بھگوال سے پاکستان تک، عوام کے مسائل کون سنے گا؟ تحریر: جلیل نقوی
نقطہ نظر
کبھی فرصت ملے تو اپنے اردگرد نظر ضرور دوڑائیے۔ اپنے گاؤں کی گلیوں میں چلتے ہوئے ان لوگوں کے چہروں کو دیکھیے جو سارا دن محنت کرتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے خواب دیکھتے ہیں اور اس امید پر زندگی گزارتے ہیں کہ شاید آنے والا کل آج سے بہتر ہو۔ ان کے پاس بڑی بڑی خواہشات نہیں ہوتیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ گھر کا چولہا جلتا رہے، بچے اچھے اسکول میں پڑھیں، بیمار ہوں تو علاج ہو جائے اور ان کی محنت کا انہیں مناسب صلہ ملے۔
میرا تعلق بھگوال سے ہے۔ میں جب اپنے گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ عام آدمی کے مسائل صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں۔ دیہات میں رہنے والا شخص بھی اسی مہنگائی کا سامنا کرتا ہے، اسی بجلی کے بل سے پریشان ہوتا ہے اور اسی طرح اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے فکر مند رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بڑے شہروں میں بعض سہولتیں قریب مل جاتی ہیں، جبکہ دیہات کے لوگوں کو کئی بنیادی ضروریات کے لیے بھی دور جانا پڑتا ہے۔
ذرا ایک ایسے باپ کا تصور کریں جو صبح گھر سے مزدوری کے لیے نکلتا ہے۔ وہ سارا دن محنت کرتا ہے، دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے، مگر شام کو جب گھر واپس آتا ہے تو بچوں کی فرمائشیں اس کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔ کسی بچے کو نئی کتاب چاہیے، کسی کی اسکول فیس جمع کرانی ہے اور کسی کے جوتے پھٹ چکے ہیں۔ باپ بچوں کے سامنے مسکرا تو دیتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ فکر رہتی ہے کہ کل کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے۔ یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں، ہمارے معاشرے کے بہت سے گھروں کی حقیقت ہے۔
بھگوال جیسے دیہات میں رہنے والے لوگوں کے لیے تعلیم، صحت، روزگار اور آمدورفت کی سہولتیں بہت اہم ہیں۔ کسی گھر میں بچہ بیمار ہو جائے تو والدین کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اسے جلد از جلد ڈاکٹر تک پہنچایا جائے۔ کسی غریب گھرانے کے لیے علاج کے اخراجات پورے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر مقامی سطح پر بنیادی طبی سہولتیں بہتر ہوں اور ضرورت کے وقت بروقت علاج میسر آ جائے تو کئی خاندانوں کی پریشانی کم ہو سکتی ہے۔
تعلیم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہر ماں باپ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ پڑھے، آگے بڑھے اور اس کی زندگی اپنے والدین سے بہتر ہو۔ لیکن خواہش اور حقیقت کے درمیان اخراجات، سفری مشکلات اور دوسری رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ہمارے دیہات کے بچوں میں بھی صلاحیت کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی اور آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔ کسی غریب کا بچہ صرف اس وجہ سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے کہ اس کے والد کے پاس وسائل کم ہیں۔
ایک اور مسئلہ روزگار کا ہے۔ ہمارے گاؤں اور گردونواح کے بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ کوئی تعلیم مکمل کرکے نوکری تلاش کرتا ہے، کوئی اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے اور کوئی اپنے گھر والوں کا سہارا بننے کے لیے محنت کرتا ہے۔ لیکن جب مواقع کم ہوں اور اخراجات زیادہ، تو نوجوان کے لیے آگے بڑھنا آسان نہیں رہتا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف نصیحتیں نہیں کرنی چاہئیں، بلکہ ان کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے چاہئیں جن سے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
