Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آئینہ، جو ہم سے سوال کرتا ہے،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

معاشرہ بھی ایک آئینے کی مانند ہوتا ہے۔ اس میں جو چہرہ دکھائی دیتا ہے، وہی دراصل ہماری اجتماعی شخصیت کا عکس ہوتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے آئینے تو بہت سجا لیے ہیں، آئینے میں دیکھنے کی ہمت کھو دی ہے۔ ہم سڑکوں کی صفائی چاہتے ہیں مگر اپنے رویوں کی گندگی پر خاموش رہتے ہیں؛ اداروں کی اصلاح کے خواہش مند ہیں مگر اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ہر خرابی کا ملبہ کسی دوسرے کے سر ڈال دیتے ہیں۔ ہم تبدیلی کے نعرے لگاتے ہیں لیکن جب تبدیلی ہمارے دروازے پر آ کر ہماری عادتوں کو چیلنج کرتی ہے تو ہم کھڑکیاں بند کر لیتے ہیں۔

ہمارا سب سے بڑا سماجی مسئلہ شاید غربت، بے روزگاری یا مہنگائی بھی نہیں، ان مسائل سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ جس معاشرے میں ظلم معمول بن جائے، وہاں ظلم پر حیرت ختم ہو جاتی ہے۔ جس گھر میں کئی برس سے پانی ٹپک رہا ہو، وہاں ایک دن چھت گرنے پر اہلِ خانہ چونکتے ضرور ہیں مگر یہ سوال کم ہی کرتے ہیں کہ چھت اتنی دیر سے کمزور کیوں تھی۔ ہمارا اجتماعی رویہ بھی کچھ ایسا ہی ہو چکا ہے۔ کوئی نوجوان روزگار نہ ملنے پر مایوس ہوتا ہے، کوئی باصلاحیت طالب علم وسائل نہ ہونے کے باعث پیچھے رہ جاتا ہے، کوئی غریب علاج کے اخراجات سے شکست کھاتا ہے مگر ہم چند لمحوں کی افسوس بھری گفتگو کے بعد اپنی روزمرہ زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔

ہماری بستی میں ایک پرانا کنواں تھا۔ کبھی پورا گاؤں اسی سے پانی بھرتا تھا۔ وقت گزرا تو کنویں میں مٹی، پتے اور کچرا جمع ہونے لگا۔ ایک بزرگ نے لوگوں سے کہا کہ کنواں صاف کر لو، ورنہ ایک دن پانی زہر آلود ہو جائے گا۔ لوگوں نے جواب دیا: "ابھی تو پانی آ رہا ہے!" یوں برس گزرتے گئے۔ ہر شخص اپنی بالٹی بھر کر گھر لے جاتا رہا اور کنواں اندر ہی اندر مرتا رہا۔ ایک دن پانی اتنا گندا ہو گیا کہ کسی کے کام کا نہ رہا۔ تب گاؤں میں اجلاس ہوا، تقریریں ہوئیں، ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا مگر کسی نے یہ نہ پوچھا کہ جب کنواں آلودہ ہو رہا تھا تو ہم نے اسے صاف کیوں نہیں کیا؟

ہم بھی کچھ اسی کنویں کے کنارے کھڑے ہیں۔

ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں پر گفتگو تو بہت کرتے ہیں مگر ان کی جڑوں تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ نئی نسل میں برداشت نہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے اسے اختلافِ رائے کا احترام سکھایا ہی کب ہے۔ ہم نوجوانوں کے بگڑتے ہوئے رویوں کا شکوہ کرتے ہیں مگر انہیں ایسا ماحول دینے پر غور نہیں کرتے جہاں ان کے سوال سنے جائیں۔ ہم سوشل میڈیا کو الزام دیتے ہیں کہ اس نے رشتوں میں فاصلے پیدا کر دیے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ شاید ہماری مصروف، خودغرض اور نمود و نمائش سے بھری زندگی نے پہلے ہی ان رشتوں کو کمزور کر دیا تھا۔

اصل بحران سہولتوں کا نہیں، ترجیحات کا بھی ہے۔

آج ایک طرف انسان اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے نئی نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے، دوسری طرف تنہائی، بے چینی، عدم برداشت اور سماجی بیگانگی بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے پاس رابطے کے ذرائع پہلے سے زیادہ ہیں مگر دلوں کے درمیان فاصلے بھی عجیب حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ہم ہزاروں لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے ایک شخص کی خاموشی سننے کا وقت نہیں رکھتے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کی تصویریں دیکھتے رہتے ہیں مگر اپنے گھر کے اندر چھپے ہوئے دکھ سے نظریں چرا لیتے ہیں۔

یہ تضاد ہمیں ایک ایسے شخص کی یاد دلاتا ہے جو روزانہ بازار میں آئینے فروخت کرتا تھا۔ اس کی دکان میں ہر قسم کے آئینے موجود تھے۔۔۔ چھوٹے، بڑے، خوب صورت، قیمتی اور سستے۔ لوگ آتے، اپنا چہرہ دیکھتے اور آئینہ خرید کر لے جاتے۔ ایک دن اس شخص نے اپنی دکان کے بیچوں بیچ ایک بڑا آئینہ لگا دیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ دکاندار خود کبھی اس آئینے کے سامنے نہ کھڑا ہوا۔ ایک بچے نے پوچھا، "بابا! آپ اپنا چہرہ کیوں نہیں دیکھتے؟" وہ مسکرایا اور بولا، "بیٹا! دوسروں کو آئینہ بیچنا آسان ہے، خود کو دیکھنا مشکل۔"

