جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹین ایج میں تھائرائیڈ کے امراض،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

نوعمری انسان کی زندگی کا وہ خوبصورت مگر نازک موڑ ہے جہاں جسم اور ذہن دونوں بیک وقت کئی اہم انقلابات سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب بچوں کی شخصیت تشکیل پاتی ہے، ان کی جسمانی ساخت بدلتی ہے اور جذبات میں طوفانی اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ اس تمام تر بدلاؤ کی باگ ڈور ہمارے اندر موجود ایک انتہائی باریک مگر حساس نطام کے ہاتھ میں ہوتی ہے، جسے ہارمونل سسٹم کہا جاتا ہے۔ ہماری گردن کے نچلے حصے میں تتلی کی شکل کا ایک چھوٹا سا غدود واقع ہے جسے تھائرائیڈ گلینڈ کہتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا عضو نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ہمارے پورے جسم کا تھرموسٹیٹ ہے جو میٹابولزم یعنی غذا کو توانائی میں بدلنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب نوعمری کی شروعات میں جسم میں ہارمونز کا زلزلہ آتا ہے تو اس غدود کی کارکردگی پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ بعض اوقات یہ غدود سست پڑ جاتا ہے اور ضرورت سے کم ہارمون بناتا ہے، جسے ہائپو تھائرائیڈزم کہتے ہیں، اور کبھی یہ حد سے زیادہ متحرک ہو کر وافر مقدار میں ہارمونز خارج کرنے لگتا ہے، جسے ہائپر تھائرائیڈزم کا نام دیا جاتا ہے۔ ان دونوں حالتوں میں جسم کا طبعی توازن درہم برہم ہو جاتا ہے اور بچہ ایک ایسی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے جسے سمجھنا عام لوگوں کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی نوعمر بچوں میں جو قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں، تھائرائیڈ کے امراض ان تبدیلیوں کی سمت بالکل موڑ دیتے ہیں۔ جب یہ غدود سست ہو جاتا ہے تو جسم کا سارا نظام جیسے منجمد ہونے لگتا ہے۔ بچہ عام حالت سے ہٹ کر عجیب سی سستی اور کاہلی کا شکار دکھائی دینے لگتا ہے۔ دوسری طرف اگر تھائرائیڈ تیز ہو جائے تو جسم میں ایک عجیب سی افراط تفری مچ جاتی ہے اور ہر چیز ضرورت سے زیادہ تیز چلنے لگتی ہے۔ ان بیماریوں کی بنیادی وجوہات میں مدافعتی نظام کی خود کار خرابیاں شامل ہیں، جہاں جسم کا اپنا دفاعی نظام غلطی سے تھائرائیڈ غدود پر حملے کرنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ موروثی اثرات، یعنی خاندان میں پہلے سے اس بیماری کی موجودگی، اور غذا میں آیوڈین کے تناسب کا بگڑ جانا بھی اہم وجوہات میں شمار ہوتا ہے۔ سست تھائرائیڈ کی صورت میں بغیر کسی واضح سبب کے وزن تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، ہر وقت تھکاوٹ حاوی رہتی ہے، جسم میں سستی اور سردی کا احساس زیادہ ہوتا ہے، بال بے دردی سے جھڑنے لگتے ہیں اور ذہن پر دھند سی چھا جاتی ہے جسے طبی زبان میں برین فوگ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس تیز تھائرائیڈ میں بچے کی بھوک تو بڑھ جاتی ہے مگر وزن مسلسل گرتا چلا جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز رہتی ہے، ہاتھ کانپتے ہیں اور جسم شدید گرمی محسوس کرتا ہے۔

یہ عارضہ یوں تو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن ان دونوں میں ظاہر ہونے والی جسمانی و ذہنی تبدیلیاں مختلف ہوتی ہیں۔ لڑکوں میں جب تھائرائیڈ کا توازن بگڑتا ہے تو ان کی جسمانی اور پٹھوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ وہ کھلی جگہوں پر کھیلنے یا ورزش کرنے سے زود رنج اور عاجز آ جاتے ہیں۔ ان کا غصہ، چڑچڑاپن اور طیش میں آنا نمایاں ہو جاتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپے سے باہر ہونے لگتے ہیں، جنہیں اکثر گھر والے ان کی سرکشی یا بدتمیزی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسری طرف لڑکیوں پر اس بیماری کا وار کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ اور طبی سائنس اس بات کی شاہد ہے کہ لڑکیوں میں تھائرائیڈ کی بیماریاں لڑکوں کی نسبت کئی گنا زیادہ پائی جاتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ ان کا حساس زنانہ ہارمونل نظام ہے۔

