Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کو سیاسی ایندھن بننے سے بچائیے ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

shahid naseem

سیاست جمہوریت کا حسن ہے، اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کی پہچان ہے اور پُرامن احتجاج شہریوں کا آئینی حق ہے۔ لیکن جب سیاست سڑکوں پر نکلتی ہے تو اس کے ساتھ ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے: عوام کی جان و مال کا تحفظ، شہری زندگی کا تسلسل، ریاستی اداروں کا احترام اور سب سے بڑھ کر نئی نسل کے مستقبل کی حفاظت۔

پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، ان میں سیاسی کشیدگی کو تصادم میں تبدیل کرنا کسی بھی سیاسی جماعت، حکومت یا عوام کے مفاد میں نہیں۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے چیلنجز، پاک افغان سرحدی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات اور ملک کے معاشی مسائل پہلے ہی ہماری اجتماعی توجہ کے طالب ہیں۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی طرف ایک بڑا سیاسی مارچ، راستوں کی بندش، کنٹینرز، پولیس کی بھاری تعیناتی اور ممکنہ تصادم کا خدشہ عام آدمی کے لیے ایک اضافی آزمائش بن جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال نے ملک بھر میں سیاسی بحث کو گرم کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔ ان کے مطابق سیاسی کمیٹی میں مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور احتجاج کو پُرامن رکھنے کا مؤقف بھی سامنے آیا۔ دوسری طرف اپوزیشن کے بعض رہنماؤں، خصوصاً محمود خان اچکزئی، کی جانب سے تاریخ مؤخر کرنے کی مخالفت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

یہ اختلاف خود ایک اہم سیاسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ احتجاج کی حکمت عملی پر سیاسی صفوں میں مکمل یکسوئی موجود نہیں۔ اگر ایک سیاسی تحریک کا مقصد واقعی عوامی حمایت اور آئینی جدوجہد ہے تو اس کی کامیابی کا راستہ دلیل، عوامی رابطے، پارلیمانی جدوجہد، عدالت اور پُرامن سیاسی سرگرمی سے نکلنا چاہیے، نہ کہ ایسی صورتحال سے جہاں عام شہری خوف، بے یقینی اور مشکلات کا شکار ہو جائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کے پاس مطلوبہ تیاری نہیں تھی اور چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو لانگ مارچ کیا جائے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی سے متعلق بھی شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ حکومت کے یہ الزامات اپنی جگہ سیاسی دعوے ہیں اور ان کی ذمہ داری متعلقہ حکام اور اداروں پر ہے کہ وہ ثبوت کے ساتھ ان کی وضاحت کریں۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال سیاسی جماعتوں سے نہیں، ہم سب سے ہے:

کیا ہمارے سیاسی اختلاف کی قیمت ہمارے بچے ادا کریں؟

ایک عام مزدور جو صبح اپنے کام پر جاتا ہے، ایک دکاندار جو روزانہ کی کمائی سے گھر چلاتا ہے، ایک طالب علم جو امتحان کی تیاری کر رہا ہے، ایک مریض جسے ہسپتال پہنچنا ہے، ایک والد جو اپنے بچے کو اسکول چھوڑنے جا رہا ہے—ان سب کا سیاست سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، مگر انہیں سڑکوں کی بندش، خوف اور تصادم کی قیمت کیوں ادا کرنی چاہیے؟

سیاسی کارکن بھی کسی کے دشمن نہیں۔ وہ بھی کسی کے بیٹے، بھائی، باپ یا شوہر ہیں۔ انہیں جلسے اور احتجاج کے لیے بلانے والے قائدین کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کارکنوں کا خون کسی سیاسی مقصد کی قیمت نہیں بننا چاہیے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے، جبکہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں۔ احتجاج ہو تو پُرامن ہو، راستہ روکا جائے تو قانونی طریقہ اختیار کیا جائے، مطالبات ہوں تو مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جائے اور اختلاف ہو تو دلیل سے کیا جائے۔

پاکستان کو سیاسی جنگ نہیں، سیاسی بلوغت چاہیے۔

آج ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سیاسی نعروں کے درمیان اصل پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر جذباتی ویڈیوز، بلند آواز بیانات، ایک دوسرے پر الزامات اور طاقت کے مظاہرے ہیں، جبکہ دوسری طرف عام آدمی مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت، بجلی، گیس اور امن و امان جیسے بنیادی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

