ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

یومِ تاسیسِ کشمیر،وجود، آزادی اور فکر کا فلسفہ،تحریر: عظمیٰ شیخ

نقطہ نظر

چوبیس اکتوبر سن انیس سو سینتالیس کا دن محض ایک سرکاری اعلان کا دن نہیں تھا بلکہ انسانی شعور کے اس بنیادی سوال کا جواب ہے کہ قومیں کیوں اور کیسے زندہ رہتی ہیں؟ ہیگل نے کہا تھا کہ تاریخ میں قومیں اپنے وجود کا جواز تلاش کرتی ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کا قیام اسی جواز کی تلاش تھی۔ تحقیق بتاتی ہے کہ 1947ء سے قبل کشمیر میں پچانوے فیصد آبادی مسلمان تھی، جب کہ حکمران ڈوگرہ خاندان تھا۔ برطانوی مؤرخ ایلسٹر لیمب اپنی کتاب "Kashmir: A Disputed Legacy" میں لکھتے ہیں کہ مہاراجہ کا بھارت کے ساتھ الحاق عوامی خواہشات کے صریحاً خلاف تھا۔ اسی غیر فطری الحاق کے خلاف سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں 24 اکتوبر کو آزاد حکومت قائم کی گئی۔ یہ حکومت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 سے بھی پہلے وجود میں آ چکی تھی، جس میں 21 اپریل 1948ء کو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو باقاعدہ تسلیم کیا گیا تھا۔

فلسفے کی رو سے دیکھا جائے تو آزادی صرف بیرونی جبر سے نجات کا نام نہیں، بلکہ اندرونی شعور کی بیداری کا نام ہے۔ علامہ اقبال نے اسی نکتے کو یوں بیان کیا تھا: "آزادیِ افکار سے ہے ان کی تباہی، رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ"۔ اقبال کشمیر کو محض ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک روحانی استعارہ سمجھتے تھے، اسی لیے انہوں نے کہا: "سیرِ فلک نے عیشِ دوام اپنا کھویا، آبِ تیرے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب"۔ کشمیر کی غلامی دراصل انسانی فکر کی غلامی ہے، جب تک کشمیری آزاد نہیں، برصغیر کا ضمیر آزاد نہیں ہو سکتا۔ سر سید احمد خان، جن کے نام پر ہمارا ادارہ قائم ہے، نے فرمایا تھا: "قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں ہے"۔ اگر ہم کشمیر کے مسئلے کو صرف نعروں تک محدود رکھیں گے، تو ہم سر سید کے اس بنیادی فلسفے سے انحراف کریں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم کے ذریعے یہ سمجھانا ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ جغرافیہ کا نہیں، بلکہ نظریے کا ہے۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا: "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے"۔ شہ رگ کا کٹنا موت کے مترادف ہے، اس لیے کشمیر سے لاتعلقی دراصل اپنی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک وجودیاتی مسئلہ ہے، سیاسی نہیں۔ فیض احمد فیض نے مقبوضہ وادی کی موجودہ تصویر کو اپنے لازوال شعر میں یوں کھینچا ہے: "نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں، چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے"۔ یہی وہ رسم ہے، جو آج مقبوضہ کشمیر میں رائج ہے، جہاں سر اٹھانے کی سزا پیلٹ گن ہے۔ جرمن فلسفی کانٹ نے کہا تھا: "تعلیم ہی انسان کو انسان بناتی ہے"۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو کشمیر کا مقدمہ دلیل سے نہ سکھایا، تو کل وہ اسے بھول جائیں گے۔

ایک ہیڈ مسٹریس کے طور پر، میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا اصل جہاد قلم کا جہاد ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کوپاکستان اور کشمیر کے جھنڈے ایک ساتھ تھماتے ہیں، تو ہم ان کے ذہن میں دو قومی نظریے کی تجدید کرتے ہیں۔ میں نے اسی مقصد کے لیے ہر سال 24 اکتوبر کو فکرِ کشمیر کے عنوان سے اپنے بچوں کے درمیان مباحثہ کرواتے ہیں، اپنی لائبریری میں کشمیر نامہ کے نام سے ایک گوشہ مختص ہے, اور اقبال کا یہ شعر ہر کلاس میں یاد کرواتے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

چوبیس اکتوبر یومِ تاسیس کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاستیں لڑائی سے نہیں نظریے سے بنتی ہیں۔ آزاد کشمیر کا قیام اسی نظریے کی فتح تھا۔ میری دعا ہے کہ وہ دن جلد آئے ۔ اللہ کشمیر کو آزادی نصیب فرمائے آمین ثم آمین .

کشمیر بنے گا پاکستان! پاکستان زندہ باد، کشمیر پائندہ باد!