خصوصاً لڑکیوں میں تھائرائیڈ کا بگڑنا ان کے سارا طبعی اور تولیدی نظام کو تہہ وبالا کر دیتا ہے۔ سست تھائرائیڈ کی شکار نوعمر لڑکیوں کی ماہواری کی ترتیب یکسر بدل جاتی ہے، یعنی یا تو یہ بہت تاخیر سے آتی ہے یا پھر اس میں شدید درد اور غیر معمولی بلیڈنگ ہوتی ہے، جبکہ تیز تھائرائیڈ میں یہ سلسلہ انتہائی کم یا مہینوں کے لیے بند ہو جاتا ہے۔ لڑکیوں میں قد کی بڑھوتری رک جانا، جسم پر سوجن آنا اور چہرے پر غیر ضروری بالوں یا کیل مہاسوں کا نکلنا عام بات ہے۔ یہ جسمانی بدلاؤ نوعمر لڑکیوں کو شدید ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ اپنے روپ اور وزن کے بڑھنے یا گھٹنے سے اس قدر خوفزدہ ہو جاتی ہیں کہ ان کا خود اعتمادی کا گراف یکسر گر جاتا ہے۔ وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگتی ہیں، بلاوجہ رونے کا دل کرتا ہے، اور شدید افسردگی یا گھبراہٹ ان کے گرد گھیرا ڈال لیتی ہے۔

ایسی صورت حال میں والدین اور اساتذہ کا کردار ایک مسیحا جیسا ہونا چاہیے۔ اگر کوئی بچہ یا بچی اچانک پڑھائی میں پیچھے رہنے لگے، اسکول میں اس کی کارکردگی گر جائے، وہ سست نظر آئے یا بات بات پر چڑچڑا پن دکھائے، تو اسے محض سستی، کاہلی یا لاپرواہی قرار دے کر ڈانٹنا، طعنے دینا یا سزائیں دینا انتہائی سنگین غلطی ہے۔ والدین اور اساتذہ کا رویہ ہر حال میں مثبت، شفقت آمیز اور تعمیری ہونا چاہیے۔ انہیں یہ بات دل سے تسلیم کرنی ہوگی کہ بچہ دانستہ ایسا نہیں کر رہا بلکہ وہ ایک اندرونی بیماری سے جنگ لڑ رہا ہے۔ اساتذہ کو کلاس روم میں بچے کی ذہنی کیفیت کو سمجھتے ہوئے تعلیمی دباؤ میں لچک دکھانی چاہیے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ کسی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔

گھریلو دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بھی چند اہم اقدامات زندگی کو دوبارہ آسان بنا سکتے ہیں۔ بچوں کی خوراک کا خاص خیال رکھا جائے اور انہیں بازاری و پروسیس شدہ کھانوں، برگر، پیزا اور کولڈ ڈرنکس سے دور رکھا جائے۔ کیفین والی چیزیں جیسے چائے اور کافی تیز تھائرائیڈ کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہیں جبکہ سست تھائرائیڈ والے بچوں کو بند گوبھی، گوبھی اور کچے سویا بین کے زیادہ استعمال سے پرہیز کروایا جائے۔ گھر میں تناؤ سے پاک، پُرسکون اور پیار بھرا ماحول فراہم کرنا نصف علاج کے برابر ہے۔ بچے کو وقت پر سونے اور ہلکی پھلکی واک یا کھیل کود کی ترغیب دی جائے تاکہ اس کا میٹابولزم متحرک رہے۔

جہاں تک علاج کا تعلق ہے تو ہومیو پیتھک طریقۂ علاج علامات کی باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مریض کی انفرادی حالت کے مطابق علاج کرتا ہے، جو بچوں کے لیے نہایت محفوظ اور بغیر کسی مضر اثرات کے ہے۔ اگر بچہ سست ہو، موٹاپے کی طرف جا رہا ہو، سر پر سوتے میں بہت پسینہ آتا ہو اور سردی زیادہ لگتی ہو تو "کیلکیریا کارب" اس کی بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔ جن بچوں کی جلد خشک، کھردری ہو، ناخن خراب ہوں اور شدید قبض کے ساتھ وزن بڑھ رہا ہو وہاں "گرافائٹس" بہترین نتائج دیتی ہے۔ اگر بچی یا بچہ شدید ذہنی تناؤ، اداسی یا کسی صدمے کے بعد تھائرائیڈ کا شکار ہوا ہو، اسے نمکین چیزیں پسند ہوں اور وزن گر رہا ہو تو "نیٹروم میور" شفا کا باعث بنتی ہے۔ جن بچوں میں امتحانات کا خوف، شدید گھبراہٹ، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور ہر کام جلدی میں کرنے کی عادت ہو، وہاں "آرجنٹم نائٹریکم" کام آتی ہے۔ اسی طرح غصہ، پیٹ کے مسائل اور اعصابی کمزوری کے لیے "لائیکوپوڈیم"، اور گلے کی سوجن یا شدتِ حرارت میں "بیلادونا" علامات کے مطابق مفید ثابت ہوتی ہے۔

نوعمری کے اس نازک سفر میں اگر بچوں کو بروقت طبی تشخیص، ہومیو پیتھک علاج، متوازن غذا اور والدین و اساتذہ کی بھرپور محبت اور تعاون میسر آ جائے تو وہ تھائرائیڈ جیسے مرض پر آسانی سے قابو پا کر ایک صحت مند، پُراعتماد اور روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