بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انجان راستوں پر،تحریر: نیہا علی

نقطہ نظر
Kitchen and Me, written by: Neha Ali

انسان کی زندگی بھی ایک سفر کی مانند ہے، جس میں کبھی مانوس راستے ملتے ہیں اور کبھی ایسے راستے سامنے آ جاتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ انجان راستوں پر چلتے ہوئے دل میں خوف بھی ہوتا ہے اور کچھ نیا دیکھنے کی خواہش بھی۔ میرا ایک ایسا ہی سفر تھا جس نے مجھے زندگی کو ایک نئے انداز سے دیکھنے اور قدرت کی خوب صورتی کو محسوس کرنے کا موقع دیا۔

ایک دن ہمارے گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ ہم چھٹی کے دن کسی ایسی جگہ جائیں گے جہاں پہلے کبھی نہ گئے ہوں۔ یہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں نے فوراً اپنے سفر کی تیاری شروع کر دی۔ اپنے بیگ میں ضروری سامان رکھا اور اگلی صبح سب گھر والے خوشی خوشی روانہ ہو گئے۔ موسم بہت خوش گوار تھا اور آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔


شہر سے نکلتے ہی منظر بدلنے لگا۔ بلند عمارتوں، شور اور مصروف سڑکوں کی جگہ سرسبز کھیتوں، کچے راستوں اور لمبے درختوں نے لے لی۔ کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا میرے چہرے کو چھوتی تو دل کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا۔ راستے میں کہیں کسان کھیتوں میں کام کرتے دکھائی دیتے اور کہیں بچے گلیوں میں کھیلتے نظر آتے۔ ان سادہ مناظر میں ایک ایسی خوب صورتی تھی جو بڑے شہروں کی چمک دمک میں کم ہی نظر آتی ہے۔


کچھ دیر بعد ہماری گاڑی ایک ایسے راستے پر مڑ گئی جس کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں تھی۔ سڑک تنگ تھی اور دونوں طرف گھنے درخت کھڑے تھے۔ دور دور تک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میرے دل میں ایک لمحے کے لیے خوف پیدا ہوا کہ نہ جانے ہم کہاں پہنچیں گے، لیکن گھر والوں کی موجودگی نے مجھے حوصلہ دیا۔ میں نے سوچا کہ اگر انسان ہر نئی چیز سے ڈرنے لگے تو زندگی کے بہت سے خوب صورت تجربات سے محروم رہ جائے گا۔


کچھ آگے چل کر ہمیں ایک چھوٹا سا گاؤں دکھائی دیا۔ وہاں کے گھر سادہ تھے، مگر لوگوں کے چہروں پر محبت اور خلوص نمایاں تھا۔ چند بچے مٹی کے صحن میں کھیل رہے تھے اور کچھ خواتین گھر کے کاموں میں مصروف تھی۔ ایک بزرگ اپنے گھر کے باہر بیٹھے تھے۔ ہم نے ان سے راستے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مسکرا کر ہماری رہنمائی کی۔ ان کی گفتگو میں ایسی اپنائیت تھی کہ اجنبیت کا احساس ہی ختم ہو گیا۔ اس ملاقات نے مجھے سکھایا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق اور رویے سے ہوتی ہے، نہ کہ اس کے لباس یا دولت سے۔


آخرکار ہم ایک خوب صورت مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں دور تک پھیلے کھیت، بلند درخت اور قدرت کے حسین مناظر تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور پرندوں کی آوازیں ماحول کو دل کش بنا رہی تھی۔ میں کچھ دیر خاموش کھڑی ان مناظر کو دیکھتی رہی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے قدرت اپنے حسن کے ذریعے انسان کو سکون کا پیغام دے رہی ہو۔ میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمتوں کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔ ہم اکثر روزمرہ کی مصروفیات میں اتنے الجھ جاتے ہیں کہ اپنے اردگرد موجود خوب صورتی کو دیکھنا بھول جاتے ہیں۔


ہم نے وہاں کچھ وقت گزارا، تصاویر بنائیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اس دوران ہم نے ہنسی مذاق بھی کیا اور اپنے سفر کے دلچسپ واقعات ایک دوسرے کو سنائے۔ یہ لمحات میرے لیے بہت قیمتی تھے، کیونکہ اپنوں کے ساتھ گزارا ہوا وقت انسان کے دل میں خوب صورت یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ خوشی ہمیشہ بڑی بڑی چیزوں میں نہیں ہوتی، بلکہ چھوٹے چھوٹے لمحے بھی زندگی کو یادگار بنا دیتے ہیں۔


شام کے وقت ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ سورج آہستہ آہستہ افق کے پیچھے چھپ رہا تھا اور آسمان کے رنگ بدل رہے تھے۔ سنہری روشنی درختوں اور کھیتوں پر پھیل رہی تھی۔ میں راستے بھر اپنے تجربات کے بارے میں سوچتی رہی۔ صبح جس راستے سے گزرتے ہوئے دل میں خوف تھا، اب وہی راستہ مجھے خوب صورت یادوں سے بھرا محسوس ہو رہا تھا۔


اس سفر نے مجھے یہ سبق دیا کہ انجان راستے ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات وہ ہمیں نئی جگہوں، نئے لوگوں اور نئے تجربات سے روشناس کرواتے ہیں۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ہمت، صبر اور مثبت سوچ ضروری ہیں۔ کبھی کبھی منزل سے زیادہ اہم وہ تجربات ہوتے ہیں جو ہمیں راستے میں حاصل ہوتے ہیں۔ واقعی، انجان راستوں پر سفر کرنا صرف جگہوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ اپنے خیالات اور احساسات کو وسعت دینے کا نام بھی ہے۔