Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت اور تعلیم،تحریر: عائشہ گُل

نقطہ نظر
ayeshagul

حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہوتی ہے۔جب عورت تعلیم سے آگاہی حاصل کر لیتی ہے تو نا صرف وہ خود کو بلکہ بہت سی نسلوں کو سنوارنے کا باعث بنتی ہے۔عورت کی تعلیم کا درس ایسا خوب صورت درس ہے جو دین اسلام ہمیں دیتا ہے۔ اگرہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ازواج مطہرات و صحبیات نے تعلیم حا صل کی۔

تعلیم دنیا کی تعلیم ہو یا پھر دین کی دونوں ہی اپنی جگہ ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ نے "دو ہزار دو سو دس" احادیث روایت فرمائی جن میں سے کچھ بخاری اور کچھ مسلم شریف کی کتب میں درج ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا دین عورت کو تعلیم یافتہ ہونے سے منع نہیں کرتا۔اگر کسی عمل سے منع کیا گیا ہے تو وہ ہے اس تعلیم کا ناجائز فائدہ اٹھانا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں ہماری عورتوں نے تعلیم کو کچھ اور سمجھ لیا ہے تعلیم کو آزادی کا نام دے دیا ہے جب کہ ہمارا دین تعلیم کو ازادی کا نام نہیں دیتا ، اس کے برعکس بیداری قلب ، باعزت، باشعور خاتون ہونے کا شرف بھی دیتا ہے۔ جو ہم پس پشت ڈال چکے ہیں۔اس پیغام سے رو گردانی کر کے بہت سی ڈگریوں کو اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ہر طرف نفسہ نفسی کا عالم ہے ، ہر کوئی اس ریس میں جیتنا چاہتا ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ ہم تعلیم یافتہ ہیں۔ میرے پاس فلاں ڈگری ہے میرے پاس فلاں ڈگری ہے۔جبکہ اس ڈگری کے پیچھے چھپے راز کوئی بھی عیاں نہیں کرتا۔ چلیں ایک چھوٹی سی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے۔

عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت اچھی بات ہے لیکن اس تعلیم کا ناجائز فائدہ اٹھانا ناقابل دید ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم اور آزادی میں بہت فرق ہوتا ہے۔شعور اور بتمیزی میں فرق یہ تعلیم کے ذریعے ممکن ہوتا ہے کہ ہم کب ،کہا، کیسے، اپنے اس شعور کو زیر بحث لاتے ہیں۔

بچہ ماں سے کہتا ہے امی آپ کو تو کچھ بھی نہیں پتا، آجکل یہ سب نہیں چلتا، آپ پرانے خیالات کی مالک ہیں، دور بہت جدید ہے ،دنیا چاند پہ پہنچ گئی ہے، آپ کی تعلیم میں اور آج ک تعلیم میں بہت فرق ہے، اسلئے آپ میرے معاملات میں نا بولا کریں مجھے سب پتا ہے آپ کو کچھ نہیں پتا۔

کیا یہ تعلیم ہے آج کی تعلیم نے اتنا بے باک بنا دیا کیا؟ کہ ادب کے تقاضے ہی بھلا دئے۔اور عورت کی تعلیم الا ماشاء اللہ جس عورت نے اس پچے کی پرورش کی کیا وہ تعلیم یافتہ کہلانے کی حقدار ہے؟ خدرا! میری گزراش ہے کہ ایک عورت کی تعلیم کاعظیم مقصد پس پشت مت ڈالے۔اپنے اصل فرض کو انجام دیں ایک ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو معاشرے کو بہت سی نوجوان با تربیت نسل دینے میں کامیاب ہو سکے گی۔ورنہ ڈگریوں کا کیا ہے جناب ان کاغذوں سے آپ کی تعلیم کا علم نہیں ہوگا ، آپ کا انداز تکلم، تہذیب سے چلنا ، جھک کر بڑوں کا ادب کرنا یہ آپ کی ڈگری کو خود ہی ظاہر کر دے گا کسی کو بتانے کی ضروت نہیں پیش آئے گی۔اس لئے اپنی ماں ، بہن ، بیٹی کو کبھی تعلیم سے مت روکے یہ ان کا حق ہے جو دین اسلام نے ان کو دیا ہے اور جب کوئی چیز اللہ تعالی کی عطا کردہ ہو تو ہم انسان اس قابل کہاں کہ اس پہ سوال اٹھا سکے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL