ادھوری محبت بھی روگ ہوتی ہے ،شاعرہ: شمسہ رانی
نقطہ نظر
مصنف:
ادھوری محبت بھی روگ ہوتی ہے
ادھوری محبت بھی روگ ہوتی ہے
یہ دل کی خاموشی میں سوگ ہوتی ہے
نہ زخم دکھاتی نہ اواز دیتی یہ خاموش رہ کر بھی دل کو کھوتی ہے
کبھی یاد بن کر راتوں میں جاگے
کبھی خواب بن کر پلکوں پہ سوتی ہے
نہ ملنے کی حسرت نہ بھولنے کی ہمت
یہ کیسی سزا ہے جو دل کو ہوتی ہے
جو مل نہ سکے وہی خاص لگے
جو دور رہے وہی پاس لگے ادھوری محبت کی یہی کہانی
لبوں پہ ہنسی دل میں ویرانی
یہ زخم بھی میٹھا یہ درد بھی پیارا
جیسے چاند اکیلا ہو رات کا سہارا
وہ شخص اگرچہ بہت دور جا بیٹھا ہے
مگر اس کی خوشبو سانسوں میں ہوتی ہے ادھوری محبت کا حاصل یہی ہے
یہ جیتے جی انسان کو کھوتی ہے
ادھوری محبت بھی روگ ہوتی ہے
مگر سچی ہو تو بہت خوب ہوتی ہے
مزید پڑھیں




