21 ستمبرعالمی یوم امن " امن کو ہم پھیلائیں گے" ،شاعر،فائزہ شہزاد
نقطہ نظر
جب دکھ کے بادل چھاتے ہیں
ہم سکھ کے دیپ جلاتے ہیں
جب درد بہت ہی بڑھ جائے
ہم درد مٹانے آتے ہیں
ہمدرد کوئی نہ ہو جس کا
ہم سہارا دینے آتے ہیں
آنسو تو سب ہی دیتے ہیں
ہم حوصلہ بن کر آتے ہیں
رشتہ گرچہ خوں کا نہیں
رگوں میں خون بن کر آتے ہیں
جہاں ضرورت ہو جس کو
ہم مسیحا بن کر آتے ہیں
طوفاں ہو یا آندھی چلے
ہم کشتی بن کر آتے ہیں
جب دم توڑ جائے ہر اُمید
ہم امید جگانے آتے ہیں
جن کے قدم رک جاتے ہیں
ہم اُن کو چلانے آتے ہیں
ہم خادم ہیں انسانوں کے
ہم خدمت کرنے آتے ہیں
مال و زر کی ہوس نہیں
انصاف کی شمع جلانے آتے ہیں
روتے ہوئے چہروں کے لئے
ہم ہنسی بن کر آتے ہیں
جب کوئی بھوکا سوتا ہے
ہم روٹی بن کر آتے ہیں
جب سرد ہوا میں لرزے کوئی
ہم گرم آغوش بن کر آتے ہیں
محروم ہوں جو تعلیم سے
ہم قلم کتاب بن کر آتے ہیں
جہالت کے اندھیروں میں
علم کا چراغ بن کر آتے ہیں
مذہب کی کوئی قید نہیں
ہم پیغام محبت بن کر آتے ہیں
ہر دل میں پیار محبت ہو
ہم پیار جگانے آتے ہیں
ظلمت کا اندھیرا ہو جہاں
ہم جگنو بن کر آتے ہیں
ماں باپ ہوں بے آسرا جہاں
ہم بیٹے بن کر آتے ہیں
نفرت کی آگ لگی ہو جہاں
ہم پانی بن کر آتے ہیں
آو مل کر عہد کریں
سب کے دکھ ہم بانٹیں گے
زخموں پر مرہم لگائیں گے
ہر دل کو اپنا بنائیں گے
دنیا میں امن پھیلائیں گے
فائزہ شہزاد( خیبر پختونخوا)
مزید پڑھیں




