جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک زندہ انسان کی موت، تحریر:انیم چوہدری

نقطہ نظر

‎‎صبح کے نو بجے تھے۔ سرکاری دفتر کے باہر لوگوں کی ایک لمبی قطار لگی تھی۔ کسی کے ہاتھ میں درخواست تھی، کسی کے پاس پرانی فائل، اور کسی کی آنکھوں میں برسوں سے رکی ہوئی امید۔
‎
‎دروازے پر ایک تختی نصب تھی:
‎
‎’’عوام کی خدمت ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘
‎
‎تختی کے نیچے ایک بوڑھا آدمی زمین پر بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں نیلے رنگ کی ایک فائل تھی، جس کے کنارے وقت کی گرد سے سیاہ ہو چکے تھے۔ اس فائل پر درج نمبر تھا: 786۔ اس آدمی کا نام رحمت علی تھا۔ وہ ایک مزدور تھا، جس کی. زندگی اینٹیں اٹھاتے اور پسینے میں بھیگتے گزری تھی آج وہ اسی سرکاری عمارت کے باہر بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کے مرحوم بیٹے نے مزدوری کرتے ہوئے اپنی جان گنوائی تھی۔چھ ماہ پہلے اس کا بیٹا ایک زیرِ تعمیر سرکاری عمارت سے گر کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ پیچھے بیوہ، دو بچے اور ایک بوڑھا باپ رہ گئے تھے۔ حکومت کی طرف سے معاوضے کا وعدہ کیا گیا، درخواست جمع ہوئی، کاغذات مکمل ہوئے، مگر معاوضہ نہ ملا رحمت علی کے لیے وہ رقم دولت نہیں تھی؛ اس کے پوتے کی تعلیم، گھر کے راشن اور بہو کی بے بسی کا واحد سہارا تھی۔ ’’صاحب! میری درخواست کا کیا بنا؟‘‘ رحمت علی کاؤنٹر کے قریب کھڑا کلرک سے پوچھ رہا تھا۔کلرک نے فائل کھولی، چند صفحات الٹے پلٹے اور بیزاری سے بولا، ’’آپ کے کاغذات نامکمل ہیں۔‘‘رحمت علی گھبرا گیا۔ ’’صاحب! میں تو ہر وہ کاغذ لایا ہوں جو آپ نے کہا تھا۔ موت کا سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ، پولیس رپورٹ، سب کچھ موجود ہے۔‘‘
‎
‎’’حادثے کی جگہ کی تصدیق نہیں ہے۔‘‘
‎
‎’’صاحب! حادثہ اسی عمارت میں ہوا تھا جہاں حکومت کا کام ہو رہا تھا۔ اخبار میں خبر بھی چھپی تھی۔‘‘ کلرک نے فائل بند کر دی۔ ’’اگلے ہفتے آ جانا۔‘‘ رحمت علی کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر دھیمی آواز میں بولا، ’’صاحب! اگلے ہفتے تک میرے گھر میں چولہا کیسے جلے گا؟‘‘ کلرک نے دوسری فائل اٹھا لی۔ ’’بابا جی، یہاں سب کے مسئلے ہیں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔‘‘ رحمت علی خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔ اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید اس دفتر میں اس کی سب سے بڑی غلطی غریب ہونا تھی۔ اگلے ہفتے وہ پھر آیا۔ اس بار متعلقہ افسر اجلاس میں تھا۔ تیسرے ہفتے بتایا گیا کہ فائل دوسرے محکمے کو بھیج دی گئی ہے۔ چوتھے ہفتے افسر کا تبادلہ ہو گیا، اور پانچویں ہفتے نئے افسر نے کہا:
