ٹائم مینجمنٹ: زندگی میں توازن،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
کبھی دن ڈھلنے پر آپ نے اپنے اندر جھانک کر دیکھا ہے کہ سارا دن ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد بھی دل کو وہ تسکین کیوں نہیں ملتی جو کسی معرکے کی فتح کے بعد ملنی چاہیے؟ صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ہم ایک انجانی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں، ہر طرف مصروفیت کا ایک طوفان ہوتا ہے، فون کی متواتر بجتی گھنٹیاں کانوں پر ہتھوڑے برساتی ہیں، اسکرینوں پر ہر لمحہ چمکتے ہوئے نوٹیفکیشنز ہمارا دھیان اچک لیتے ہیں، اور رات کو جب ہم بستر پر گرتے ہیں تو سوائے اعصابی تھکن، چڑچڑے پن اور ادھورے پن کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ہم میں سے بیشتر لوگ سارا دن محض مصروف رہتے ہیں لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ ہم خود سے شکوہ کرتے ہیں کہ شاید دن کے چوبیس گھنٹے انسانی بساط کے لیے کم پڑ گئے ہیں، مگر ذرا ٹھہریے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے، کیا واقعی وقت کم ہے یا پھر ہم نے ترجیحات اور سلیقے کا دامن چھوڑ دیا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ٹائم مینجمنٹ خود کو گھڑی کے سیکنڈوں کے ساتھ باندھ کر مشین بنانے کا نام نہیں، بلکہ یہ تو زندگی کے بے ہنگم شور میں سے اپنے اصل مقصد کو چن لینے اور باقی تمام فضول، بے مصرف اور وقت برباد کرنے والی چیزوں کو مسکرا کر رخصت کر دینے کا ایک پروقار اور خوبصورت شعور ہے۔
اگر ہم حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو ٹائم مینجمنٹ کا عمل باہر سے نہیں بلکہ انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ دراصل کوئی جادوئی عمل یا ریاضی کا خشک فارمولا نہیں ہے، بلکہ اپنی ذات، اپنی توجہ اور اپنی توانائی کے باقاعدہ اور باہوش بندوبست کا نام ہے۔ وقت کا یہ انتظام اس بنیادی اعتراف سے جنم لیتا ہے کہ گھڑی کے چوبیس گھنٹے ہر امیر و غریب، دانشمند اور غافل کے لیے بالکل برابر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک شخص وقت کے بہاؤ میں تنکے کی طرح بہہ جاتا ہے جبکہ دوسرا اپنے ارادے کے چپوؤں سے ناؤ کا رخ متعین کرتا ہے۔ وقت کی تنظیم کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ انسان ہر کام بیک وقت نہیں کر سکتا۔ ملٹی ٹاسکنگ یا ایک وقت میں کئی گھوڑوں پر سوار ہونے کا دعویٰ موجودہ دور کا سب سے بڑا فریب ہے۔ جب ہم ایک ساتھ چار کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دراصل ہم کسی بھی کام کو اپنی پوری توجہ اور روح نہیں دے پاتے۔ ٹائم مینجمنٹ کا آغاز اس سادہ اصول سے ہوتا ہے کہ دن کے آغاز میں اپنے سب سے اہم کام کا تعین کیا جائے اور جب تک وہ مکمل نہ ہو، اپنی ساری توانائیاں اسی ایک نقطے پر مرکوز رکھی جائیں۔
اس خوبصورت شعور کے بنیادی خد و خال کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو اس کی عمارت چند مضبوط ستونوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا پہلا ستون ترجیحات کا واضح تعین ہے۔ انسانی نفسیات کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس چیز کی طرف پہلے بھاگتی ہے جو سامنے شور مچا رہی ہو، جسے ہم فوری پن کا دھوکہ کہتے ہیں۔ لیکن عقل مندی یہ ہے کہ انسان شور مچانے والے غیر اہم کاموں اور خاموشی سے مستقبل کو سنوارنے والے اہم کاموں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچے۔ اس سلسلے میں تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ وہ تمام کام جو انسان کی ذاتی ترقی، گہرے مطالعے، جسمانی صحت، خاندانی توازن اور فکری پختگی سے جڑے ہوتے ہیں، وہ کبھی ہنگامی بنیادوں پر ہمارے سر پر چیختے نہیں ہیں، مگر حقیقت میں وہی انسان کے کل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جائے تو بعد میں وہ بڑے بحرانوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
