Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اخلاقی اقدار،تحریر: عائشہ گُل

نقطہ نظر
ayeshagul

آج کا ہمارا عنوان ہے اخلاقی اقدار۔ سب سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ اخلاقی اقدار کیا ہوتی ہیں؟ اخلاقی اقدار کا مطلب ہے اچھا اخلاق و کردار کا حامل ہونا۔ مزید برآں اخلاقی اقدار میں انسانی شخصیت، معاشرتی، سماجی اور تعلیمی اقدار جیسی تمام خوبیاں بھی شامل ہیں۔


اچھے اخلاق کی قدر و اہمیت کو جاننے کے لیے ہم قرآن و حدیث کی روشنی سے مدد حاصل کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اے حبیب! بے شک آپ اخلاق کے بہترین درجے پر فائز ہیں (سورۃ القلم: 4)۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دنیا اور اس کی تمام رونقیں ہمارے پیارے آقا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر تخلیق فرمائیں۔ ہر مسلمان پر اتباعِ رسول فرضِ عین ہے، اسی لیے ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم حکمِ ربی اور پیرویِ رسول پر عمل پیرا ہیں یا نہیں۔ ہر شخص اپنا محاسبہ کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس میں کون سی صفت پائی جاتی ہے۔


اس کے علاوہ چند احادیث کا بھی مطالعہ فرمائیں۔ ایمان میں زیادہ کامل وہ ہے جن کے اخلاق اچھے ہوں (ابو داؤد)، اچھے اخلاق سے بہتر انسان کو کوئی چیز نہیں دی گئی (بیہقی)، مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے ساری رات نفل پڑھنے اور سارا دن روزہ رکھنے کا ثواب پاتا ہے (ابو داؤد)، اور تم میں سے زیادہ پیارا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ ان تمام احادیث میں اخلاق کی اہمیت بہت واضح طور پر بیان کی گئی ہے اور ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر عمل قرآن و حدیث کے مطابق کر کے اپنی زندگی کو پُرسکون طریقے سے گزارے۔


اب اسی بات کو دوسرے زاویے سے دیکھ لیتے ہیں۔ اچھے اخلاق و کردار کا حامل انسان ہر دل عزیز ہوتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلیاں مرتب کرتا ہے۔ اچھا اخلاق اپنانا آسان نہیں لیکن ناممکن بھی ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ نے انسان سے صرف کوشش مانگی ہے نتیجہ نہیں۔ اگر اس کے برعکس دیکھیں تو بد اخلاقی کے باعث نہ صرف گھریلو جھگڑے بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ بداخلاق انسان کی کسی سے بنتی نہیں، وہ اپنی زبان کی وجہ سے مار کھاتا ہے، چاہے اس میں ہزار خوبیاں ہوں لیکن اگر زبان زہر اگلتی ہے تو وہ سب بے معنی ہو جاتی ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ جب انسان بولتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دکان سونے کی ہے یا لوہے کی، کیونکہ اس کے لہجے، اندازِ تکلم اور الفاظ کے چناؤ سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس خوبی کا مالک ہے۔


دورِ حاضر میں معاشرے میں اچھے اخلاق کی بہت کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے گھروں اور معاشرے کا سکون برباد ہوا نظر آتا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ گھر میں سات افراد ہیں جن کا سربراہ والد یا والدہ ہے۔ اگر سربراہ کا مزاج اچھا ہے اور زبان پر شیرینی ہے تو گھر قہقہوں سے گونجتا ہے اور اگر مزاج خراب ہے اور زبان زہر اگلتی ہے تو پورا گھر خاموشی کے سائے میں گر جاتا ہے۔ اسی طرح مالک و مزدور، ساس بہو، بہن بھائی، میاں بیوی اور ہمسایوں کا چھوٹی چھوٹی باتوں پر لا تعلق ہو جانا اور رشتہ ختم کر دینا، یہ سب عدمِ برداشت اور بد اخلاقی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم تحمل مزاجی اور خوش اخلاقی کو اپنا لیں تو رشتوں کی عمر طویل اور زندگی سے کڑواہٹ ختم ہو سکتی ہے، جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ اچھا اخلاق انسانی شخصیت کو چار چاند لگا دیتا ہے اور اسی کا حامل انسان اشرف المخلوقات کے لقب کا حقدار بنتا ہے۔


اب سوال ہے کہ اس کو کیسے اپنایا جائے؟ اس کا حل ہمیں قرآنِ پاک میں ملتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کیسے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا، یعنی پورا قرآن ہی آپ کے اخلاق پر روشنی ڈالتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے قرآن کے نور سے مدد لینی چاہیے۔ جب ہم قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے رہیں گے تو اچھے اخلاق کو اپنانے میں مدد ملے گی اور ہم ہر سو روشنی بکھیرنے میں کارآمد بن سکتے ہیں، جس سے پہلے قریبی لوگوں میں، پھر دوست احباب، کام کاج کے دائرے میں، گلی محلے اور پھر پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی واضح نظر آنے لگے گی۔ بس ایک قدم اٹھانے کی دیر ہے، تو کیوں نہ آج سے ہی اس سفر کا آغاز کیا جائے۔ اللہ پاک ہمیں اچھا اخلاق و کردار اپنانے والا بنا دے، آمین۔