ہماری اجتماعی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم دوسروں کو نصیحت کرنے میں ماہر ہیں۔ سیاست دان کو برا کہتے ہیں، استاد کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، والدین کو موردِ الزام بناتے ہیں، نوجوانوں کو نالائق کہتے ہیں اور معاشرے کو بے حس قرار دیتے ہیں مگر جب سوال ہماری اپنی ذمہ داری تک پہنچتا ہے تو ہم اچانک آئینہ ہٹا دیتے ہیں۔

آج ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشرہ کوئی الگ مخلوق نہیں۔ معاشرہ ہم ہیں۔ بازار میں دکان دار، سڑک پر ڈرائیور، کلاس روم میں استاد، گھر میں والدین، دفتر میں ملازم، ادارے میں افسر اور موبائل اسکرین کے پیچھے بیٹھا ہوا صارف۔۔۔سب مل کر معاشرہ بناتے ہیں۔ اگر ہم رشوت کو برا کہتے ہوئے اپنے کام کے لیے ناجائز سفارش تلاش کریں، اگر ہم جھوٹ کے خلاف تقریر کرتے ہوئے معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولیں، اگر ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہوئے اپنے عزیز کے لیے میرٹ توڑنے کی کوشش کریں، تو پھر ہمیں معاشرے کی خرابی پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ ایک چھوٹے سے انکار سے شروع ہوتی ہے: غلط کام سے انکار، جھوٹ سے انکار، ناانصافی پر خاموش رہنے سے انکار، کسی کمزور کو حقیر سمجھنے سے انکار۔ ایک فرد کا درست رویہ بظاہر معمولی ہوتا ہے مگر یہی معمولی رویے اجتماعی کردار کی اینٹیں بنتے ہیں۔ دیوار ایک ہی دن میں نہیں بنتی بلکہ ایک ایک اینٹ رکھ کر بنتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ بھی ایک ایک کردار، ایک ایک فیصلے اور ایک ایک رویے سے تشکیل پاتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں، اچھا انسان ہننا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ زیادہ کمانا کامیابی ہو سکتی ہے مگر کسی کا حق نہ مارنا کردار ہے؛ بلند عہدہ حاصل کرنا کامیابی ہو سکتی ہے، مگر اختیار کو امانت سمجھنا کردار ہے؛ دنیا بھر میں مشہور ہونا کامیابی ہو سکتی ہے مگر اپنے گھر کے بوڑھے والدین کے لیے وقت نکالنا انسانیت ہے۔

اور شاید سب سے بڑھ کر ہمیں اختلاف سے خوفزدہ ہونا چھوڑنا ہوگا۔ زندہ معاشرہ وہ نہیں جہاں سب لوگ ایک ہی بات سوچیں؛ زندہ معاشرہ وہ ہے جہاں مختلف خیالات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو سن سکیں۔ سوال کرنے والا دشمن نہیں ہوتا۔ تنقید کرنے والا غدار نہیں ہوتا۔ نوجوان کا سوال معاشرے کے زوال کی علامت نہیں، اس کی بیداری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ جو معاشرہ سوالوں کے دروازے بند کر دیتا ہے، وہاں اندھی تقلید کے راستے کھل جاتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سامنے رکھا ہوا آئینہ اٹھائیں اور چند لمحوں کے لیے کسی دوسرے کا چہرہ نہیں، اپنا چہرہ دیکھیں۔ شاید ہمیں وہاں ایک ایسا معاشرہ نظر آئے جو مکمل طور پر بگڑا ہوا نہیں، مگر زخمی ضرور ہے؛ جو ختم نہیں ہوا، مگر تھکا ہوا ہے؛ جس میں اندھیرے بہت ہیں، مگر چراغ جلانے والے ہاتھ بھی موجود ہیں۔

بات صرف یہ ہے کہ چراغ جلانے کے لیے کسی دوسرے کے ہاتھ کا انتظار نہ کیا جائے۔

اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سوال بدلنا ہوگا کہ "معاشرہ کب بدلے گا؟" اور اس کی جگہ یہ پوچھنا ہوگا کہ "میں کب بدلوں گا؟" کیونکہ ہر شخص کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا آئینہ ہے اور ہر آئینہ ایک امکان بھی ہے۔ ہم چاہیں تو اسے دوسروں کے عیب دکھانے کے لیے استعمال کرتے رہیں اور چاہیں تو اسی میں اپنا چہرہ دیکھ کر اصلاح کا پہلا قدم اٹھا لیں۔

شاید معاشرے کا سب سے بڑا انقلاب یہی ہوگا کہ ہم آئینے توڑنا چھوڑ دیں اور ان میں دیکھنا شروع کر دیں۔