Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خواتین: اپنی صحت کا خود خیال رکھیں،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

ہماری روایتی اور جدید سوسائٹی میں عورت کو قربانی کا ایسا استعارہ بنا دیا گیا ہے جس سے ہر وقت بے لوث خدمت، بے آواز مشقت اور غیر مشروط دستیابی کی امید رکھی جاتی ہے۔ صبح کی پہلی اذان کے ساتھ بیدار ہونے والی آنکھیں رات گئے تک ہر بستر کے درست ہونے اور ہر فرد کے سمیٹے جانے تک کھلی رہتی ہیں۔ گھر داری، چولہا چکی، بچوں کے اسکول کے تقاضے، سسرال اور میکے کے سماجی بندھن، بزرگوں کی بیماریاں اور اس کے اوپر ملازمت یا معاشی تگ و دو کا باریک جال؛ ان سب نے مل کر عورت کے وجود کو ایک ایسے سستے ایندھن میں بدل دیا ہے جو دوسروں کے چراغ روشن کرتے کرتے خود راکھ بن رہا ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ عورت پر بوجھ بہت زیادہ ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس بوجھ کو اٹھاتے ہوئے وہ خود اپنی ذات، اپنی ہڈیوں کے درد، اعصاب کی جکڑن اور روح کی پیاس کو نظر انداز کرنے کو ایک اخلاقی فضیلت سمجھنے لگی ہے۔ وہ بھول چکی ہے کہ جو چراغ خود بجھ جائے، وہ کسی دوسرے آنگن میں روشنی بکھیرنے کے لائق نہیں رہتا۔

اس مسلسل بھاگ دوڑ کا سب سے ہولناک نتیجہ خواتین کی تباہ ہوتی ہوئی جسمانی صحت کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت ناشتے کے نام پر چائے کے ایک دو گھونٹ یا بچا ہوا نوالہ نگل کر میدانِ عمل میں کود پڑتی ہے۔ دن بھر کی مصروفیات میں پیاس کی شدت کو یہ کہہ کر دبا دیا جاتا ہے کہ ابھی وقت نہیں، اور بھوک کو بازاری بسکٹوں یا بچوں کے بچائے ہوئے کھانوں سے بہلا لیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تیس بتیس سال کی عمر کو پہنچتے ہی ہڈیاں کھوکھلی، خون کے سرخ خلیات کم اور چہرے کی رونق غائب ہونے لگتی ہے۔ خون کی کمی یعنی اینیمیا آج ہماری پچاس فیصد سے زائد خواتین کا پوشیدہ ناسور بن چکا ہے۔ آئرن، وٹامن ڈی اور کیلشیم کی مستقل قلت انہیں قبل از وقت مہروں کے امراض، گھٹنوں کے درد اور دائمی تھکن کے ایسے جال میں جکڑ دیتی ہے جہاں سے واپسی کے راستے مسدود نظر آتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ مسلسل تناؤ اور کورٹیسول ہارمون کی زیادتی ان کے نازک ہارمونل نظام کو درہم برہم کر کے تھائرائیڈ کی خرابی، موٹاپے، ماہواری کی بے قاعدگی اور مائیگرین کا مستقل تحفہ دے ڈالتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تیز رفتار اور سنگ دل دور میں زندگی کا وہ کون سا معتدل اور قابلِ عمل حل ہے جو عورت کو اس فرسودہ گھن چکر سے نکال کر ایک باوقار، صحت مند اور پرسکون طرزِ زندگی عطا کر سکے؟ اس کا پہلا اور بنیادی تقاضا ترجیحات کے ازسرنو تعین میں پوشیدہ ہے۔ عورت کو اپنے باطن میں یہ پختہ یقین پیدا کرنا ہوگا کہ خود کی دیکھ بھال کوئی خود غرضی یا عیاشی نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔ دن کا آغاز ہڑبونگ اور افراتفری سے کرنے کے بجائے صرف آدھا گھنٹہ قبل بیدار ہونے کی عادت اپنائی جائے۔ یہ آدھا گھنٹہ گھر کے کسی فرد کا نہیں بلکہ اس کی اپنی ذات کا ہو۔ کھڑکی کھول کر صبح کی تازہ ہوا میں لمبے سانس لینا، ہلکی سی اسٹریچنگ کرنا اور سب سے بڑھ کر بغیر کسی دباؤ کے ایک متوازن، پرسکون اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ کرنا معمول بنایا جائے۔ ایک ابلا ہوا انڈا، دلیہ یا دہی کے چند چمچ اور سادہ پانی کا ایک بڑا گلاس وہ ایندھن ہے جو دن بھر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعصاب کو فولادی طاقت فراہم کرتا ہے۔

