بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امن کے کبوتر سے انصاف کے ترازو تک،تحریر:ایم زیڈ کنول

نقطہ نظر

اوسلو میں اکتوبر کی فضا پر خزاں کی خنکی چھائی ہوئی ہے۔ نو اکتوبر کو ایک نام عالمی خبروں کی پیشانی پر ابھرتا ہے: ناوی پلّے! یہ محض ایک خاتون کے اعزاز کا اعلان نہیں، قانون کی اس طویل جدوجہد کا اعتراف ہے جس نے طاقت کے ایوانوں میں جواب دہی کا سوال زندہ رکھا۔ سن 2026ء کے نوبل امن انعام کے لیے ناوی پلّے کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ امن کی عالمی بحث میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی اہمیت اب بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

پچاسی سالہ ناوی پلّے، جن کا پورا نام ناوانیتھم پلّے ہے، جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے آباؤ اجداد ہندوستانی نژاد تھے اور ان کا خاندان نسلی امتیاز کے عہد میں زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس پس منظر کو محض ایک خاندانی تعارف سمجھنا تاریخی حقیقت کی معنویت کم کر دینا ہے۔ انہوں نے رنگ، نسل اور سماجی مرتبے کی بنیاد پر انسانوں کی درجہ بندی کرنے والے معاشرے میں راستہ بنایا۔ وہی قانون جس کی عمارت کے اندر کبھی اس کے جیسے لوگوں کے لیے جگہ محدود تھی۔

وہیں ناوی پلّے نے بے وطنی سے بصیرت تک کا سفر طے کیا۔ ان کی زندگی کو صرف دوہری جلاوطنی کی کہانی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ وہ جنوبی افریقہ ہی کی شہری تھیں، لیکن نسلی امتیاز نے انہیں اپنے ہی معاشرے میں عدم مساوات کا تجربہ کرایا۔ ہندوستانی تامل ورثے اور جنوبی افریقی شناخت کے درمیان ان کا وجود ایک ایسے سوال سے دوچار رہا جس کا جواب آج بھی دنیا کے کئی معاشرے تلاش کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ : کیا کسی انسان کا وطن اسے برابر کا شہری تسلیم کیے بغیر مکمل ہو سکتا ہے؟

شاید اسی تجربے نے ان کی نگاہ کو وہ پرواز دی جس سے وہ قانون کی عبارت کے پیچھے چھپی ہوئی انسانی تقدیر پڑھ سکیں۔ کیونکہ جس شخص نے امتیاز کو محض کتاب میں نہیں، اپنی زندگی کے ماحول میں دیکھا ہو، اس کے لیے مساوات ایک فلسفیانہ اصطلاح نہیں رہتی، وہ ایک زندہ ضرورت بن جاتی ہے۔

ہماری تاریخ کی کتابوں میں واسکو ڈے گاما عموماً ایک جہاز راں کے طور پر سامنے آتا ہے، جس نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان بحری راستے کی تلاش میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن تاریخ کا ایک ہی کردار مختلف زاویوں سے مختلف معنویت اختیار کر سکتا ہے۔ یورپی تجارتی توسیع کی تاریخ میں جس بحری راستے کو دریافت اور پیش رفت کہا گیا، اس کے ساتھ نوآبادیاتی غلبے اور تشدد کی تاریخ بھی جڑی ہوئی ہے۔ ناوی پلّے کی زندگی اس تضاد کی یاد دلاتی ہے کہ راستے بنانا بذاتِ خود فضیلت نہیں ۔اصل سوال یہ ہے کہ ان راستوں سے انسانیت کو منزل ملتی ہے یا محکومی۔۔۔ایک قطب نما سمندر میں راستہ تلاش کرتا ہے، دوسرا ضمیر کے اندر سمت متعین کرتا ہے۔ پہلے کی کامیابی فاصلے ناپنے میں ہے، دوسرے کی کامیابی اس فاصلے کو پہچاننے میں جو طاقت اور انصاف کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔

ناوی پلّے کی جدوجہد کسی اچانک معجزے کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس کی بنیاد تعلیم، قانونی محنت، پیشہ ورانہ جرات اور مسلسل مزاحمت پر رکھی گئی۔ 1967ء میں انہیں اپنے صوبے نیٹل میں قانون کی پریکٹس شروع کرنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ نسل پرستانہ نظام کے تحت انہوں نے امتیازی سلوک کا سامنا کیا اور ان سیاسی کارکنوں کا دفاع کیا جو اپارتھائیڈ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ نیلسن منڈیلا سمیت سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد اسی قانونی اور اخلاقی وابستگی کا حصہ تھی۔

