جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایسا سچ جو کبھی کہ نہیں سکتے،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

آج میں ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھانا چاہتی ہوں جس پر بات کرتے ہوئے ہماری زبانیں لڑکھڑانے لگتی ہیں، لفظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور ہم اپنے ہی خیالات کے گرد خاموشی کی دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں۔ یہ وہ سچ ہے جسے ہم جانتے تو ہیں، جس کے واقعات ہمارے آس پاس بھی ہوتے ہیں، مگر جب اسے بیان کرنے کی باری آتی ہے تو رشتوں کا تقدس، خاندان کی عزت اور معاشرے کی بدنامی کا خوف ہمارے لب سی دیتا ہے۔ آج میں اپنے قلم کے ذریعے اسی خاموش سچ کو لفظ دینا چاہتی ہوں۔


ہمارے معاشرے میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنے گھر کا فرد سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ وہ جو ہمارے بیٹوں کی طرح پلتے ہیں، جنہیں ہماری بچیاں بھائی کہہ کر پکارتی ہیں، جن کے لیے گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ہم انہیں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنے، ہنسنے بولنے اور گھلنے ملنے کی آزادی دیتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں یہ خیال تک نہیں آتا کہ جسے ہم اپنے گھر کا محافظ سمجھ رہے ہیں، وہی ہماری اس معصومانہ بھروسا مندی کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔


یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: رشتے کا نام کسی شخص کے کردار کی ضمانت نہیں ہوتا۔ کسی کو بھائی کہہ دینے سے وہ بھائی جیسا نہیں بن جاتا، اور کسی کا قریبی رشتہ دار ہونا اسے ہماری بچیوں کی حدود پامال کرنے کا حق نہیں دیتا۔


بعض اوقات یہ تلخ حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب گھر میں آنے جانے والا کوئی دور کا رشتہ دار، کزن یا خاندان کا جان پہچان والا شخص اپنی حدود بھولنے لگتا ہے۔ کبھی غیر ضروری قربت کے بہانے، کبھی ایسے مذاق کی آڑ میں جس سے سامنے والا بے آرام ہو، کبھی بار بار راستہ روک کر، کبھی تنہائی میں بات کرنے کی کوشش کرکے اور کبھی ایسی نگاہوں سے جن میں رشتے کا احترام باقی نہیں رہتا۔ ابتدا میں بچی شاید ان حرکات کو سمجھ ہی نہ پائے، لیکن رفتہ رفتہ اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ کسی کا رویہ اسے خوف زدہ اور بے چین کر رہا ہے۔


مشترکہ خاندانی نظام میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے کزنز، چچا زاد، ماموں زاد یا دوسرے رشتہ دار روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان میل جول فطری بات ہے، لیکن اس میل جول کی آڑ میں کسی چھوٹی بچی کو تنگ کرنا، نامناسب باتیں کرنا، بار بار چھیڑنا یا اسے خوف زدہ کرنا کسی صورت معمولی شرارت نہیں۔ اور جب کوئی شخص اپنی غلط حرکت کے بعد بچی کو یہ دھمکی دے کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو اس کے لیے حالات مزید خراب کر دیے جائیں گے، تو وہ صرف ایک بچی کو نہیں ڈرا رہا ہوتا بلکہ اس کی آواز چھیننے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔


ذرا سوچیے، اس وقت اس بچی پر کیا گزرتی ہوگی؟ ایک طرف وہ شخص ہوتا ہے جس کے خلاف بات کرتے ہوئے اسے خوف محسوس ہوتا ہے، دوسری طرف وہ اپنے ہی گھر والے ہوتے ہیں جن کے ردِعمل سے وہ ڈرتی ہے۔ اسے اندیشہ ہوتا ہے کہ شاید اس کی بات پر یقین نہ کیا جائے، شاید اسے ہی قصوروار ٹھہرا دیا جائے، شاید اس کے گھر میں آنے جانے پر پابندیاں لگا دی جائیں، یا خاندان کی عزت کے نام پر اسے خاموش رہنے کا حکم دے دیا جائے۔


اور افسوس! بعض اوقات ایسا ہی ہوتا ہے۔


بچی ہمت کرکے اپنے ساتھ ہونے والی ناگواری یا ہراسانی کا ذکر کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کے بیان پر شک کیا جاتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم وہاں کیوں گئی تھیں؟ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ تم نے اس سے بات کیوں کی؟ اس کے بجائے کہ اس کے خوف کو سمجھا جائے، اس کی بات سنجیدگی سے سنی جائے اور اسے تحفظ فراہم کیا جائے، اس سے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جو اسے مزید خاموش کر دیتے ہیں۔


آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ غلط رویہ اختیار کرنے والے سے جواب طلب کرنے کے بجائے اس بچی سے وضاحت مانگی جائے جس نے مدد کے لیے آواز اٹھائی ہو؟