عوام کو ہر بار یہ بتایا جاتا ہے کہ فلاں مارچ سے انقلاب آئے گا، فلاں دھرنے سے نظام بدل جائے گا، فلاں احتجاج سے سب مسائل حل ہو جائیں گے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ ضرور سکھاتی ہے کہ کسی ملک کی پائیدار ترقی صرف نعروں اور سڑکوں پر طاقت کے اظہار سے نہیں ہوتی۔ اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی، تعلیم، معیشت، روزگار، احتساب اور سیاسی مکالمہ ہی ریاست کو آگے لے جاتے ہیں۔

یہاں حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف سیاسی مخالفین کو چیلنج کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر حکومت قانون کی بالادستی چاہتی ہے تو اسے قانون کا اطلاق بلاامتیاز کرنا ہوگا۔ پُرامن احتجاج کی اجازت آئینی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان، پولیس یا شہریوں پر حملہ اور زبردستی راستے کھلوانے کی کوشش کسی کے لیے قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔

اسی طرح احتجاج کرنے والوں کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ پُرامن احتجاج کا مطلب قانون شکنی نہیں۔

اگر کسی سیاسی جماعت کو اپنے مطالبات پر عوامی حمایت حاصل ہے تو وہ اسے ووٹ، پارلیمنٹ، جلسوں، میڈیا، عدالت اور منظم سیاسی رابطے کے ذریعے ثابت کرے۔ عوام کو اپنے ساتھ لانا ایک جمہوری عمل ہے، لیکن عوام کو مشتعل کرکے ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی طرف لے جانا پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ بچوں اور نوجوانوں پر دینی چاہیے۔

میں پاکستان کے والدین سے خصوصی اپیل کرتا ہوں:

اپنے بچوں کو سیاسی نفرت کا ایندھن نہ بننے دیں۔

انہیں ہر وائرل ویڈیو کو حقیقت سمجھنے سے روکیں۔

انہیں سوشل میڈیا کے نعروں کے بجائے تحقیق، دلیل اور قانون کی اہمیت سمجھائیں۔

انہیں یہ بتائیں کہ سیاسی اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن بننے سے پہلے وہ پاکستان کے ذمہ دار شہری بنیں۔

اپنے معصوم بچوں کو سبز باغ دکھانے والوں سے محفوظ رکھیں۔

ہر وہ شخص جو نوجوانوں سے یہ کہتا ہے کہ تم سڑک پر آؤ، تم لڑو، تم قربانی دو، تم گرفتاری دو، تم تصادم کا سامنا کرو—اس سے ایک سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے:

آپ اپنے بچے کو کہاں بھیج رہے ہیں؟

اگر سیاسی رہنما اپنے کارکنوں کے بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سیاست کا راستہ بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔

ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ قربانی اور نقصان میں فرق ہے، سیاسی جدوجہد اور سیاسی تصادم میں فرق ہے، احتجاج اور انتشار میں فرق ہے۔

ملک میں سیاسی اختلاف رہے، ضرور رہے۔ حکومت پر تنقید ہو، ضرور ہو۔ اپوزیشن حکومت سے سوال کرے، ضرور کرے۔ حکومت اپوزیشن کی پالیسیوں پر تنقید کرے، یہ بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔ لیکن یہ سب کچھ آئین، قانون اور اخلاقی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔

آج جب ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہیں اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان کے مسائل موجود ہیں، ہمیں اپنی ترجیحات پر بھی غور کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے اعدادوشمار پیش کیے ہیں؛ ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق اور تفصیلی سرکاری ریکارڈ اپنی جگہ اہم ہے، مگر دہشت گردی کے مسئلے کی سنگینی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے ماحول میں سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔ اگر کسی صوبے میں امن کا مسئلہ ہے تو سیاسی اختلاف سے بالاتر ہوکر اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کسی ایک جماعت کا نہیں، 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔

یہ ملک مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام یا کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں۔ تمام جماعتیں آئین کے تحت سیاسی جدوجہد کرتی ہیں اور اقتدار عوام کے ووٹ سے آتا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاست باقی رہتی ہے۔

اسی لیے کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جس سڑک پر احتجاج کر رہا ہے، وہاں سے کسی مخالف جماعت کا نہیں بلکہ اسی پاکستان کا شہری گزر رہا ہے۔ جس دکان کا شٹر بند ہوتا ہے، وہ کسی مخالف سیاسی جماعت کے رہنما کا نہیں بلکہ ایک عام پاکستانی کا روزگار ہے۔ جس ایمبولینس کو راستہ نہیں ملتا، اس میں کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ کسی پاکستانی کا مریض ہوتا ہے۔

اور جس بچے کی تعلیم احتجاج کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے، وہ پاکستان کا مستقبل ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت بھی اشتعال انگیزی سے بچے اور اپوزیشن بھی۔ سیاسی جماعتیں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ اختلافات کو پارلیمنٹ اور آئینی فورمز پر لے جائیں۔ احتجاج ہو تو انتظامیہ اور منتظمین پہلے سے واضح ضابطۂ کار طے کریں۔ کارکنوں کو قانون کی پابندی کا پابند کیا جائے اور ریاستی ادارے بھی طاقت کے استعمال میں قانون اور ضرورت کے اصولوں کو ملحوظ رکھیں۔

عطاء اللہ تارڑ کا یہ کہنا کہ ’’لوگ اکٹھے نہ ہونے کے باعث لانگ مارچ سے بھاگ گئے‘‘ ایک حکومتی سیاسی مؤقف ہے؛ دوسری طرف پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ مارچ آئینی حقوق اور سیاسی مطالبات کے لیے ہے اور اسے پُرامن رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اصل امتحان اب الفاظ کا نہیں، عمل کا ہے۔

اگر مارچ ہوتا ہے تو کیا وہ واقعی پُرامن رہتا ہے؟

کیا کارکن قانون ہاتھ میں نہیں لیتے؟

کیا حکومت آئینی حدود میں رہتے ہوئے امن قائم رکھتی ہے؟

کیا مذاکرات کا دروازہ کھلا رہتا ہے؟

اور کیا کسی پاکستانی کا بیٹا، بھائی یا باپ سیاسی تصادم میں زخمی یا جاں بحق نہیں ہوتا؟

یہ سوال کسی ایک جماعت کے نہیں، پورے پاکستان کے ہیں۔

آئیے سیاست کو سیاست رہنے دیں، جنگ نہ بنائیں۔

اپنے بچوں کو نفرت نہیں، دلیل دیں۔

انہیں تصادم نہیں، آئین سکھائیں۔

انہیں شخصیت پرستی نہیں، کردار اور شعور دیں۔

انہیں یہ بتائیں کہ پاکستان کا مستقبل سڑکوں پر لڑنے سے نہیں بلکہ تعلیم، محنت، قانون، تحقیق، برداشت اور اتحاد سے تعمیر ہوگا۔

سیاسی جماعتیں اپنی جدوجہد کرتی رہیں، حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے، مگر عوام اپنے بچوں کے مستقبل کو ہر سیاسی کشمکش سے محفوظ رکھیں۔

کیونکہ حکومتیں بدل سکتی ہیں، سیاسی جماعتیں بدل سکتی ہیں، نعرے بدل سکتے ہیں، مگر ہمارے بچوں کا بچپن اور ان کا مستقبل واپس نہیں آتا۔

آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان دینا چاہتے ہیں جہاں اختلاف کے باوجود لوگ ایک دوسرے کی جان و مال کا احترام کریں، یا ایسا ماحول جہاں سیاسی نعروں کی آگ میں عام آدمی کا سکون جلتا رہے۔

پاکستان کو انتشار نہیں، استحکام چاہیے۔

پاکستان کو تصادم نہیں، مکالمہ چاہیے۔

پاکستان کو نفرت نہیں، برداشت چاہیے۔

اور ہمارے بچوں کو سبز باغ نہیں، محفوظ اور روشن مستقبل چاہیے۔

اپنے بچوں کو سیاسی تصادم کا ایندھن نہ بننے دیں۔ہوشیار باش۔!