دیہات میں سڑکیں اور آمدورفت بھی عام آدمی کی زندگی سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ایک طالب علم کو روزانہ تعلیم کے لیے سفر کرنا ہوتا ہے، ایک مزدور کو کام پر پہنچنا ہوتا ہے اور ایک مریض کو ضرورت پڑنے پر علاج کے لیے جانا ہوتا ہے۔ اگر راستہ مشکل ہو، سواری آسانی سے نہ ملے یا سفر پر زیادہ خرچ آئے تو اس کا اثر براہِ راست لوگوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔ یہ معمولی دکھائی دینے والی مشکلات دراصل غریب آدمی کے لیے بڑی پریشانیاں بن جاتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دیہات کے لوگوں کی آواز متعلقہ اداروں اور منتخب نمائندوں تک کتنی مؤثر انداز میں پہنچتی ہے۔ انتخابات کے دنوں میں عوام سے رابطے کیے جاتے ہیں، وعدے بھی ہوتے ہیں اور امیدیں بھی دلائی جاتی ہیں۔ لیکن اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی شہری اپنے علاقے کے مسئلے کے حل کے لیے کسی دفتر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اسے عزت سے سنا جائے، اس کی درخواست پر توجہ دی جائے اور اسے بار بار چکر لگانے کے بجائے مناسب رہنمائی ملے، یہی اچھی عوامی خدمت ہے۔
یہ بات صرف بھگوال کی نہیں، چکوال کے دوسرے دیہات اور پاکستان کے ان تمام علاقوں کی ہے جہاں لوگ بنیادی سہولتوں کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ کسی کو صاف پانی کی ضرورت ہے، کسی کو بہتر سڑک کی، کسی کو اسکول میں سہولتوں کی اور کسی کو علاج کی۔ ہر علاقے کے مسائل مختلف ہو سکتے ہیں، مگر عام آدمی کی خواہش ایک ہی ہے کہ اس کی زندگی آسان ہو اور اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔
سیاست اپنی جگہ، اختلافات بھی اپنی جگہ، مگر عوامی مسائل پر سب کو ایک ہونا چاہیے۔ کسی گاؤں میں ترقیاتی کام ہو تو اس کا فائدہ ہر شہری کو ملنا چاہیے۔ کسی علاقے میں سہولتوں کی کمی ہو تو اسے سیاسی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عوام کے ووٹ کی اہمیت صرف انتخابی دن تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان کے مسائل کو پورے عرصے میں اہمیت ملنی چاہیے۔
صحافت سے وابستہ ہونے کے ناتے میرا ماننا ہے کہ عوام کے مسائل کو سامنے لانا بہت ضروری ہے۔ صحافت کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں کہ کہاں کیا ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ایک عام شہری کی آواز جب ذمہ داری کے ساتھ متعلقہ حکام تک پہنچتی ہے تو امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید کسی کی مشکل کم ہو جائے۔
میں اپنے گاؤں بھگوال سمیت ہر اس علاقے کے لوگوں کے لیے بہتر حالات دیکھنا چاہتا ہوں جہاں والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں، نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں اور بزرگ بنیادی سہولتوں کی امید رکھتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے دیہات میں بھی ترقی کے ایسے مواقع ہوں کہ لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ عوام کو بہت زیادہ نہیں چاہیے۔ انہیں ایسا نظام چاہیے جہاں ان کی بات سنی جائے، ان کے ساتھ عزت سے پیش آیا جائے اور ان کے جائز مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک بچے کے ہاتھ میں کتاب، ایک مریض کے لیے بروقت علاج، ایک نوجوان کے لیے روزگار اور ایک مزدور کے گھر میں سکون، یہی وہ چیزیں ہیں جو زندگی کو بہتر بناتی ہیں۔
ترقی صرف سڑکیں بنانے یا عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں۔ اصل ترقی تب ہوتی ہے جب ایک غریب باپ رات کو یہ سوچ کر سکون سے سوئے کہ کل اس کے بچوں کو بھوکا نہیں رہنا پڑے گا، ایک نوجوان کو اپنے مستقبل سے مایوسی نہ ہو اور ایک عام شہری کو اپنے حق کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔
یہی خواب بھگوال کے لیے بھی ہے، چکوال کے لیے بھی اور پورے پاکستان کے لیے بھی۔ کیونکہ آخرکار ملک کی اصل طاقت اس کے عام لوگ ہیں، اور جب عام آدمی کی زندگی بہتر ہوگی، تبھی ہم حقیقی ترقی کی بات کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں





