ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اعضاء کی شاعری ،تحریر: صغیرجعفری

نقطہ نظر
saghir h jafry

حضرت جوش ملیح آبادی نے رقص و سرود کو اعضاء کی شاعری یونہی بے وجہ نہیں کہا تھا۔گنگا جمنی اور لکھنئوی تہذیب میں طوائفوں میں فنون لطیفہ کی اصناف رقص و سرود کے ساتھ شعری سخن آرائی اپنے عروج پر تھی

۔۔۔۔۔

قدیم برِصغیر کی تہذیب میں طوائفیں محض رقاصائیں یا مغنیات نہیں تھیں، بلکہ وہ علم، ادب، تہذیب اور خاص طور پر اردو زبان و شاعری کی باقاعدہ پاسبان تھیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے لکھنؤ اور دہلی میں طوائفوں کا کوٹھا ایک ایسی درسگاہ مانا جاتا تھا جہاں شرافت، آدابِ گفتگو اور زبان کا صحیح تلفظ سیکھنے کے لیے امراء اپنے بچوں کو بھیجا کرتے تھے۔

اردو زبان و ادب اور شاعری میں ان کے ذوق اور مہارت کی تفصیلات ان اہم پہلوؤں اور زاویوں سے سمجھی جا سکتی ہیں:

1. شاعری کا اعلیٰ ذوق اور مہارت

قدیم طوائفیں نہ صرف اعلیٰ پائے کے شعراء جیسے میر، غالب، مومن مصحفی، اور امانت لکھنوی کے کلام کو سمجھنے اور گانے کی صلاحیت رکھتی تھیں، بلکہ ان میں سے اکثر خود صاحبِ دیوان شاعرات بھی تھیں۔ وہ غزل، نظم اور مثنوی و مرثیہ نگاری میں طبع آزمائی کرتی تھیں۔ ان کی شاعری میں ہجر و وصال کے روایتی مضامین کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے مخصوص سماجی حالات اور دلی جذبات کی حقیقی عکاسی ملتی تھی۔

2. نامور صاحبِ دیوان شاعرات

تاریخِ ادبِ اردو میں کئی ایسی شاعرات گزریں ہیں جن کا تعلق اس طبقے سے تھا اور انہوں نے اردو ادب کو گراں قدر سرمائے سے نوازا:

مہ لقا بائی چندا: یہ اردو تاریخ کی پہلی صاحبِ دیوان خاتون شاعرہ تھیں، جن کا تعلق دکن حیدرآباد سے تھا۔ ان کا دیوان باقاعدہ مرتب ہوا اور وہ اپنے دور کے بڑے شعرا سے داد وصول کرتی تھیں۔

بیگم جان حجاب : لکھنؤ کی ایک مشہور شاعرہ جن کا کلام زبان و بیان کی فصاحت کا بہترین نمونہ مانا جاتا ہے۔

زہرہ بائی لکھنوی اور انوری بیگم: انہوں نے غزل گوئی میں اپنا ایک الگ مقام بنایا اور ان کے پُرکشش اسلوب کو ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔

3. "ادبی محفلوں" اور "مشاعروں" کا انعقاد

طوائفوں کے کوٹھے اس دور کے اہم ترین ادبی مراکز تھے۔ وہاں باقاعدہ مشاعرے منعقد ہوتے تھے جہاں شہر کے نامور شعرا، ادباء اور دانشور جمع ہوتے تھے۔ ان محفلوں میں شعر و شاعری پر نقد و نظر ہوتی تھی، جس سے اردو زبان کے ارتقاء اور اس کی نوک پلک سنوارنے میں بہت مدد ملی۔

4. زبان کی فصاحت و بلاغت اور روزمرہ کا استعمال

دہلی اور لکھنؤ کی طوائفوں کی زبان کو "سند" مانا جاتا تھا۔ محاورات کا درست استعمال، الفاظ کا خوبصورت چناؤ اور گفتگو کا دلنشیں انداز ان کی پہچان تھا۔ نواب زادے اور امرا کے بچے وہاں صرف رقص دیکھنے نہیں، بلکہ "نشست و برخاست" اٹھنے بیٹھنے کے آداب اور اردو زبان کا خاص و خالص رچاؤ سیکھنے جاتے تھے۔ کیونکہ ان کی شاعری پختہ اور بحور و اوزان میں علم عروض کے میزان میں پوری اترتی تھی

5. موسیقی اور شاعری کا حسین امتزاج

اردو شاعری خاص طور پر غزل اور ٹھمری کو عوام و خواص تک پہنچانے میں ان خواتین نے سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ انہوں نے میر، سودا، اور بعد میں غالب و داغ کے کلام کو موسیقی کے سروں میں ڈھال کر اس طرح گایا کہ وہ شاعری امر ہو گئی۔ اگر یہ اساتذہ کے کلام کو اپنی آواز نہ دیتیں، تو شاید اردو شاعری کی مقبولیت کی رفتار اتنی تیز نہ ہوتی۔

