ایک یتیم کی خاموش موت اور ریاست کے ضمیر پر دستک،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظرکیا اس معاشرے میں کمزور بچے کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں؟

کیا کسی بچے کی موت صرف ایک خبر ہوتی ہے؟ کیا چودہ برس کی عمر میں بجھ جانے والا چراغ چند آنسوؤں، چند تعزیتی جملوں اور چند روزہ شور کے بعد بھلا دیا جانا چاہیے؟ اور کیا ایک یتیم کی زندگی اس قدر بے وقعت ہے کہ اس کے خوابوں کے ساتھ اس کے سوال بھی مٹی میں دفن کر دیے جائیں؟
ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں ایک کم عمر بچے کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کے مبینہ واقعے نے میرے دل میں ایسے سوالات جگا دیے ہیں جن سے نظریں چرانا شاید آسان ہو مگر ضمیر کے کٹہرے میں ان سے بچنا ممکن نہیں۔ اطلاعات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم واقعے کی حقیقت اور ذمہ داری کا تعین شفاف تفتیش اور قانونی کارروائی ہی سے ہونا چاہیے مگر کیا تفتیش کے انتظار میں ہم اس بنیادی سوال کو بھی بھول جائیں کہ آخر ایک بچہ کن حالات میں زندگی گزار رہا تھا؟
چودہ برس! یہ عمر تو کتابوں کے ورق پلٹنے، تتلیوں کے پیچھے بھاگنے، خوابوں کے رنگ چننے اور مستقبل کی روشن تصویریں بنانے کی ہوتی ہے۔ یہ عمر مزدوری کی تلخیوں، خوف کی زنجیروں اور بے بسی کے اندھیروں میں گم ہونے کے لیے تو نہیں ہوتی۔ جس ہاتھ میں قلم ہونا چاہیے، اگر وہاں مجبوری کی لکیر کھنچ جائے، جس آنکھ میں خواب سجنے چاہییں، اگر وہاں خوف اتر آئے، تو کیا یہ صرف اس بچے کی بدقسمتی ہے یا ہمارے اجتماعی نظام کی ناکامی بھی؟
اور اگر وہ بچہ یتیم تھا تو کیا اس کا کوئی والی وارث نہیں تھا؟ کیا والدین کے سائے سے محروم ہونے کے بعد ریاست کی ذمہ داری بھی ختم ہو جاتی ہے؟ کیا یتیم کا دکھ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب کسی تقریر میں ہمدردی کے الفاظ درکار ہوں، کسی تصویر کے لیے سر پر ہاتھ رکھنا ہو، یا کسی سانحے پر تعزیتی بیان جاری کرنا ہو؟ پھر اس کی روزمرہ زندگی، اس کی تعلیم، اس کی عزت اور اس کی حفاظت کی فکر کون کرے گا؟
ذرا سوچیے! اگر کوئی بچہ کسی جگہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، وہاں سے نکلنا چاہے، اپنی جان یا عزت بچانے کے لیے بھاگے، تو کیا اس کا حق نہیں کہ اسے محفوظ راستہ ملے؟ کیا کمزوری کسی دوسرے کو یہ اختیار دے دیتی ہے کہ وہ اس کی زندگی کے فیصلے اپنی مرضی سے کرے؟ اور اگر کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہو تو وہ کس دروازے پر دستک دے، کس سے فریاد کرے، کس سے کہے کہ میرے پاس دولت نہیں، سفارش نہیں، مگر مجھے بھی جینے کا حق ہے؟
ریاست آخر کس لیے ہوتی ہے؟ کیا اس کا وجود صرف سڑکیں، عمارتیں اور ترقیاتی منصوبے تعمیر کرنے کے لیے ہے، یا اس کی اصل عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنے سب سے کمزور شہری کو تحفظ فراہم کرتی ہے؟ آئینِ پاکستان زندگی، انسانی وقار، مساوات اور بچوں کی تعلیم کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ پھر ان حقوق کی روشنی ان بچوں تک کیوں نہیں پہنچتی جن کے سروں پر شفقت کا سایہ نہیں؟ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو انصاف کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے کسی بچے کو بااثر خاندان کا فرد ہونا کیوں ضروری محسوس ہو؟