خاندان کی عزت یقیناً اہم ہے، مگر عزت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی تکلیف کو قالین کے نیچے چھپا دیا جائے۔ عزت سچ کا سامنا کرنے میں ہے، اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے میں ہے اور غلطی کرنے والے کو اس کے عمل کا جواب دہ بنانے میں ہے۔ اگر کسی گھر میں بچیاں خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہوں، اگر وہ اپنے ہی رشتے داروں کے سامنے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں، تو محض خاموشی اختیار کرنے سے اس گھر کی عزت محفوظ نہیں ہو جاتی۔


والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بچیوں کے ساتھ ایسا اعتماد بھرا تعلق قائم کریں کہ وہ کسی بھی نامناسب رویے کے بارے میں بلا خوف بات کر سکیں۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ اگر کوئی شخص انہیں بے آرام کرے، نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کرے، تنہائی میں ڈرائے دھمکائے یا کسی بات کو چھپانے پر مجبور کرے تو وہ فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتا سکتی ہیں۔ ان کی بات تحمل سے سنی جائے، انہیں قصوروار نہ ٹھہرایا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔


یہ تربیت صرف بچیوں کے لیے نہیں، لڑکوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہیں بچپن ہی سے سکھایا جائے کہ احترام کا مطلب دوسرے انسان کی حدود کا احترام کرنا ہے۔ کسی کی خاموشی رضامندی نہیں، کسی کا خوف مذاق نہیں اور کسی رشتے کی قربت غلط رویے کی اجازت نہیں دیتی۔ خاندانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو محض ایک چھت تلے رکھ دینا ان کی حفاظت کی مکمل ضمانت نہیں؛ ان کے رویوں، تعلقات اور ذہنی آسودگی پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔


اور سب سے بڑھ کر، ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ ایسے واقعات کا ذکر کرنے سے خاندان کی بدنامی ہوتی ہے۔ بدنامی سچ بیان کرنے والے کی نہیں، غلط عمل کرنے والے کی ہونی چاہیے۔ کسی بچی کی آواز کو دبانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اسے مزید تنہا کر دینے کے مترادف ہے۔ اگر کسی بچے کے ساتھ ہراسانی ہو رہی ہو تو اس کی حفاظت کو ترجیح دی جائے، معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حفاظتی یا قانونی اداروں سے مدد حاصل کی جائے۔


آج میں اپنے قلم کے ذریعے ان تمام بچیوں کی طرف سے بات کرنا چاہتی ہوں جو اپنے ہی گھروں میں کسی کے رویے سے خوف زدہ ہیں، جو اپنے رشتوں کے نام پر خاموش ہیں، جو خاندان کے بکھر جانے کے ڈر سے اپنی تکلیف اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہیں۔ میں ان والدین سے بھی مخاطب ہوں جو اپنے بچوں سے محبت تو کرتے ہیں، مگر کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ان کے گھر میں آنے والا ہر شخص لازماً قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔


اپنے بچوں پر نظر رکھیے، مگر ان کی ہر بات کو شک کی نگاہ سے نہیں، محبت اور اعتماد کے ساتھ سنیے۔ انہیں تحفظ دیجیے، مگر ان کی آواز چھین کر نہیں۔ رشتوں کا احترام کیجیے، مگر اس احترام کو کسی کی غلط حرکت چھپانے کا پردہ مت بنائیے۔


میں جانتی ہوں کہ یہ موضوع آسان نہیں۔ شاید بہت سے لوگ اسے پڑھ کر ناگواری محسوس کریں، شاید کچھ کہیں کہ ایسی باتیں گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں آنی چاہییں۔ مگر میں پوچھنا چاہتی ہوں: اگر گھر کی چار دیواری کے اندر ہی کوئی بچی خوف زدہ ہو، تو وہ اپنا دکھ لے کر کہاں جائے؟ اگر اپنے ہی لوگ اس کی بات نہ سنیں، تو وہ کس سے مدد مانگے؟


آج میرے قلم کا مقصد کسی رشتے کو بدنام کرنا نہیں، بلکہ ان رشتوں کے تقدس کو محفوظ بنانا ہے جن کی بنیاد اعتماد، احترام اور تحفظ پر ہے۔ ہر رشتہ قابلِ احترام ہے، لیکن کوئی رشتہ کسی انسان کو دوسرے کی عزت، مرضی اور حدود پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔


کچھ سچ بولنے سے خاندان نہیں ٹوٹتے، بلکہ ان خاموشیوں کے پردے ہٹتے ہیں جن کے پیچھے بہت سی معصوم آوازیں دبی ہوتی ہیں۔


آج میں نے اسی خاموشی کے خلاف قلم اٹھایا ہے، کیونکہ کسی خاندان کی عزت سے بڑھ کر ایک بچے کی سلامتی، اس کا اعتماد اور اس کا محفوظ بچپن ہے۔ اور اگر ہمارا قلم اس ایک سچ کو بھی کسی گھر تک پہنچا دے، کسی والدین کو اپنے بچے کی بات سننے پر آمادہ کر دے، یا کسی خوف زدہ بچی کو یہ یقین دلا دے کہ اس کی آواز اہم ہے، تو شاید یہ لفظ اپنی منزل پا جائیں۔