6. تذکروں میں ذکر

اردو ادب کے قدیم تذکروں جیسے حکیم فصیح الدین رنج کا تذکرہ "بہارِستانِ ناز" میں ان شاعرات کا باقاعدہ تذکرہ ملتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور کے مرد نقادوں اور ادیبوں نے بھی ان کی ادبی مہارت اور شعری ذوق کا دل سے اعتراف کیا ہے

خلاصہ یہ کہ قدیم طوائفوں نے اردو زبان کو صرف بولا ہی نہیں بلکہ اسے ایک وقار، چاشنی اور ادبی نفاست دی، جس کے اثرات آج بھی کلاسیکی اردو ادب پر نمایاں ہیں

اختصار کے ساتھ مثال کے طور پر میں یہاں صرف دو شاعرات کے حسن کلام کا ذکر احباب ذوق و نظر کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں

ان دو شاعرات میں پہلے ذکر گوہر جان کا

اکبر الہ آبادی اور گوہر جان

120 سال پہلے متحده هندوستان کی مشہور مغنّیہ اور رقاصہ، گوہر جان کی تصویر، جن کو بھارت میں پہلی گراموفون ریکارڈنگ کرانے کا اعزاز حاصل ھے۔

....

1902ء کے لگ بھگ گوہر جان ایک مرتبہ الہ آباد گئیں‌ جہاں‌ وہ جانکی بائی کی مہمان بنیں۔ انہوں‌ نے اپنی میزبان سے کہا کہ وہ خان بہادر سید اکبر حسین اکبر الٰہ آبادی سے ملنا چاہتی ہیں۔ میزبان انھیں‌ لے کر دوسرے ہی دن اکبر کے ہاں پہنچ گئیں، تعارف کرواتے ہوئے جانکی بائی نے کہا کہ یہ کلکتہ کی مشہور مغنیہ گوہر جان ہیں، انہیں آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا۔اور اب زیادہ ہے

اکبر نے کہا، ’’زہے نصیب، ورنہ نہ میں امام، نہ غوث، نہ قطب اور نہ کوئی ولی جو قابلِ زیارت خیال کیا جاؤں، پہلے جج تھا، اب ریٹائر ہو کر صرف اکبر رہ گیا ہوں، حیراں ہوں کہ آپ کی خدمت میں‌ کیا تحفہ پیش کروں‌۔‘‘

گوہر نے کہا، ’’ کوئی شعر لکھ دیجئے کہ سند رہے یادگار کے طور پر گلے کا تعویذ بنا کر رکھوں گی ۔‘‘ اکبر نے ایک کاغذ لیا اور شعر لکھ کر گوہر جان کی طرف بڑھا دیا۔ شعر یہ تھا:

خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

*گوہر نے بڑے ادب سے فی البدیہ، دوسرے شعر کی شکل میں وہیں سے تسلسل جاری رکھا تو اکبر دم بخود رہ گئے، اس نے برجستہ کچھ یوں کہا:

یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر

ہاں پسند اس کو نہیں ایک بھی اکبر کے سوا

اکبر الہ آبادی اس برمحل و موقع جوابی شعر پر عش عش کر اٹھے، اور کافی دیر تک بے ساختہ داد دیتے رہے

اب آئیے دوسری باذوق سخن فہم و سخن شناس طوائف طلسمِ ربا کی طرف

جگر مرادآبادی مستی کے عالم میں کئی کئی مہینوں گھر سے باھر رھتے تھے۔ ایک دن جو بے قراری بڑھی تو اُن کے قدم ایک طوائف کے گھر پہنچ گئے ۔

اُس کا نام روشن آرا (فاطمہ) تھا۔ حسین، شوخ و چنچل، چہرہ شناس سخن فہم

“حضور کی تعریف؟ ” اُس نے پوچھا۔

جگر آنکھیں جُھکائے اُس کے سامنے کھڑ ے تھے۔

شاید نگاہ بھر کے اُسے دیکھا تک نہیں تھا۔ جواب

میں یہ شعر پڑھ دیا

سراپا آرزو ھوں ،،،، درد ھوں ،،،،، داغِ تمنا ھوں

مجھے دنیا سے کیا مطلب کہ میں آپ اپنی دنیا ھوں

جواب میں روشن آرا نے جگر مرادآبادی کا ہی یہ شعر پڑھ دیا اسے کیا خبر کہ وہ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

کبھی کیفِ مجسم ھوں، کبھی شوقِ سراپا ھوں

خدا جانے کس کا درد ھوں ،،، کس کی تمنا ھوں جگر حیران رہ گئے

“سبحان اللہ ” طوائف کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

عاشق معلوم ھوتے ھیں۔

جگر نے پھر ایک شعر پڑھ دیا.