کیا ہمارے متعلقہ ادارے صرف حادثے کے بعد جاگنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں؟ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو، محکمۂ سوشل ویلفیئر، محکمۂ محنت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے سوال ہے کہ بچوں کو خطرات سے بچانے کے لیے نگرانی کا مؤثر نظام کہاں ہے؟ کیا یتیم اور بے سہارا بچوں کی رہائش گاہوں، تربیتی مراکز اور کام کی جگہوں کا باقاعدہ جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے؟ کیا ہر بچے کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ خطرے کی صورت میں وہ کہاں جائے، کس کو اطلاع دے اور کون اسے فوری تحفظ فراہم کرے؟
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یتیم کی کفالت محض چند روپے، ایک وقت کے کھانے یا عید کے لباس کا نام نہیں؟ اس کی عزت بچانا، اسے خوف سے آزاد ماحول دینا، تعلیم فراہم کرنا اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع دینا بھی تو ہماری ذمہ داری ہے۔ قرآنِ مجید یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے، پھر ہمارے کردار میں اس تعلیم کی جھلک کیوں کم دکھائی دیتی ہے؟ کیا ہمدردی صرف الفاظ میں اچھی لگتی ہے، عمل میں نہیں؟
بحیثیت پاکستانی شہری میرا مطالبہ ہے کہ ملتان کے اس واقعے کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تمام شواہد محفوظ کیے جائیں اور کسی دباؤ کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ اگر کسی کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت ہو تو اسے سزا ملے مگر کسی کے خلاف فیصلہ حقائق اور قانونی تقاضوں سے پہلے نہ سنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کے نظام کا جائزہ لیا جائے، شکایات کے مؤثر ذرائع قائم کیے جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کو جواب دہ بنایا جائے۔ آخر ایسا کیوں ہو کہ کسی بچے کی آواز سننے کے لیے پہلے اس کی زندگی کا چراغ بجھنا ضروری ہو؟
حکمرانوں سے بھی سوال ہے: کیا کسی قوم کی کامیابی کا اندازہ صرف بلند عمارتوں اور بڑے منصوبوں سے لگایا جا سکتا ہے؟ کیا اصل ترقی یہ نہیں کہ اس کا سب سے محروم طبقہ بھی خود کو محفوظ سمجھے؟ کیا ریاست کا فرض نہیں کہ وہ ان بچوں کے لیے ماں کی ممتا اور باپ کے سائے کا متبادل تو نہیں، مگر تحفظ، انصاف اور بہتر مستقبل کی ضمانت ضرور بنے؟
اور ہم، جو خود کو مہذب معاشرہ کہتے ہیں، کیا ہم بھی بری الذمہ ہیں؟ اگر یہ بچہ ہمارے گھر کا چراغ ہوتا تو کیا ہم چند دن کے شور کے بعد خاموش ہو جاتے؟ کیا ہمارے سوال بھی وقت کے ساتھ دفن ہو جاتے؟ پھر کسی دوسرے کے بچے کے لیے ہمارے دل میں وہی درد کیوں پیدا نہیں ہوتا؟ کیا انسانیت کا رشتہ صرف خون سے قائم ہوتا ہے، یا کسی معصوم کی آنکھ میں اترتا خوف بھی ہمیں اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتا ہے؟
یاد رکھیے، کسی یتیم بچے کو تحفظ دینا احسان نہیں، اس کا حق ہے؛ تعلیم دینا خیرات نہیں، اس کا مستقبل ہے؛ اور اسے ظلم و خوف سے بچانا محض اخلاقی نصیحت نہیں، ایک اجتماعی اور ریاستی ذمہ داری ہے۔
آخر کب تک ہم بچوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر تحفظ کے وعدے کرتے رہیں گے؟ کب تک کسی سانحے کے بعد ہمارے ضمیر جاگیں گے اور پھر مفادات کی نیند سو جائیں گے؟ اگر ایک بے سہارا بچے کی زندگی بھی ہمارے نظام کو جواب دہ نہ بنا سکے تو پھر انصاف، انسانیت اور ریاستِ مدینہ جیسے دعوؤں کی معنویت کیا رہ جاتی ہے؟
شاید اس بچے کی خاموشی اب کبھی آواز نہ بن سکے مگر کیا ہم اس خاموشی کو سن سکتے ہیں؟ کیا ہم آج یہ عہد کر سکتے ہیں کہ کسی دوسرے بچے کی فریاد بے آواز نہیں رہے گی؟ کیونکہ جس معاشرے میں یتیم کا آنسو بے قیمت ہو جائے، وہاں صرف ایک بچہ نہیں مرتا، انسانیت بھی اپنا ایک حصہ کھو دیتی ہے۔




