عداوت رہی نہ اسے نہ مجھے،عارف پرویز نقیب
نقطہ نظر
مصنف:
عداوت رہی نہ اسے نہ مجھے
یہ مشکل پڑی نہ اسے نہ مجھے
ملی عمر جس کا تقاضا نہ تھا
ملی زندگی نہ اسے نہ مجھے
لو اک دوسرے کی کسی موڑ پر
ضرورت رہی نہ اسے نہ مجھے
الگ ہو گئے راستے اس طرح
کہ منزل ملی نہ اسے نہ مجھے
نہ اک دوسرے سے وفا کر سکے
ہے شرمندگی نہ اسے نہ مجھے
نہ ملنے پہ جو تھی زمانے لدے
وہ اک بے کلی نہ اسے نہ مجھے
بچھڑنا ضروری تھا چاہت نقیب
کہ راس آ سکی نہ اسے نہ مجھے
(عارف پرویز نقیب ۔ کراچی)
مزید پڑھیں





