پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

چھاتی کے سرطان کی اہم وجہ شرم و حیا ،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

آج کل چھاتی کا سرطان خواتین کی صحت کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ پہلے بہت سے لوگ اسے صرف بڑی عمر کی خواتین کی بیماری سمجھتے تھے، لیکن اب نوجوان خواتین میں بھی اس کی تشخیص ہو رہی ہے۔ یہ صورتِ حال ہمیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ بیماری کی علامات سے آگاہی اور بروقت طبی معائنہ کتنا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شرم و حیا اور جھجک بعض اوقات اس آگاہی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔


ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بچپن ہی سے حیا اور پردے کی تعلیم دی جاتی ہے، جو اپنی جگہ اہم ہے، لیکن بعض گھروں میں جسمانی صحت سے متعلق بات کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی لڑکی کو اپنے جسم میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہوتی ہے تو وہ اسے بیان کرنے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں گھر والے اس کی بات کو غلط نہ سمجھیں یا اسے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


میں نے اپنے اردگرد ایسے حالات دیکھے ہیں جنہوں نے مجھے اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔ ایک نوجوان لڑکی کو اپنی چھاتی میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہوئی، مگر وہ شرم و حیا کی وجہ سے اپنے گھر والوں کو بتانے کی ہمت نہ کر سکی۔ وہ مسلسل اس امید پر خاموش رہی کہ شاید یہ معمولی مسئلہ ہو اور وقت کے ساتھ خود ہی ٹھیک ہو جائے۔ دن گزرتے رہے، مگر اس نے کسی سے بات نہیں کی۔ جب تکلیف بڑھی اور بالآخر اس نے گھر والوں کو بتایا تو طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ اسے چھاتی کا سرطان ہے۔ تب تک تشخیص میں خاصی تاخیر ہو چکی تھی۔ اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر وہ لڑکی بروقت اپنی تکلیف بیان کر دیتی تو شاید بیماری کی تشخیص پہلے ہو سکتی تھی۔


یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنی بیماری کے بارے میں بتانا بے حیائی ہے؟ کیا اپنی صحت کی حفاظت کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے؟ یقیناً نہیں! حیا انسان کے کردار کی خوب صورتی ہے، لیکن ایسی خاموشی جو انسان کو طبی مدد حاصل کرنے سے روک دے، نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔


چھاتی میں گلٹی، غیر معمولی سوجن، جلد کی ساخت میں تبدیلی یا نپل سے غیر معمولی رطوبت جیسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر تبدیلی سرطان کی علامت ہو، لیکن اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چھاتی کا سرطان ابتدائی مرحلے میں بعض اوقات بغیر درد کے بھی موجود ہو سکتا ہے، اس لیے درد نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی تبدیلی کو نظر انداز کر دیا جائے۔


گھر کے ماحول کا بھی اس معاملے میں اہم کردار ہے۔ اگر ماں اور بیٹی کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہو تو بیٹی اپنی پریشانی آسانی سے بیان کر سکتی ہے، لیکن جہاں ہر بات پر ڈانٹ، خوف یا شرمندگی کا سامنا ہو، وہاں لڑکیاں اپنی تکلیف چھپانے لگتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹیوں کے لیے ایسا ماحول بنائیں جہاں وہ اپنی صحت سے متعلق ہر ضروری بات بلاخوف بیان کر سکیں۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی بات سنی جائے گی، انہیں سمجھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مناسب طبی مدد فراہم کی جائے گی۔


تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آگاہی سیمینارز اور معلوماتی مہمات کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کو بتایا جائے کہ جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو کیسے پہچاننا ہے اور کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ایسی گفتگو باوقار اور مناسب انداز میں کی جا سکتی ہے، تاکہ لڑکیاں جھجک کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنی صحت کے بارے میں بات کرنا سیکھیں۔


یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ چھاتی کا سرطان صرف شرم و حیا کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس کے خطرے میں عمر، خاندانی تاریخ، جینیاتی عوامل اور دیگر طبی وجوہات بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم، علامات کو چھپانا اور طبی معائنے میں تاخیر کرنا تشخیص کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو صرف خاموش رہنا نہیں بلکہ اپنے حقوق اور صحت کے بارے میں باشعور ہونا بھی سکھائیں۔ انہیں سمجھائیں کہ اپنی تکلیف بیان کرنا بے حیائی نہیں اور بروقت طبی مدد حاصل کرنا کمزوری نہیں، بلکہ سمجھ داری ہے۔


یاد رکھیے! شرم و حیا ہماری پہچان ضرور ہے، مگر اسے اپنی صحت کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ ہماری ایک بروقت بات، ایک درست فیصلہ اور ایک قدم کسی کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