1995ء میں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں جج مقرر ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں۔ یہ تبدیلی محض ایک شخص کی پیشہ ورانہ ترقی نہیں تھی۔ یہ اس بند دروازے پر دستک تھی جس کے پیچھے نسل پرستی نے برسوں سے انسانی صلاحیتوں کو قید کر رکھا تھا۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ کسی محروم فرد کا منصب تک پہنچ جانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ پورا نظام انصاف پر مبنی ہو چکا ہے۔ اصل تبدیلی تب آتی ہے جب اس فرد کی موجودگی ادارے کے رویّے، فیصلوں اور ترجیحات کو بھی بدلنے لگے۔ ناوی پلّے کی زندگی کی اہمیت اسی مقام پر نمایاں ہوتی ہے، جہاں ذاتی کامیابی اجتماعی انصاف کی جدوجہد سے جڑ جاتی ہے۔

روبن آئی لینڈ، جہاں اپارتھائیڈ کے دور میں نیلسن منڈیلا سمیت متعدد سیاسی قیدی پابندِ سلاسل رہے، اس تاریخ کا ایک دردناک نشان ہے۔ ناوی پلّے نے سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے قانونی جدوجہد کی اور قید کے دوران بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کی زندگی کا یہ باب یاد دلاتا ہے کہ جیل کی دیواریں صرف جسم کو محدود نہیں کرتیں۔ بعض اوقات وہ ریاست کے ضمیر اور اس کے شہریوں کے درمیان بھی کھڑی ہو جاتی ہیں۔

لیکن ناوی پلّے کی جدوجہد جنوبی افریقہ تک محدود نہ رہی۔ 1995ء میں وہ روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی جج مقرر ہوئیں اور بعد ازاں اس کی صدر بھی بنیں۔ 1994ء میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی نے دنیا کو دکھایا کہ نفرت جب منظم طاقت میں تبدیل ہو جائے تو انسانی جسم، شناخت اور پوری آبادی اس کا نشانہ بن سکتی ہے۔

روانڈا ٹریبونل کے تاریخی مقدمے پراسیکیوٹر بنام اکایسو کے فیصلے نے بین الاقوامی فوجداری قانون میں ایک اہم سنگِ میل قائم کیا۔ اس فیصلے میں تسلیم کیا گیا کہ مخصوص حالات میں جنسی تشدد نسل کشی کا عمل بن سکتا ہے، اگر اس کا مقصد کسی محفوظ گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنا ہو۔ ناوی پلّے نے اس قانونی پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔

یہاں قانون کی زبان نے انسانی تاریخ کے ایک گہرے زخم کو نام دیا۔ عورت کا جسم جنگی غنیمت نہیں، کسی فاتح کی ملکیت نہیں، کسی قوم کی تذلیل کا جائز وسیلہ نہیں۔ جب جنسی تشدد کسی گروہ کی تباہی کے ارادے سے کیا جائے تو اسے محض نجی جرم یا جنگ کا ضمنی نقصان کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انصاف محض سزا دینے کا نام نہیں رہتا۔ وہ مظلوم کے تجربے کو تسلیم کرنے اور جرم کی اصل نوعیت دنیا کے سامنے آشکار کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ قانون کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ وہ اس خاموشی کو توڑ دے جسے طاقتور اپنے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

ناوی پلّے بعد ازاں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج رہیں اور 2008ء سے 2014ء تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب پر فائز رہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا یہ تسلسل اس بات کی مثال ہے کہ انسانی حقوق کا تصور کسی ایک سرحد، نسل یا سیاسی نظریے کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی اصل بنیاد انسانی وقار ہے، اور وقار کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہوتیں۔

تاہم، ان کی زندگی کا سب سے متنازع اور معاصر پہلو فلسطین سے متعلق ہے۔ 2021ء سے 2025ء تک وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی یروشلم، اور اسرائیل کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہیں۔ اس کمیشن نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینی آبادی کے حالات کا جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ میں نسل کشی کے ارتکاب کے نتائج اخذ کیے۔

