Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹرمپ نے ایران کا سات روزہ جنگ بندی منصوبہ مسترد کر دیا

gv9q64r8_donald-trump-reuters_625x300_03_October_23

امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔


امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اپنے معاونین کو بتایا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد وہ ایران پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شر وع کریں گے،یہ اقدام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رواں ہفتے کے اوائل میں ان کی اس تقریر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی۔


22 ستمبر کو اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے, کیا میں ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کروں جس سے انہیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور پہلے سے کہیں بہتر ملک بننے کا موقع ملے۔شاید مشرقِ وسطیٰ یا دنیا کی عظیم ترین ممالک میں سے ایک؟ یا پھر میں اسلامی جمہوریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دوں۔۔اور وہ بھی جلد، تاکہ انہیں دوبارہ کبھی لوگوں اور مما لک کو ہلاک اور تباہ کرنے کا موقع نہ ملے؟ لیکن میرا ماننا ہے کہ ہم انتخابات کے فوراً بعد کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے، کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔


جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے مغربی ایشیا میں تنازعہ ختم کرنے کے لیے سات روزہ منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس منصوبے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جامع بات چیت کا آغاز کرنا شامل ہوگا۔


عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ تجویز اس مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) سے ملتی جلتی ہے جس پر امریکہ اور ایران کے درمیان رواں سال جون میں اتفاق ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک منصوبہ پیش کیا ہے، اگر کچھ شرائط پوری کر لی جائیں تو سات دن کے اختتام پر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔۔۔ بہتر یہی ہوگا کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ہی کسی معاہدے پر اتفاق ہو جائے۔


جرمن عہدیدار جوہان ویڈفول کے ساتھ ملاقات میں عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نےسفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی جائز شرائط اور مطالبات امریکی فریق تک پہنچا دیے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں سلامتی کی بحالی کے لیے ایران کے خلاف امریکی مداخلت اور جار حانہ اقدامات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ایرانی عہدیدار نے اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سےایران کے سفارت کاری پر مبنی عزم کا اعادہ کیا۔


انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے نیک ارادوں کو کوئی بھی فریق نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ساتھ ہی، انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف عسکری جارحیت کا مظاہرہ کیا، اس کے باوجود آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا گیا۔


فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس سال جون میں دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امر یکی فریق کو قرار دیا۔


انہوں نے فاکس نیوز سے کہاکہ ہم آپ کے صدر کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچے تھے, اس معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھےاور اسی بنیاد پر ہم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں اور اب بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں اس ڈیل کے خدوخال پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا تھا، وہ کھلا رہا۔ اس کے باوجود، کسی قانونی بنیاد یا فریم ورک کے بغیر انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔


انہوں نے ہمارے قابلِ احترام سپریم لیڈر کو قتل کر کے انہیں شہید کر دیا، ہمارے سائنسدانوں، فوجی کما نڈروں اور سرکاری عہدیداروں کو ہلاک کیا گیا مسئلہ یہ ہے کہ مذاکرات کے بجائے امریکہ تصادم کا ر استہ اختیار کرتا ہے، ہم پر بمباری کرتا ہے اور ہر راستے کو مسدود کرتا ہے, ہم تیار ہیں۔


اب جبکہ ٹرمپ نے ایران کی امن پیشکش کو مسترد کر دیا ہے، امکان ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