وسیم عباس اور چائلڈ لیبر قوانین،سوالیہ نشان ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
پندرہ سالہ یتیم وسیم عباس کا المناک قتل محض ایک فرد کی موت نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر، ریاستی اداروں کی غفلت اور اس ظالم معاشی نظام کے منہ پر ایک گہرا طمانچہ ہے جو روزانہ نہ جانے کتنے ہی معصوم پھولوں کو اپنی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ پندرہ سال کی وہ عمر جو قلم، کتاب، کھیل کود اور خواب دیکھنے کے لیے مخصوص ہوتی ہے، جب مجبوریوں کے بوجھ تلے دب کر روٹی اور سر چھپانے کی تگ و دو میں ڈھل جائے، تو سمجھ لیجیے کہ معاشرہ بحیثیتِ مجموعی اپنی اخلاقی اور انسانی شکست تسلیم کر چکا ہے۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہی جس طرح وسیم عباس کو بے رحم دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں یتیم اور بے سہارا بچوں کی فلاح و بہبود کے دعوے صرف کاغذوں اور تقریروں تک محدود ہیں۔ ہمارے معاشرے میں غربت اور چائلڈ لیبر کا یہ چولی دامن کا ساتھ ایک ایسے ناسور کی طرح ہے جو نسل در نسل غریبوں کو نگل رہا ہے۔ جب ریاست کی طرف سے غریب خاندانوں بالخصوص یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور بنیادی ضروریات کی ضمانت نہیں دی جاتی، تو کمسن بچے اپنی ماں کے آنسو پونچھنے اور چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کے لیے بازاروں، کارخانوں اور ہوٹلوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ وسیم عباس کا اسکول کے بجائے کسی کام کی جگہ پر موجود ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہمارا معاشی نظام غریب کے بچے سے اس کا بچپن چھیننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ یہ معاشی مجبوری ہی دراصل وہ پہلا زینہ ہے جو ایک بچے کو استحصال کی اندھی گلی میں دھکیل دیتا ہے۔
کام کی جگہوں پر بچوں کے تحفظ کا مکمل فقدان ایک ایسا خوفناک پہلو ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ کمسن مزدوروں کے پاس نہ تو اپنے حقوق کا ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی سکت رکھتے ہیں۔ مالکان اور طاقتور افراد ان بے بس بچوں کو سستا اور غیر محفوظ مزدور سمجھ کر ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کمزور ہاتھ جو ان کی خدمت پر مامور ہیں، دراصل ان کا مستقبل سنوارنے کے حقدار تھے۔ کام کی جگہوں پر سیکیورٹی، معائنہ اور قانون کا کوئی خوف نہ ہونے کی وجہ سے اکثر یہ معمولی مار پیٹ اور تشدد وسیم عباس جیسے معصوموں کی جان لے لیتا ہے، اور قاتل دندناتے پھرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ غریب کا خون اس ملک میں سب سے سستا ہے۔
اگر پاکستان میں بچوں کی مشقت کے خاتمے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجود آئینی، وفاقی اور صوبائی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال ایک اور المناک تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 11 چودہ سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی خطرناک جگہ یا فیکٹری میں مشقت کے لیے رکھنے پر واضح پابندی عائد کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25-اے ریاست پر لازم کرتا ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ اس کے علاوہ وفاقی سطح پر ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں منظور کیے گئے۔
بچوں کی مشقت کو قانوناً جرم قرار دیا گیا ہے اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے کنونشنز کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ تاہم، ان تمام قانونی دفعات اور کاغذی ضابطوں کے باوجود زمینی حقائق انتہائی تلخ اور افسوسناک ہیں۔ ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ غیر رسمی شعبوں کا وسیع پھیلاؤ ہے، جہاں لیبر انسپکٹرز کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے؛ موٹر مکینک کی دکانیں ہوں، ہوٹل ہوں یا گھروں میں گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرنے والے بچے، وہ سب قانون کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ متعلقہ محکموں میں انتظامی کمزوری، عملے کی کمی، کرپشن اور سست رفتار نظامِ عدل کی وجہ سے قانون شکن عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، جس سے ظالموں کے حوصلے بلند رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود چائلڈ لیبر کا ناسور بدستور معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
لیکن اس سب سے بڑھ کر ہماری اپنی معاشرتی بے حسی اس المیے کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ ہم روزانہ اپنے گلی محلوں، بازاروں اور دفاتر میں کمسن بچوں کو مشقت کرتے دیکھتے ہیں، مگر ہمارا ضمیر اس وقت تک نہیں جاگتا جب تک کوئی بڑا سانحہ پیش نہ آ جائے۔ ہم اس تلخ حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ معاشرے کا ہر بچہ ہمارا اپنا بچہ ہے اور وہ تحفظ، تعلیم اور محبت کا یکساں حقدار ہے۔ جب تک ہم بطور سوسائٹی کسی غریب یا یتیم بچے پر ہونے والے ظلم پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے، تب تک ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ وسیم عباس کا خون ہم سب سے سوال کر رہا ہے کہ ہم نے ایک انسان اور ایک معاشرے کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو کیوں بھلا دیا؟ اس دردناک واقعے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست، حکومت اور عوام سب مل کر اس ناسور کے خلاف سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائیں۔ یتیم اور بے سہارا بچوں کی سرکاری سرپرستی میں تعلیم اور کفالت کا ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جائے جہاں کوئی بھی بچہ مجبوری کے عالم میں مزدوری کرنے پر مجبور نہ ہو۔ لیبر لاز کو غیر رسمی شعبوں میں بھی اتنی ہی سختی سے نافذ کیا جائے جتنا کہ کارخانوں میں ہوتا ہے، اور چائلڈ لیبر کے مرتکب عناصر کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ بند رکھیں اور اجتماعی سطح پر اس نظام کو نہ بدلا، تو پھر ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ ہمارے مزید کتنے ہی وسیم عباس اس ظالم چائلڈ لیبر کی بھٹی کی نذر ہو جائیں گے اور ہماری غفلت یوں ہی معصوموں کے لہو سے دیوالی جلاتی رہے گی۔
مزید پڑھیں



