جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹرمپ کامعلومات لیک کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

annlfduo_donald-trump_625x300_06_November_24

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج سے متعلق خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کرنے والے اہلکاروں کو گولی مار دینی چاہیے یا عمر بھر جیل میں ڈال دینا چاہیے۔ 


ایریزونا کے شہر بُل ہیڈ سٹی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں۔


ٹرمپ نے کہا کہ ان کی رائے میں خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے،ماضی میں ایسے افراد کو گولی مار دی جاتی تھی جو کسی ملک پر حملے کے وقت سے متعلق معلومات لیک کرتے تھے۔


ان کا یہ بیان جون 2025 میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے تناظر میں سامنے آیا ہے اس کارروائی کے بعد متعدد امریکی میڈیا اداروں نے امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کی ایک ابتدائی رپورٹ کے نتائج شائع کیے تھے، جو اس وقت تک عوام کے لیے جاری نہیں کی گئی تھی۔


رپورٹ میں اشارہ دیا گیا تھا کہ ایران امریکی حملوں سے متاثرہ مقامات سے اپنا کچھ افزودہ یورینیم منتقل کرنے میں کامیاب رہا تھا،صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز اور سی این این سمیت میڈیا اداروں پر الزام لگایا کہ خفیہ معلومات کی اشاعت سے امریکی فوجی اہلکاروں کی سلامتی خطرے میں پڑی۔


ان کے مطابق حملوں کے لیے روانگی اور آمد کے اوقات سے متعلق معلومات افشا ہونے کے باعث انہیں 2 روز بعد بمباری کا شیڈول تبدیل کرنا پڑا، خفیہ معلومات لیک کرنے والوں کو جیل بھیجنا چاہیے یا انہیں گولی مار دینی چاہیے، جبکہ ایسے افراد کو باقی زندگی جیل میں گزا رنی چاہیے۔


ٹرمپ انتظامیہ نے خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کی شناخت کے لیے اقدامات بھی تیز کیے ہیں، انتظامیہ کے بعض ملازمین اور فوجی ا فسران سے پولی گراف ٹیسٹ لیے گئے ہیں،جبکہ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے صحافیوں کو بھی معلومات کے ذرائع معلوم کرنے کے لیے عدالتی سمن موصول ہوئے ہیں۔


گزشتہ سال امریکی محکمہ دفاع نے پینٹاگون تک رسائی کے خواہش مند صحافیوں سے غیر مجاز مواد شائع نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم، متعدد صحافیوں نے اس شرط سے اتفاق نہیں کیا اور ایک وفاقی عدالت نے نئی پابندیوں میں سے کئی کو کالعدم قرار دے دیا۔


ٹرمپ نے ریلی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کا موازنہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں سے کیا،انہوں نے کہا کہ صحافی بھی غلط معلومات پھیلاتے ہیں اور اس لحاظ سے وہ بھی معلومات افشا کرنے والوں جیسے ہیں۔


امریکی صدر ماضی میں بھی ذرائع ابلاغ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور انہیں عوام کا اصل دشمن قرار دے چکے ہیں،ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ نے سرکاری معلومات میڈیا تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، اُن میں وفاقی اداروں کے نئے اور موجودہ ملازمین سے رازداری کے معاہدوں پر دستخط کرانے کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ وہ سرکاری معلومات غیر مجاز افراد تک نہ پہنچا سکیں۔


گزشتہ ماہ نیویارک ٹائمز نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج کے جوائنٹ اسٹاف کے تقریباً 50 ارکان سے جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ لیے گئے۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی کہ آیا انہوں نے صحافیوں کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔


جنوری میں ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کی صحافی ہننا نٹینسن کے گھر کی تلاشی کی اجازت بھی دی تھی۔ یہ کارروائی ایک سرکاری ٹھیکیدار کے خلاف تحقیقات کا حصہ تھی، جس پر خفیہ دستاویزات غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے کا الزام تھا تاہم، ایک وفاقی مجسٹریٹ جج نے اگلے ماہ انتظامیہ کو تلاشی کے دوران ضبط کیے گئے ڈیٹا کا جائزہ لینے سے روک دیا۔ بعد ازاں ضلعی عدالت کے جج نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف مزید اپیل نہیں کی۔


جون میں ٹرمپ انتظامیہ نے واشنگٹن پوسٹ کے تین اور وال اسٹریٹ جرنل کے ایک صحافی کو وفاقی گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی دینے پر مجبور کرنے کی کوشش بھی کی تھی تاہم، اخبارات کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد انتظامیہ نے صحافیوں کو جاری کیے گئے سمن واپس لے لیے۔


ٹرمپ اس سے قبل بھی خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کی حمایت کر چکے ہیں سابق وائٹ ہاؤس عہدیدار ایلیسا فرح گرفن نے 2024 میں بتایا تھا کہ 2020 میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے بنکر میں پناہ لینے کی خبر سامنے آنے کے بعد انہوں نے معلومات لیک کرنے والوں کو سزائے موت دینے کی بات کی تھی۔


بدھ کے روز خطاب میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں ’زمین پر بدترین لوگ‘ قرار دیا۔