بدلتی دنیا اور نیا انسانی شعور،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
اگر ہم انسانی معاشرے کی ساخت اور اس کے ارتقا کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہیں تو ہمیں سب سے پہلے وقت اور انسانی شعور کے باہمی تعلق پر غور کرنا ہوگا۔ تاریخ کے ابتدائی ادوار کا مشاہدہ کیجیے تو یہ نکتہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ انسان صدیوں تک ایک ایسے تالاب کی مانند زندگی گزارتا رہا جس کا پانی ساکت اور ٹھہرا ہوا تھا۔ اُس پرانے دور میں ”نسل“ کا مفہوم کسی گہرے فکری یا معاشرتی فرق کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ محض ایک حیاتیاتی تسلسل تھا۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ تھا کہ خون کا رشتہ ایک دادا سے باپ اور باپ سے پوتے تک کیسے منتقل ہو رہا ہے۔ غور فرمائیے کہ اُس زمانے میں کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی دنیا جوں کی توں رہتی تھی۔ دادا جس ماحول میں سانس لیتا، باپ بھی اسی میں پروان چڑھتا اور پوتا بھی ہو بہو اسی ڈگر پر چل نکلتا۔ کسان کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ یہ پہلے سے جانتا تھا کہ اس کے ہاتھ میں ہل کی لکڑی ہی آنی ہے، اور ایک لوہار یا بڑھئی کے بچے کو کبھی یہ سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی کہ وہ اپنے آبا کے اوزاروں کے علاوہ بھی کچھ اور کر سکتا ہے۔ زندگی ایک بند دائرے میں گھومتی تھی جہاں خیالات، پیشے اور اقدار پتھر پر لکیر کی طرح نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے تھے اور کسی نئی سوچ یا بدلاؤ کا کوئی امکان پیدا نہیں ہوتا تھا۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کا ہے اور وہ یہ کہ انسانی سماج میں اصل ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب اٹھارویں اور انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے جنم لیا۔ آپ تاریخ کے اس موڑ کو صرف کارخانوں اور مشینوں کے آنے تک محدود مت سمجھیے، بلکہ یہ درحقیقت انسانی ذہن کے بدلنے کا آغاز تھا۔ جب دخانی انجن چلے، چمنیوں سے دھواں اٹھا اور کارخانوں کے پہیے گھومے، تو انسان اپنے آبائی دیہاتوں اور موروثی پیشوں کی خاموشی چھوڑ کر پرہجوم شہروں کی طرف لپکا۔ اس منتقلی نے صدیوں سے قائم خاندانی ڈھانچے کو جڑ سے ہلا دیا۔ اب پہلی بار ایسا ہوا کہ انسان کا رزق اس کے خاندانی ہنر یا موروثی زمین سے وابستہ نہ رہا، بلکہ کارخانے کی گھنٹی، طے شدہ اوقات اور نقد اجرت اس کی روزمرہ زندگی کا پیمانہ بن گئے۔ مواصلات کے ذرائع نے پھیلنا شروع کیا اور دنیا کا پھیلاؤ سمٹنے لگا۔ اس تمام عمل کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان نے تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ محض پندرہ یا بیس برس بعد پیدا ہونے والا بچہ اپنے بزرگوں سے بالکل مختلف انداز میں سوچ رہا ہے۔
اب دیکھیے کہ عمرانیات اور آبادیات کے ماہرین نے اس تبدیلی کو کس زاویے سے پرکھا۔ جب یہ دیکھا گیا کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے باپ اور بیٹے کے درمیان سوچ کا واضح فرق آ چکا ہے، تو نسل کی تعریف بدل دی گئی۔ ماہرین نے سمجھایا کہ نسل اب محض خون کی رگوں یا شجرۂ نسب کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ مشترکہ معاشی، فکری اور مادی حالات کا پیدا کردہ ایک اجتماعی شعور ہے۔ آپ اس کی باریکی کو یوں سمجھیے کہ جس نوجوان نے اپنی آنکھوں کے سامنے کارخانے، ریل کی پٹریاں، مزدوروں کی تحریکیں اور چھپنے والے اخبارات دیکھے ہوں، وہ اپنے اُس والد کی زبان اور سوچ کو کیسے اپنا سکتا تھا جس کی پوری کائنات صرف اپنے کھیت کی منڈیر یا ہاتھ کے اوزاروں تک محدود تھی؟ یوں ہر نئے دور کے چیلنجز، خواب، خوف اور ترجیحات اپنے سے پچھلے دور سے یکسر جدا ہو گئیں۔
اسی مقام سے وہ خلا جنم لیتا ہے جسے ہم اور آپ آج ”جنریشن گیپ“ یا فکری خلیج کہتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ روایتی معاشرے میں بزرگ کے احترام کی ایک بڑی بنیاد یہ تھی کہ وہ علم اور ہنر کا واحد سرچشمہ سمجھا جاتا تھا؛ یعنی جو تجربہ بزرگ کے پاس تھا، نوجوان کے پاس اس تک پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ مگر صنعتی دور نے اس مروجہ اصول کو توڑ دیا۔ نئی ٹیکنالوجی اور تیزی سے بدلتے علوم نے یہ صورتحال پیدا کر دی کہ نئی نسل کے پاس وہ مہارتیں آنے لگیں جن کا بوڑھے باپ کو علم تک نہیں تھا۔ نتیجتاً بزرگوں کی موروثی برتری اور حتمی اختیار کی جگہ نئے تقاضوں نے لے لی۔ نوجوان اب اپنے بزرگوں کی تقلید کے بجائے اپنے ہم عصروں، اپنی جماعت اور اپنے معاشرتی ماحول کی عادات کو زیادہ تیزی سے اپنانے لگا۔
اگر ہم اس پوری بحث کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جب انسان نے زرعی جمود کو توڑ کر صنعتی اور مشینی رفتار کو اپنایا، تو اس نے وقت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کر لیا۔ اس تبدیلی نے اگر ایک طرف ترقی کے بے شمار دروازے کھولے تو دوسری طرف انسانی تعلقات کو مستقل بے چینی اور تیزی سے بھی دوچار کر دیا۔ آج ہم جس کمپیوٹر اور تیز رفتار معلومات کے عہد میں زندگی گزار رہے ہیں، یہ دراصل اسی صنعتی انقلاب کی ہی ایک انتہا ہے۔ آج تو خلیج پندرہ بیس سال کی بھی نہیں رہی بلکہ ہر چند برسوں میں سوچ کا پورا زاویہ بدل جاتا ہے۔ لہٰذا یہ سمجھنا اشد ضروری ہے کہ نئی نسلوں سے مکالمہ قائم کرنے کے لیے پرانے زمانے کی موروثی یکسانیت کی توقع رکھنا عبث ہے؛ اب نسلوں کا فرق فکری اور معاشی تغیر کا وہ ناگزیر سچ بن چکا ہے جس کی تفہیم کے بغیر ہم نہ اپنے ماضی کو درست انداز میں جان سکتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کے بدلتے تقاضوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں





