Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت اور خواب،تحریر:ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

کبھی زندگی کے ہجوم میں چلتے چلتے ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ سب کو سنبھالتے سنبھالتے کہیں وہ خود ہی اپنے وجود سے بچھڑ گیا ہے۔ عورت بھی اسی سفر کی ایک مسافر ہے۔ رشتوں کی ذمہ داریاں، گھر کی مصروفیات اور اپنوں کی خواہشات نبھاتے نبھاتے وہ اکثر اپنی ذات کے ان گوشوں کو خاموش کر دیتی ہے جہاں کبھی خواب سانس لیا کرتے تھے۔ وقت گزرتا رہتا ہے، ذمہ داریاں بڑھتی رہتی ہیں اور خوابوں پر مصلحتوں کی گرد جمتی جاتی ہے، مگر دل کے کسی خاموش دریچے میں وہ خواب پھر بھی زندہ رہتے ہیں۔ شاید اسی لیے کبھی کبھی ایک معمولی سا لمحہ، ایک لفظ یا ایک یاد اس سوئی ہوئی خواہش کو پھر سے جگا دیتی ہے اور انسان خود سے سوال کرتا ہے: کیا میری زندگی صرف دوسروں کے لیے ہے، یا میری اپنی ذات کا بھی کوئی حق ہے؟


ہم خود بھی اپنی اس پہچان کی ذمہ دار ہیں۔ پھر کیوں اپنے خواب پورے کرنے کی ذمہ داری معاشرے کے ہاتھ میں دے دیتی ہیں؟ کیوں یہ توقع رکھتی ہیں کہ معاشرہ ہماری صلاحیتوں کو پہچانے گا، ہماری راہوں میں آسانیاں پیدا کرے گا اور ہمارے خوابوں کو تعبیر عطا کرے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی دوسرا ہماری زندگی کی ذمہ داری مکمل طور پر نہیں اٹھا سکتا۔ اپنے خوابوں کی حفاظت بھی ہمیں خود ہی کرنا ہوگی اور ان کی تعبیر کے لیے قدم بھی خود ہی اٹھانا ہوگا۔


یہاں ہماری بھی غلطی ہے۔ کسی نے ہمارے خوابوں کا ٹھیکہ نہیں اٹھایا۔ جب ہم خود شادی کے بعد اپنے خوابوں کو بھول جاتی ہیں تو کوئی اور انہیں کیوں یاد رکھے گا؟ ہم زندگی کی مصروفیات، گھر کی ذمہ داریوں اور رشتوں کی ترجیحات میں اس قدر محو ہو جاتی ہیں کہ اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا بھی غیر ضروری محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک خواب جو کبھی ہماری آنکھوں میں روشنی بن کر اترا تھا، آہستہ آہستہ ذمہ داریوں کی گرد میں دھندلا جاتا ہے۔


پھر ایک دن ہم پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وقت تو گزر گیا، مگر ہماری ذات کہیں وہیں کھڑی رہ گئی جہاں ہم نے اسے برسوں پہلے چھوڑ دیا تھا۔


لیکن کیا خوابوں کی بھی کوئی میعاد ہوتی ہے؟


کیا شادی کے بعد عورت کے خوابوں کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے؟ کیا ماں بن جانے کے بعد اس کے اندر کی عورت، لکھنے والی، استاد، فنکار، کاروباری شخصیت یا کسی بھی خواب کی خواہش رکھنے والی ذات خاموش ہو جانی چاہیے؟ یقیناً نہیں۔


رشتے ہماری زندگی کو معنویت دیتے ہیں، مگر ہماری مکمل شناخت نہیں بن جاتے۔ عورت کا ماں ہونا اس کی عظمت ہے، بیٹی ہونا اس کی محبت ہے اور بیوی ہونا اس کی زندگی کا ایک خوبصورت رشتہ؛ مگر ان سب کے ساتھ اس کی اپنی ذات بھی موجود ہے۔ وہ ذات جسے پہچاننے، سنوارنے اور زندہ رکھنے کا حق خود اسے حاصل ہے۔


اپنے خوابوں کی طرف لوٹنا رشتوں سے بغاوت نہیں۔ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا خود غرضی نہیں۔ اپنے لیے چند لمحے نکال لینا دوسروں سے محبت کم نہیں کرتا۔ بلکہ جو عورت اپنی ذات کو سمجھتی ہے، وہ اپنے رشتوں کو بھی زیادہ شعور اور خلوص کے ساتھ نبھا سکتی ہے۔


ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ وہ اچھی بیٹی، اچھی بیوی اور اچھی ماں بنیں۔ ہمیں انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ انہیں خواب دیکھنے کا حق ہے، اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا حق ہے اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا حق بھی۔


کیونکہ خواب صرف جوانی کی میراث نہیں ہوتے۔ بعض خواب برسوں تک دل کے کسی خاموش گوشے میں سانس لیتے رہتے ہیں۔ وقت ان پر گرد ضرور ڈال دیتا ہے، مگر اگر خواہش باقی ہو تو انہیں پھر سے زندہ کیا جا سکتا ہے۔ راستے بدل سکتے ہیں، منزل کے فاصلے کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں، مگر سفر دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔


اس لیے دوسروں پر انحصار کرنا چھوڑ دو۔ اپنی پہچان خود بناؤ۔ اپنے خوابوں کو زندہ رکھو۔ اگر زندگی نے تمہیں کسی مقام پر روک دیا تھا تو اسے اپنی آخری منزل مت سمجھو۔ دوبارہ اٹھو، اپنے خوابوں کی گرد جھاڑو اور اپنے سفر کا آغاز کرو۔ شاید تمہیں منزل تک پہنچنے میں وقت لگے، مگر کم از کم اتنا اطمینان تو ہوگا کہ تم نے اپنی ذات کو راستے میں بے آواز نہیں چھوڑا۔


اور جب دنیا تمہیں کسی رشتے کے نام سے پکارے تو مسکرا کر کہنا:


"یہ میرے رشتے ہیں، میری پوری پہچان نہیں۔

میرا بھی ایک نام ہے، میری اپنی ایک ذات ہے،

میرے بھی کچھ خواب ہیں اور میری اپنی ایک کہانی ہے۔

میں نے دوسروں کے لیے جینا نہیں چھوڑا،

بس اب اپنی ذات کو بھی نظرانداز نہیں کروں گی۔

کیونکہ میری کہانی کا قلم کسی اور کے ہاتھ میں نہیں،

یہ قلم میرے ہاتھ میں ہے اور اپنی کہانی مجھے خود لکھنی ہے۔"


ہم نے عورت کو چند رشتوں اور مرتبوں میں تقسیم کر دیا ہے؛ ماں، بیٹی اور بیوی۔ اس کی شناخت جیسے انہی نسبتوں کی محتاج بنا دی گئی ہے۔ اگر عورت کو ہمیشہ انہی ناموں سے مخاطب کیا جائے تو کیا اس کی اپنی پہچان کہیں پسِ پردہ نہیں چلی جاتی؟ کیا اس کا اپنا مقام، اپنا نام اور اپنی کوئی جداگانہ شناخت نہیں؟


یہ سوال محض ایک عورت کا سوال نہیں، ایک پورے معاشرتی رویے کا آئینہ ہے۔ ہم نے صدیوں سے عورت کو رشتوں کے حوالوں سے پہچانا اور شاید اسی تسلسل میں وہ خود بھی اپنی ذات کو انہی حوالوں میں تلاش کرنے لگی۔ کسی کے لیے بیٹی، کسی کے لیے بیوی اور کسی کے لیے ماں بنتے بنتے وہ کبھی کبھی یہ بھول جاتی ہے کہ ان تمام رشتوں سے پہلے وہ ایک مکمل وجود ہے، جس کے اپنے احساسات، اپنی خواہشات، اپنی صلاحیتیں اور اپنے خواب ہیں۔


آخرکار عورت کی شناخت صرف ان نسبتوں سے نہیں بنتی جن کے ساتھ دنیا اسے پکارتی ہے؛ اس کی اصل شناخت اس شعور میں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ذات کو پہچانتی ہے۔ رشتے اس کی زندگی کا حسن ہیں، مگر اس کی پوری ہستی نہیں۔ خواب اس کی کمزوری نہیں، اس کے زندہ ہونے کی علامت ہیں۔


اور شاید اپنی پہچان کی تلاش کا سب سے خوبصورت لمحہ وہی ہوتا ہے، جب عورت دنیا سے نہیں، خود سے پوچھتی ہے:


"سب کے لیے جیتی رہی، مگر میں خود کہاں ہوں؟"


اور پھر اسی سوال کے جواب میں اپنی بکھری ہوئی ذات کو سمیٹ کر، اپنے خوابوں کا ہاتھ تھام کر، اپنی کہانی دوبارہ لکھنا شروع کر دیتی ہے۔