‎’’یہ کیس میرے آنے سے پہلے کا ہے۔ پہلے مکمل ریکارڈ منگوائیں۔‘‘ رحمت علی نے پوچھا، ’’صاحب! ریکارڈ کہاں سے آئے گا؟‘‘ ’’متعلقہ شعبے سے رابطہ کریں۔‘‘ وہ باہر نکلا تو راہداری میں ایک نوجوان نے اسے مشورہ دیا، ’’بابا جی! کسی بڑے آدمی کی سفارش لے آئیں۔ یہاں اصولوں سے زیادہ تعلقات چلتے ہیں۔‘‘ رحمت علی نے حیرت سے پوچھا، ’’بیٹا! اپنے ہی ملک میں اپنے بیٹے کے حق کے لیے بھی کسی بڑے آدمی کو جاننا ضروری ہے؟‘‘
‎نوجوان خاموش ہو گیا۔ رحمت علی کی نظر سامنے لگی تختی پر پڑی: ’’عوام کی خدمت ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘ اس نے دل میں سوچا، شاید اس جملے میں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں دفتر کے اندر جانے کی اجازت ملتی ہے۔ گھر میں حالات بدتر ہو رہے تھے۔ ایک رات اس کی بہو نے بچوں کو خشک روٹی کھاتے دیکھا تو خاموشی سے آنسو پونچھ لیے۔ رحمت علی نے پوچھا، ’’بیٹی! سالن نہیں بنایا؟‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا، ’’ابا جی! طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ کل بنا لوں گی۔‘‘ رحمت علی سمجھ گیا کہ مسئلہ طبیعت کا نہیں، خالی برتنوں کا ہے۔ اگلی صبح اس نے اپنی پرانی گھڑی فروخت کر دی۔ وہی گھڑی جو اس کے بیٹے نے پہلی تنخواہ سے خرید کر دی تھی۔ جب پوتے نے پوچھا، ’’دادا جان! آپ کی گھڑی کہاں ہے؟‘‘ تو اس نے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، ’’بیٹا! وقت تو ویسے بھی گزر جاتا ہے۔‘‘
‎اس کی آواز میں چھپا درد صرف وہ خود سمجھ سکتا تھا۔ چند روز بعد پوتے نے اسکول سے واپس آ کر بتایا کہ فیس جمع نہ ہونے کے باعث استاد نے اسے کلاس سے باہر بٹھا دیا تھا۔ رحمت علی نے اسے سینے سے لگا لیا۔ ’’تم پڑھو گے، بیٹا! تم ضرور پڑھو گے۔‘‘یہ وعدہ کرتے ہوئے اسے معلوم تھا کہ اس کے پاس فیس کے پیسے نہیں، مگر امید ابھی باقی تھی۔ ایک دن سرکاری دفتر میں غیر معمولی رونق تھی۔ ایک بڑے عہدے دار کا دورہ تھا۔ فرش صاف کیے گئے، دیواروں پر نئی تختیاں لگیں اور ملازمین اپنی نشستوں پر مستعد دکھائی دینے لگے۔عہدے دار نے مائیک پر اعلان کیا: ’’ہماری حکومت غریبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ کسی شہری کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔‘‘ تالیاں بجیں۔ کیمرے چمکے۔ رحمت علی آگے بڑھا۔ ’’صاحب! میرا بیٹا اسی سرکاری منصوبے پر جان سے گیا تھا۔ چھ ماہ سے معاوضے کے لیے چکر لگا رہا ہوں۔ میری بات سن لیجیے۔‘‘ ایک اہلکار نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کر دیا۔ ’’بابا! ابھی پروگرام چل رہا ہے۔‘‘
‎’’بیٹا، میں بھی تو عوام ہوں!‘‘ مگر اس کی آواز نعروں اور تالیوں میں دب گئی۔ چند منٹ بعد عہدے دار کا قافلہ روانہ ہو گیا۔ کیمرے بند ہو گئے، مائیک سمیٹ لیے گئے اور دفتر دوبارہ اپنی پرانی رفتار پر آ گیا۔ رحمت علی اسی بینچ پر بیٹھا رہا۔ اس کی مٹھی میں فائل دبی ہوئی تھی اور آنکھوں میں ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب کسی تقریر میں موجود نہیں تھا۔ سردیوں کی ایک صبح رحمت علی دفتر نہ آیا۔
‎اگلے دن بھی اس کی جگہ خالی رہی۔ تیسرے دن ایک نوجوان کاؤنٹر پر پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں وہی نیلی فائل تھی۔ ’’صاحب! یہ میرے دادا کی درخواست ہے۔ وہ اب دنیا میں نہیں رہے۔‘‘ کلرک نے چونک کر پوچھا، ’’کیا ہوا تھا؟‘‘ نوجوان نے نظریں جھکا لیں۔ ’’بیمار ہو گئے تھے۔ علاج کے پیسے نہیں تھے۔ آخری دن تک کہتے رہے کہ معاوضہ آ جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
‎کلرک نے فائل کھولی۔ تمام کاغذات مکمل تھے۔ کسی تصدیق کی کمی نہیں تھی، کسی دستخط کا انتظار نہیں تھا۔ ایک صفحے پر رحمت علی کی کانپتی ہوئی تحریر درج تھی: ’’میرے پوتے کی تعلیم اور گھر کے اخراجات کے لیے جلد از جلد معاوضہ ادا کیا جائے۔‘‘
‎کلرک نے پوچھا، ’’آپ کے دادا کہاں دفن ہیں؟‘‘ نوجوان نے جواب دیا، ’’قبرستان میں، صاحب! وہاں کسی سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘
‎یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ کلرک کافی دیر تک فائل کو دیکھتا رہا۔ دو ہفتے بعد معاوضے کی منظوری دے دی گئی۔ چند دستخط ہوئے، مہر لگی اور سرکاری ریکارڈ میں مقدمہ حل شدہ قرار دے دیا گیا۔
‎دفتر کے نوٹس بورڈ پر نئی رپورٹ آویزاں ہوئی:
‎’’زیرِ التوا عوامی شکایات میں نمایاں کمی۔‘‘ فائل نمبر 786 ریکارڈ روم میں محفوظ کر دی گئی۔ اس پر سرخ روشنائی سے لکھا تھا:
‎
‎’’نمٹا دیا گیا۔‘‘
‎
‎لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ رحمت علی کے پوتے نے اسکول چھوڑ دیا تھا یا نہیں، اس کی بہو کو روزگار ملا یا نہیں، اور اس گھر میں اب رات کو چولہا جلتا بھی تھا یا نہیں۔ ایک بوڑھے کی زندگی ختم ہو چکی تھی، مگر سرکاری کاغذوں میں مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ برسوں بعد اسی دفتر میں ایک نیا افسر تعینات ہوا۔ وہ ریکارڈ کا معائنہ کر رہا تھا کہ اس کی نظر نیلی فائل پر پڑی۔ اس نے اسے کھولا، چند صفحات پڑھے اور ماتحت سے کہا:’’آئندہ کسی غریب کا کام اتنی دیر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ اسی وقت دروازے پر ایک اور بوڑھا آدمی نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست تھی، کپڑے پرانے تھے اور چہرے پر تھکن۔ ’’صاحب! میرا ایک مسئلہ ہے۔‘‘ افسر نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ دفتر بند ہونے میں چند منٹ باقی تھے۔وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا:’’جی، بتائیے۔‘‘شاید اس روز ایک فائل کا انجام مختلف ہونے والا تھا۔
‎کیونکہ حکومتیں بدلنے سے پہلے اگر نظام بدل جائے، تو کسی غریب کو اپنے حق کے لیے قبر تک انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ رحمت علی کی فائل بند ہو چکی تھی، مگر سوال آج بھی زندہ تھا:جب کسی شہری کی زندگی انتظار کرتے کرتے ختم ہو جائے، تو کیا اس کی فائل پر لگی مہر واقعی انصاف کی علامت ہوتی ہے، یا صرف اس بات کا ثبوت کہ نظام نے ایک انسان کو نہیں، ایک مسئلے کو کاغذوں سے غائب کر دیا؟
‎