Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ادب کے آنگن، نئے چراغوں کی گنجائش؟ تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

ادب محض الفاظ کو خوب صورت ترتیب دینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی رویہ، ایک فکری ذمہ داری اور معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش بھی ہے۔ ادیب اپنے قلم سے انسانی رویوں اور معاشرتی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو شخص دوسروں کے رویوں کا احتساب کرتا ہے، کیا اسے کبھی اپنے رویے کا جائزہ نہیں لینا چاہیے؟

ہمارے معاشرے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض ادبی حلقوں میں نئے لکھنے والوں کے لیے جگہ بنانا آسان نہیں۔ ہر نئے قلم کار سے فوراً بڑے ادیب کا درجہ دینے کی توقع نہیں مگر اسے پڑھنے، سننے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ضرور ملنا چاہیے۔ آخر وہ کسی کی جگہ چھیننے نہیں آتا، اپنی آواز تلاش کرنے آتا ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی نئے لکھنے والے کی پیش رفت کو خوش دلی سے قبول کرنے کے بجائے اسے ذاتی پسند و ناپسند گروہی وابستگی یا غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے۔ کبھی اس کی تحریر نظرانداز ہوتی ہے کبھی اس کی صلاحیت کو کم تر دکھایا جاتا ہے اور کبھی اس کی کامیابی کو محض تعلقات کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

شاید اس کے پیچھے صرف ادبی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی مزاج کا ایک پہلو بھی ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی کامیابی کو اپنی کامیابی کے بجائے اپنے مقام سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہی رویہ جب ادب میں داخل ہوتا ہے تو صحت مند مسابقت، ذاتی پسند و ناپسند میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔

حالاں کہ ادب میں کسی ایک کے آگے بڑھنے سے دوسرے کا مقام کم نہیں ہوتا۔ ایک نیا قلم کسی پرانے قلم کی روشنی نہیں چھینتا۔ ادب کا میدان وسیع ہے اور اس میں مختلف آوازوں کے لیے گنجائش ہونی چاہیے۔

یہاں تنقید اور حوصلہ شکنی کے فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایک سینئر ادیب اگر کسی نئے لکھنے والے کی خامی کی نشاندہی اصلاح کے جذبے سے کرے تو یہ اس کے لیے قیمتی رہنمائی ہے۔ لیکن تنقید اگر کسی کی ذات یا راستہ روکنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ ادبی روایت کی روح سے دور ہو جاتی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایسے اہلِ قلم بھی موجود ہیں جو نئی نسل کی رہنمائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ وہ نئے لکھنے والوں کو مواقع دیتے ہیں، ان کی اصلاح کرتے ہیں اور ان کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں۔ یہی رویہ ادب کو نسل در نسل زندہ رکھتا ہے۔

نئے لکھنے والوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صرف مواقع کی خواہش نہ کریں بلکہ مطالعے، محنت، صبر اور مسلسل سیکھنے کو اپنا سرمایہ بنائیں۔ ادب میں مقام کسی ایک محفل یا اعزاز سے نہیں، وقت اور تخلیقی سفر سے بنتا ہے۔

آخرکار، آج کا نیا لکھنے والا کل کا سینئر ادیب ہو سکتا ہے۔ اگر ہر نسل اپنے بعد آنے والوں کے لیے دروازے بند کرتی رہی تو ادب کا سفر کیسے آگے بڑھے گا؟

ایک ادیب کی اصل پہچان صرف اس کی کتابیں اور اعزازات نہیں، اس کا رویہ بھی ہے۔ اگر ہم ادب میں شعور، برداشت اور انسان دوستی کی بات کرتے ہیں تو ان اقدار کو اپنے عمل میں بھی جگہ دینا ہوگی۔

نئے چراغوں کے جلنے سے پرانے چراغوں کی روشنی کم نہیں ہوتی، آنگن روشن ہوتا ہے۔

شاید ادب کی خوب صورتی بھی اسی میں ہے کہ یہاں ہر اچھی آواز کو سننے کی گنجائش ہو، ہر نئے چراغ کو جلنے کا موقع ملے اور کسی کی روشنی کسی دوسرے کے لیے اندھیرا نہ بنے۔