دانش اسکولوں کا مقصد پاکستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے،وزیراعظم

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دانش اسکولوں کا مقصد پاکستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے -
اسلام آباد میں دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے طلبہ، ان کے والدین اوراساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ تقریب میں دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں اور طلبہ کی زندگیوں پر مبنی کہانیوں نے حاضرین کو جذباتی کر دیا، ان بچوں اور ان کی ماؤں نے جن مشکلات کا سامنا کیا، وہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غربت اور نامساعد حالات کے باوجود محنت اور تعلیم سے زندگی بدلی جا سکتی ہے۔
شہباز شریف نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے بچپن میں اپنے والد کو کھو دیا تھا، تاہم مشکلات کے باوجود تعلیم کا سفر جاری رکھا اور ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کی منزل حاصل کی، ایسے بچوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ذہانت اور صلا حیت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں، ضرورت صرف انہیں مناسب مواقع فراہم کرنے کی ہے۔
وزیرِ اعظم نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا ذکر بھی کیا جو ڈیرہ غازی خان کے دانش اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی میں افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق اس نوجوان نے بتایا کہ جب وہ بلوچستان سے پنجاب آیا تو اسے خدشہ تھا کہ پتا نہیں وہاں اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا، لیکن دانش اسکول میں اسے دوسرے صوبوں کے طلبہ کے ساتھ محبت اور اپنائیت ملی۔ وزیرِ اعظم نے اس تجربے کو ایسے پاکستان کی مثال قرار دیا جہاں صوبائی شناخت سے بالاتر ہو کر سب کو برابر سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دانش اسکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ میں ڈاکٹر، انجینیئر، پولیس افسر، بیوروکریٹ اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والے نوجوان شامل ہیں، ان کامیابیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر محروم خاندانوں کےبچوں کو تعلیم کے مناسب مواقع ملیں تو وہ بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دانش اسکولوں کا مقصد پاکستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے، خواہ اس کا تعلق امیر خاندان سے ہو یا غریب گھرانے سے،کوئی بچہ شہر میں رہتا ہو یا دیہات اور قصبے میں، یتیم ہو یا مزدور کا بیٹا اور بیٹی، اسے اپنی محنت، قابلیت، امانت اور دیانت کی بنیاد پرآگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے-
شہباز شریف نے کہا کہ 1947 میں قیامِ پاکستان کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں اور اپنے گھر بار چھوڑے، ان کا خواب ایک ایسے ملک کا تھا جہاں سامراجی غلامی اور ناانصافی کا خاتمہ ہو اور ہر شخص کواپنی قابلیت، محنت اور دیانت کے بل پر آگے بڑھنے کا موقع ملےہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہم اپنے بزرگو ں کے اس خواب کی تکمیل کے لیے کہاں تک پہنچے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ پنجاب سے شروع ہونے والے دانش اسکولوں کے منصوبے کو اب پورے ملک میں وسعت دی جا رہی ہے آزاد جموں و کشمیر،گلگت بلتستان،بلوچستان، سندھ اور خیبرپختو نخو ا سمیت مختلف علاقوں میں 27 دانش اسکول زیرِ تعمیر ہیں۔ انہوں نے شمالی وزیرستان، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی موجودگی کو پاکستان کے مختلف علاقو ں اور ثقافتوں کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی وزارتِ تعلیم، متعلقہ حکام اور دیگر اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئےکہاکہ دانش اسکولوں میں جدید علوم کی فراہمی پر بھی توجہ دی جائیگی اداروں میں انفارمیشن ٹیکنالو جی اور مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں کےذریعے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان کے تمام بچوں کو تعلیم کے برابر مواقع فراہم کیے بغیر قائداعظم کے تصورِ پاکستان کی تکمیل ممکن نہیں۔ دانش اسکولوں کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو محنت، دیانت اور عز م کے ساتھ اپنی زندگی بہتر بنانے کے علاوہ ملک و قوم کی خدمت بھی کر سکیں۔