وقت کے انتظام کا دوسرا اہم ترین خدوخال منصوبہ بندی کی تحریری عادت ہے۔ جو بات صرف ذہن میں رہتی ہے وہ اکثر بھول اور غفلت کی نذر ہو جاتی ہے، لیکن جب ارادہ قلم کے ذریعے کاغذ پر اتر آتا ہے تو وہ ایک عہد بن جاتا ہے۔ اپنے آنے والے دن کا خاکہ ایک رات پہلے یا صبح کی اولین ساعتوں میں ترتیب دینا، اہم ترین کاموں کے لیے وقت کے باقاعدہ بلاکس مقرر کرنا اور اس دوران دنیا جہاں کے غیر ضروری رابطوں سے کنارہ کش ہو جانا، وقت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے۔ اس نظام کا تیسرا اور سب سے نازک پہلو انکار کی جرأت پیدا کرنا ہے۔ ہم اکثر صرف اس خوف سے ہر شخص اور ہر فرمائش پر لبیک کہہ دیتے ہیں کہ کہیں کوئی ناراض نہ ہو جائے۔ یاد رکھیے، جو انسان ہر دروازے پر دستک دینے اور ہر آواز پر مڑ کر دیکھنے کا عادی ہو جائے، وہ اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ دوسروں کی فضول گفتگو، بے وقت کی ملاقاتوں اور بے مقصد فرمائشوں پر شائستگی اور مسکراہٹ کے ساتھ معذرت کر لینا دراصل اپنے مقصدِ حیات کی حفاظت کرنا ہے۔
ایک اور لازمی پہلو جو وقت کی تنظیم کو انسانی اور خوشگوار بناتا ہے، وہ حقیقت پسندی اور وقفوں کا توازن ہے۔ انسان کا دماغ لگاتار گھنٹوں تک کام کرنے کے لیے نہیں بنا۔ پچیس یا تیس منٹ کی مکمل یکسوئی کے بعد چند منٹ کی گہری سانس، ایک مختصر چہل قدمی یا ذہن کو خالی کر دینے والا سکون انسان کی تخلیقی صلاحیت کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ کام جو آپ کے علاوہ کوئی دوسرا بھی بخوبی کر سکتا ہو، انہیں خود پر لادنے کے بجائے دوسروں کے سپرد کرنا سیکھنا چاہیے۔ جب انسان غیر ضروری بوجھ دوسروں کے ساتھ بانٹ لیتا ہے تو اس کا ذہن ان بلند اور دور رس فیصلوں کے لیے آزاد ہو جاتا ہے جن کی ذمہ داری صرف اور صرف اسی پر عائد ہوتی ہے۔
جب انسان ان تمام اصولوں کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیتا ہے تو اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز اور ہمہ گیر صورت میں سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلا اور فوری فائدہ اعصابی دباؤ اور اضطراب سے مکمل نجات ہے۔ جب آپ کے تمام کام پہلے سے طے شدہ ہوں اور آپ کو علم ہو کہ کس لمحے کیا کرنا ہے تو آخری لمحات کی گھبراہٹ، ڈیڈ لائنز کا خوف اور افراتفری خود بخود دم توڑ دیتی ہے۔ انسان کا اندرونی سکون بحال ہوتا ہے اور دل و دماغ پر چھایا ہوا مستقل بوجھ اتر جاتا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ کام کے معیار اور کارکردگی میں بے پناہ اضافہ ہے۔ یکسوئی اور ارتکاز سے کیا جانے والا ایک گھنٹے کا کام منتشر ذہن کے آٹھ گھنٹوں پر بھاری ہوتا ہے۔ کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور غلطیوں کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔
اس سلیقے کا تیسرا اور شاید سب سے خوبصورت فائدہ زندگی میں متوازن رشتوں کی بحالی ہے۔ عام طور پر یہ شکایت عام ہے کہ ہمارے پاس اپنے پیاروں کے لیے، بچوں کے ساتھ ہنسنے بولنے کے لیے یا والدین کی خدمت کے لیے وقت نہیں بچتا۔ لیکن وقت کی دانشمندانہ تقسیم پیشہ ورانہ مصروفیات کو اپنے دائرے میں سمیٹ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو اپنے خاندان، دوستوں اور سب سے بڑھ کر خود اپنے لیے وہ پرسکون لمحات میسر آ جاتے ہیں جو زندگی کو خوبصورت اور جینے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی اور خود شناسی کا ایک ایسا نیا احساس بیدار ہوتا ہے جو انسان کو اپنی صلاحیتوں پر فخر کرنا سکھاتا ہے۔
حتمی بات یہی ہے کہ وقت کوئی دشمن نہیں جس سے جنگ لڑی جائے، اور نہ ہی یہ کوئی بوجھ ہے جسے گھسیٹا جائے۔ وقت دراصل کائنات کا وہ پاکیزہ اور شفاف کینوس ہے جس پر ہمارے ہر لمحے کے فیصلے رنگ بھرتے ہیں۔ جب تک ہم سوشل میڈیا کی لامتناہی سکرولنگ، لایعنی محفلوں اور بے مقصد مشاغل کو اپنی زندگی سے بے دخل نہیں کریں گے، تب تک ہم اپنی تقدیر کے معمار نہیں بن سکتے۔ وقت کا درست استعمال انسان کو تنگی سے نکال کر وسعت میں لے آتا ہے۔ یہ ہنر جس دن ہماری رگ و پے میں اتر گیا، اُس دن سے ہماری زندگی محض گھڑی کی سوئیوں کے پیچھے بھاگنے کا ماتم نہیں رہے گی بلکہ اپنے طے کردہ راستے پر وقار، سکون اور تمکنت کے ساتھ قدم اٹھانے کا ایک شاندار اور پرمغز سفر بن جائے گی۔
مزید پڑھیں