بہتر طرزِ زندگی کا دوسرا ستون باورچی خانے اور دفتری میز پر کام کے زاویوں کو سدھارنا ہے۔ ماربل کے برفیلے فرش پر مسلسل ننگے پاؤں کھڑے ہو کر کھانا پکانا یا ٹیڑھے ہو کر برتن دھونا ریڑھ کی ہڈی اور پیروں کی رگوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ پیروں کے نیچے نرم چٹائی، کام کے دوران چند لمحوں کے لیے بیٹھنے کا وقفہ اور ٹانگوں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ نہ ڈالنا وہ معمولی احتیاطیں ہیں جو ویریکوز وینز اور کمر کے درد سے بچاتی ہیں۔ اسی طرح دن بھر میں پانی پینے کو ایک فریضے کی طرح نبھانا چاہیے۔ کام کی جگہ ہو یا باورچی خانہ، پانی کی ایک بوتل سامنے رکھی ہو تاکہ ہر گھنٹے بعد چند گھونٹ گلے سے اتر کر گردوں کی صفائی اور میٹابولزم کی بحالی کرتے رہیں۔ چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس پر انحصار ختم کر کے سادہ پانی، لیموں پانی یا سبز قہوے کو رواج دیا جائے۔

سب سے انقلابی تبدیلی سوچ کے اس زاویے میں لانی ہوگی کہ سارا گھر تنِ تنہا عورت نے ہی سنبھالنا ہے۔ ملٹی ٹاسکنگ کے خبط سے نکل کر ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم ہی صحت مند گھرانے کی ضمانت ہے۔ بچوں کو ان کے جوتے خود پالش کرنے، پلیٹیں سنبھالنے اور بستر درست کرنے کی عادت ڈالی جائے اور شریکِ حیات کو گھریلو ذمہ داریوں میں شریک کیا جائے۔ یہ عمل نہ صرف عورت کے سر سے غیر ضروری مشقت کا بوجھ اتارے گا بلکہ نئی نسل کو خود کفیل اور احساس رکھنے والا انسان بھی بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر خاتون کو اپنے لیے روزانہ شام یا رات کے وقت کم از کم پندرہ سے بیس منٹ کی ایسی خلوت ضرور نکالنی چاہیے جس میں موبائل اسکرین، ٹی وی کا شور اور دنیا کے مسائل بالکل بند ہوں۔ اس خاموشی میں بیٹھنا اعصابی نظام کو پرسکون کرتا ہے اور دماغ کے تنے ہوئے تاروں کو ڈھیلا چھوڑنے میں مدد دیتا ہے۔

عورت کو اپنی سالگرہ پر کپڑے یا زیورات خریدنے سے زیادہ اپنی صحت کے لیے سالانہ طبی معائنے کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ سال میں ایک بار خون کا مکمل معائنہ، وٹامن بی بارہ، وٹامن ڈی اور تھائرائیڈ کے ٹیسٹ کروانا کوئی شاہانہ خرچ نہیں بلکہ ایک بنیادی تحفظ ہے۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو اس پر کھڑی کی گئی عمارت بھلا کتنے دن قائم رہ سکتی ہے؟ ایک مسکراتی، توانا، درد سے آزاد اور پرسکون عورت ہی اپنے آنگن میں محبت کی خوشبو بکھیر سکتی ہے اور اپنی اولاد کو ایک پرامید اور توانا مستقبل سونپ سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عورت اپنے وجود کی حرمت کو سمجھے، اپنے جسم کی فزیالوجی کا احترام کرے اور سست یا تباہ کن معمولات کو ترک کر کے ایک مربوط، متوازن اور باوقار طرزِ حیات کی طرف قدم بڑھائے۔