عورت کبھی کمزور نہیں ہوتی،تحریر: شازیہ حنیف
نقطہ نظر
معاشرہ دراصل انسانوں کے رویّوں، سوچ، اقدار اور باہمی تعلقات کا مجموعہ ہے۔ جس معاشرے میں عورت کو عزت، تعلیم، تحفظ اور اظہارِ رائے کا حق حاصل ہو وہاں انسانی ترقی کے امکانات بھی وسیع ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں عورت کو اکثر اس کی صلاحیت، کردار اور شعور سے نہیں بلکہ جنس کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔عورت کو کمزور کہنا شاید انسانی ذہن کی سب سے پرانی غلط فہمیوں میں سے ایک ہے۔ عورت جسمانی طور پر بعض معاملات میں مختلف ہو سکتی ہے مگر اس کا ذہن، شعور، احساس، تخلیقی قوت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کسی بھی انسان کی طرح اپنی مکمل اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ماں ہے تو نسلوں کی تربیت کرتی ہے، بیٹی ہے تو گھر میں محبت کا چراغ روشن کرتی ہے، بہن ہے تو رشتوں میں شفقت پیدا کرتی ہے اور اگر وہ استاد، ڈاکٹر، وکیل، ادیب، سائنس دان یا منتظم ہے تو معاشرے کی تعمیر میں براہِ راست اپنا کردار ادا کرتی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ عورت کیا کر سکتی ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ معاشرہ اسے کرنے کتنا موقع دیتا ہے؟ہم اکثر عورت سے قربانی کی توقع رکھتے ہیں مگر اس کے خوابوں کو سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ ہم اس کی ذمہ داریاں گنواتے ہیں مگر اس کے حقوق پر گفتگو کرتے ہوئے کئی بار خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خاندان کو سنبھالے، بچوں کی تربیت کرے، بزرگوں کا خیال رکھے، مگر جب وہ اپنی ذات، تعلیم، ملازمت یا صلاحیتوں کے لیے وقت مانگتی ہے تو اسے خود غرضی کا طعنہ دے دیا جاتا ہےـیہ تضاد دراصل عورت کا نہیں انسانی ذہن کا مسئلہ ہے۔ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں عورت کو نہ تو محض کمزور سمجھا جائے اور نہ ہی اسے مرد کے مقابلے میں کھڑا کرکے ہر معاملے کو جنگ بنا دیا جائے۔ مرد اور عورت معاشرے کے دو اہم ستون ہیں۔ دونوں کی عزت، ذمہ داری اور انسانی وقار اپنی جگہ اہم ہیں۔مسئلہ برتری کا نہیں، برابری کے انسانی احترام کا ہےـ عورت کی تعلیم صرف ایک فرد کی تعلیم نہیں ہوتی۔ ایک تعلیم یافتہ عورت اپنے گھر، بچوں اور معاشرے کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایک باصلاحیت عورت کو آگے بڑھنے کا موقع دینا صرف اس کے مستقبل کو نہیں معاشرے کے مجموعی مستقبل کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے کہ اپنی سوچ کے ان دروازوں کو کھولنا ہوگا جہاں عورت کے لیے فیصلے اس کی قابلیت سے پہلے اس کی جنس دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ اسے بولنے سے پہلے خاموش کر دینا، سوال کرنے پر بدتمیزی کا الزام لگانا، کامیابی پر شک کرنا اور ناکامی پر فوراً کردار کو موضوع بنا دینا ـ یہ سب رویے معاشرتی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ـعورت کو تحفظ ضرور چاہیے، مگر تحفظ کے نام پر اس کی آزادیِ فکر چھین لینا تحفظ نہیں۔ اسے رہنمائی چاہیے، مگر اس کی شخصیت کو مسلسل کنٹرول کرنا رہنمائی نہیں۔ اسے محبت چاہیے مگر محبت کے نام پر اس کے خوابوں کو دفن کرنا محبت نہیں ـہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ دنیا سے کیسے بچنا ہےـ انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ دنیا کو سمجھنا، سوال کرنا، فیصلہ کرنا اور اپنے حق کے لیے باوقار انداز میں آواز اٹھانا کیسے ہے۔ اسی طرح ہمارے بیٹوں کی تربیت بھی ضروری ہے کہ عورت عزت کی مستحق صرف اس لیے نہیں کہ وہ کسی کی ماں، بہن یا بیٹی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک مکمل انسان ہےـمعاشرے کی اصل ترقی بلند عمارتوں، سڑکوں اور ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ انسانی رویّوں سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر ہمارے گھروں میں بیٹی کی آواز کو اہمیت ملے، بہن کے خوابوں کو سمجھا جائے، بیوی کو شریکِ زندگی سمجھا جائے اور ماں کو محض ذمہ داریوں کا نام نہ سمجھا جائے تو یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک بڑے معاشرتی انقلاب کی بنیاد بن سکتی ہیں ـعورت کو بدلنے سے پہلے ہمیں اپنے ذہن کو بدلنا ہوگا۔کیونکہ عورت معاشرے کا مسئلہ نہیں ـ عورت کے بارے میں ہماری سوچ اصل مسئلہ ہے۔جس دن ہم نے عورت کو کسی رشتے، کردار یا صنفی شناخت سے پہلے ایک انسان کی حیثیت سے دیکھنا سیکھ لیا شاید اسی دن ہمارا معاشرہ بھی زیادہ مہذب، متوازن اور خوبصورت ہونا شروع ہو جائے ـآخرکار معاشرے کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہاں عورت کو کتنا خاموش رکھا جاتا ہے بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں ہر انسان کو عزت کے ساتھ جینے، سوچنے اور آگے بڑھنے کا کتنا حق حاصل ہے
مزید پڑھیں