اس رپورٹ کو بیان کرتے ہوئے ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ، کسی مجاز بین الاقوامی عدالت کے حتمی اور لازم التعمیل فیصلے کے مساوی نہیں ہوتی۔ اس کے نتائج کو قانونی حیثیت، شواہد اور متعلقہ عدالتی کارروائیوں کے تناظر میں پرکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح اسرائیلی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے اعتراضات اور مؤقف بھی بین الاقوامی بحث کا حصہ ہیں۔ اس لئے معروضیت کا تقاضا یہ نہیں کہ انسانی المیے سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ المیے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے ثبوت، تحقیق اور قانونی فیصلے کے فرق کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔

لیکن اس بحث کے بیچ ایک سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے۔ اگر جنگ کے دوران شہریوں کی جان، بچوں کا مستقبل، عورتوں کا تحفظ اور آبادی کی بقا مسلسل خطرے میں ہوں تو عالمی قانون کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اور اگر بڑی طاقتیں اپنے سیاسی مفادات کے مطابق قانون کی تعبیر کرنے لگیں تو چھوٹے ملکوں اور بے اختیار انسانوں کے لیے انصاف کی امید کس دروازے پر دستک دے؟

ناوی پلّے کی جدوجہد اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں دیتی، لیکن یہ ضرور واضح کرتی ہے کہ بین الاقوامی قانون کی ضرورت اس وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے جب سیاسی طاقتیں اس کی پابندی کو اپنے لیے غیر ضروری سمجھنے لگیں۔ قانون کا امتحان وہاں نہیں ہوتا جہاں سب اس کی اطاعت پر آمادہ ہوں۔ اس کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں طاقتور کو جواب دہ بنانا مشکل ہو۔

یہی وجہ ہے کہ 2026ء کے نوبل امن انعام کو صرف ایک فرد کی خدمات کا اعتراف سمجھنا کافی نہیں۔ نوبل کمیٹی نے ناوی پلّے کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں منتخب کیا ہے۔ اس انتخاب میں ایک وسیع تر پیغام بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ امن کو قائم رکھنے کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات کی منصفانہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

البتہ انعام کسی فرد کے ہر مؤقف کو غیر متنازع یا اس کے ہر فیصلے کو آخری سچ قرار نہیں دیتا۔ اعزاز کسی جدوجہد کی اہمیت کو تسلیم کر سکتا ہے، مگر اس جدوجہد سے وابستہ ہر دعوے کی جانچ کا حق اور ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔ یہی شعور کسی بھی شخصیت کو عقیدت کے حصار سے نکال کر تاریخ کے حقیقی تناظر میں دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ناوی پلّے ہمیں امن کی ایک مختلف تصویر دکھاتی ہیں۔ یہ تصویر محض آسمان میں اڑتے ہوئے سفید کبوتر کی نہیں، بلکہ اس ترازو کی ہے جس کے ایک پلڑے میں طاقت، دولت اور سیاسی اثر و رسوخ رکھا ہے اور دوسرے میں ایک بے نام انسان کا حق۔ ترازو کو متوازن رکھنے کے لیے صرف قانون کی کتاب کافی نہیں۔ اسے آزاد ادارے، غیر جانب دار تحقیق، شواہد پر مبنی فیصلے اور طاقتور سمیت سب کے لیے یکساں جواب دہی درکار ہے۔

امن کوئی ایسا خاموش کمرہ نہیں جہاں ظلم کی آواز سنائی نہ دے۔ امن تو وہ کھڑکی ہے جس سے مظلوم کی آواز باہر پہنچ سکے، وہ دروازہ ہے جو انصاف کے لیے کھلے، اور وہ چراغ ہے جو طاقت کے طویل سائے میں بھی بجھنے سے انکار کر دے۔

امن تبھی پائیدار ہوتا ہے جب انصاف طاقت کے تابع نہیں، اس کا نگہبان ہو۔ اور جس دن قانون کا ترازو کسی انسان کے نام، نسل، مذہب یا سیاسی حیثیت سے بے نیاز ہو کر سیدھا رہنے لگے گا، اسی دن امن کا کبوتر محض علامت نہیں رہے گا۔وہ انسانیت کے آنگن میں اترنے کا حوصلہ بھی پا لے گا۔

ناوی پلّے نے ہمیں بتایا ہے کہ امن کبوتر نہیں، ترازو ہے۔ اور ترازو تبھی سیدھا رہتا ہے جب اسے تھامنے والا ہاتھ کانپتا نہ ہو۔