۔ُمجھی میں عشق کا عالم، مجھی میں عشق کی دنیا

نثار اپنے پہ ھو جاؤں اگر سو بار پیدا ھوں“

حضور اس غریب خانے کو کیسے رونق بخشی؟

”کچھ ھمہی جانتے ھیں لطف تر ے کوچے کاورنہ

پھرنے کو تو مخلوقِ خدا پھرتی ھے

اس شعر کا سُننا تھا کہ روشن آرا پھڑک گئی،

طوائف تھی، چہرہ شناس تھی، سُخن گو سخن فہم تھی۔

بار بار اس شعر کو پڑھتی تھی اور داد دیتی تھی۔

“میں اب تک کیوں آپ سے محروم رھی؟ کیا آپ اس شہر کے نہیں ھیں؟ ھیں تو یہاں کب سے ھیں؟ اور

اب تک یہاں کیوں نہیں آئے؟ ”

جگر یہ کہتے ھوئے اُس کے سامنے بیٹھ گئے۔

نہ پوچھ دھر میں کب سے میں اس طرح خانہ خراب ھوں

جو نہ مٹ سکا وہ طلسم ھوں، جو نہ اُٹھ سکا وہ حجاب ھوں”

دیکھئے میں پاگل ھوجاؤں گی۔ اللہ کے واسطے آپ

اپنا نام تو بتائیے آپ ھیں کون ؟

”دیکھا تھا کل جگر کو سرِ راہِ میکدہ

اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چُور تھا

وہ پھر بھی نہیں سمجھی۔

وہ یہ سمجھی کہ وہ یہاں

کہاں آئیں گے، کوئی اورجگر ھوگا۔اسی وقت ایک

مہمان اور آ گیا۔ یہ جگر کا واقف کارتھا۔ دن کا

وقت تھا اس لیے محفل گرم نہیں ھوئی تھی۔

” جگر صاحب مجھے کسی نے بتایا کہ آپ یہاں آئے ھیں۔”

پھر وہ شخص روشن آرا سے مخاطب ہوا۔

” آپ واقف ھیں ان سے؟ مشہور شاعر جگر مرادابادی ھیں۔”

“آؤ بھئی چلیں میں نے بہت زحمت دے لی انہیں”

جگر نے کہا۔

“ایسے تو نہیں جانے دوں گی۔” روشن آرا نے جگر

کا ہاتھ تھام لیا۔ ” یہ طوائف کا کوٹھا ھے یہاں وہ آتا

ھے جس کی جیب میں مال ھوتا ھے۔”

جگر نے شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جتنے

نوٹ ہاتھ میں آئے اُس کے سامنے رکھ دئیے۔

” نہیں حضور قیمت تو گاھک کی حیثیت دیکھ کر

طے ھوتی ھے۔ ایسے نوٹ تو مجھے کوئی بھی جاھل سیٹھ د ے سکتا ھے۔ آپ تو مجھےغزل سُنائیں۔”

” شعر سمجھتی ھیں؟ ”

“حضور پہلے سمجھتی ھوں پھر گاتی ھوں۔ ”

ابھی روشن آرا کا جملہ ختم نہیں ھوا تھا کہ جگر کی پُرسوز آواز نے دن کو قیامت کا دن بنا دیا۔

کیا چیز تھی، کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی

اف کر کے وھیں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ درد جگر بھی

کیا دیکھیں گے ھم جلوہ محبوب کہ ھم سے

دیکھی نہ گئی ۔۔۔۔۔۔ دیکھنے والے کی نظر بھی

واعظ نہ ڈرا مجھ کو ۔۔۔۔۔۔ قیامت کی سحر سے

دیکھی ھے ان آنکھوں نے قیامت کی سحر بھی

اس دل کے تصدق ۔۔۔۔۔۔ جو محبت سے بھرا ھو

اس درد کے صدقے جو اِدھر بھی ھو اُدھر بھی

ھے فیصلۂ عشق جو منظور تو اٹھیئے !!!!!

اغیار بھی موجود ھیں حاضر ھے جگر بھی..

ان اشعارکوسنتے ہی روشن .آرا مستی میں جھوم کر جگر کا یہ پڑھتے پڑھتے رقص نیم بسمل ہو گئی

واعظ نہ ڈرا مجھ کو قیامت کی سحر سے

دیکھی ہے ان آنکھوں نے قیامت کی سحر بھی