میں دو سے تین بار نیم گرم پانی اور کسی ہلکے فیس واش سے چہرا دھوئیں۔ دانوں کو بار بار چھونے، ناخن مارنے یا زبردستی نچوڑنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے انفیکشن مزید گہرا ہو جاتا ہے اور جلد پر ناچھٹنے والے داغ پڑ جاتے ہیں۔ اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دیں؛ جنک فوڈ، زیادہ میٹھی اشیاء، ڈبے والے مشروبات اور گھی و تیل سے بھرپور کھانوں سے پرہیز کریں۔ تازہ پھل، سبزیاں، دہی اور سلاد کو اپنی روزمرہ کی غذا کا حصہ بنائیں اور دن میں کم از کم اٹھ سے دس گلاس پانی لازمی پیئیں تاکہ جسم سے فاسد مادے خارج ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متوازن نیند، باقاعدہ ورزش اور اپنے تولیے، تکیے کے غلاف اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی صفائی کا خاص اہتمام کریں۔
جب ہارمونل انتشار اور جلد کی خرابی کو قدرتی اور بغیر کسی ذیلی اثرات (Side Effects) کے ٹھیک کرنے کی بات آتی ہے، تو ہومیو پیتھک علاج ایک انتہائی جامع اور فرد پر مبنی شفابخش راستہ فراہم کرتا ہے۔ ہومیو پیتھی صرف چہرے کے دانوں کا سطحی علاج نہیں کرتی بلکہ بیماری کی اصل جڑ یعنی ہارمونز کے عدم توازن، خون کی ناپاکی اور اندرونی مزاج کی خرابی کو درست کرتی ہے۔ ایکنی اور جلدی امراض کے لیے ہومیو پیتھی میں چند بہترین ادویات موجود ہیں۔ اگر چہرے پر سخت، پیپ دار اور دردناک دانے ہوں جو بلوغت کے دوران ہارمونز کی تبدیلیوں کی وجہ سے نکلے ہوں تو 'پلسٹیلا' (Pulsatilla) انتہائی کارآمد ثابت ہوتی ہے، خاص طور پر نازک مزاج اور حساس نوعمروں کے لیے۔ اگر دانے بہت زیادہ ہوں، جن میں خارش اور جلن کا احساس ہو اور چہرہ لال رہتا ہو تو 'سلفر' (Sulphur) جلد کی صفائی اور خون کے زہریلے مادوں کو باہر نکالنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اسی طرح جن بچوں کی جلد بہت زیادہ چکنی (Oily) ہو اور چہرے پر ضدی بلیک ہیڈز اور داغ دھبے بن چکے ہوں، ان کے لیے 'نٹرم میور' (Natrum Muriaticum) اور 'تھوجا' (Thuja) بہترین ادویات شمار ہوتی ہیں۔ اگر دانوں میں شدید درد، سوجن اور سخت پس بن رہی ہو تو 'ہیپر سلف' (Hepar Sulph) اور 'سلیکا' (Silicea) دانوں کو جلد خشک کر کے جلد کی قدرتی حالت بحال کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں، 'بربرس ایکوی فولیم' (Berberis Aquifolium) ہومیو پیتھی کی وہ نایاب دوا ہے جو نہ صرف دانوں کی سوزش کو ختم کرتی ہے بلکہ چہرے کی رنگت کو نکھار کر دانوں کے بعد رہ جانے والے سیاہ داغوں کو بھی جڑ سے مٹا دیتی ہے۔ ہومیو پیتھک ادویات کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ جسم کے اندرونی دفاعی نظام اور ہارمونز کو بالکل فطری انداز میں متوازن کرتی ہیں، جس سے جلد پر دوبارہ دانے نکلنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ اگر نوعمروں کو درست وقت پر مناسب رہنمائی، ذہنی حوصلہ افزائی اور یہ قدرتی علاج میسر آ جائے تو وہ اس مشکل مرحلے سے نہ صرف باوقار طریقے سے نکل سکتے ہیں بلکہ ایک پراعتماد اور صحت مند شخصیت کے ساتھ زندگی کے اگلے پائیدان پر قدم رکھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں





