بدلتی معاشرتی اقدار،تحریر : سدرہ قیوم
نقطہ نظر
کبھی محلے کا ہر بزرگ پورے محلے کا بزرگ ہوتا تھا۔ کسی کے آنگن میں شادی ہوتی تو دیگیں پڑوس کے گھروں سے آتیں، اور کسی کے ہاں غم ہوتا تو چولہا تین دن تک ہمسائے کے گھر جلتا۔ آج ہم ایک ہی عمارت کے فلیٹوں میں برسوں رہ لیتے ہیں اور سامنے والے کا نام تک نہیں جانتے۔ یہ محض زمانے کی تبدیلی نہیں، اقدار کی تبدیلی ہے، اور اس پر ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
معاشرتی اقدار کوئی جامد چیز نہیں۔ ہر دور کے معاشی حالات، ٹیکنالوجی اور تعلیم انہیں نیا رنگ دیتے ہیں۔ بعض تبدیلیاں خوش آئند ہیں۔ آج بیٹی کی تعلیم کو وہ مزاحمت پیش نہیں آتی جو کبھی عام تھی۔ ذات برادری کی سختیاں ڈھیلی پڑی ہیں، اور ذہنی صحت جیسے موضوع پر اب کھل کر بات ہونے لگی ہے۔ جو معاشرہ سوال اٹھانا سیکھ لے، وہ آگے بڑھتا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ کچھ نقصانات بھی ہوئے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا خود فریبی ہوگی۔ سب سے پہلا نقصان رشتوں کی گرمی کا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام اپنی تمام خامیوں کے باوجود ایک حفاظتی جال تھا۔ بچے دادا دادی کی گود میں تربیت پاتے، اور بیماری یا بے روزگاری میں کوئی تنہا نہ ہوتا۔ آج چھوٹے خاندان کی آزادی تو ملی، مگر تنہائی بھی ساتھ آئی۔ بزرگ اولڈ ایج ہومز کی خبر بن رہے ہیں، اور نوجوان ڈپریشن اور بے سمتی کا شکار ہیں۔
دوسرا بڑا بدلاؤ سادگی اور قناعت کی جگہ نمود و نمائش کا غلبہ ہے۔ پہلے عزت کا پیمانہ کردار، علم اور خدمت تھا۔ اب گاڑی، لباس اور شادی کا خرچ اس کی جگہ لیتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ ہر شخص دوسرے کی سجی سنوری زندگی دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھتا ہے، اور اسی دوڑ میں جائز و ناجائز کی تمیز دھندلا جاتی ہے۔ رشوت کو "سسٹم کا حصہ" اور جھوٹ کو "عملی ہونا" کہہ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔
تیسری تبدیلی برداشت اور آداب کی کمی ہے۔ ٹی وی مباحثوں سے لے کر سڑک کے جھگڑوں تک، اختلاف کو دشمنی سمجھنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت، جو ہماری تہذیب کی پہچان تھے، اب نصابی باتیں لگتی ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں گمنامی کی آڑ لے کر لوگ وہ زبان استعمال کرتے ہیں جو آمنے سامنے کبھی نہ بولتے۔
تو کیا حل یہ ہے کہ ہم ماضی کو لوٹانے کی ضد کریں؟ ہرگز نہیں۔ ماضی میں بھی ظلم تھا، ناانصافی تھی اور بہت سی فرسودہ روایات تھیں۔ اصل کام یہ ہے کہ ہم اقدار کو چھانیں۔ جو چیز انسان کو عزت دیتی ہے، جیسے سچائی، دیانت، ہمدردی اور انصاف، اسے تھامے رکھیں۔ اور جو چیز انسان کو دبانے یا محروم کرنے کا ذریعہ ہے، اسے بدلنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔
اس کی ابتدا گھر سے ہوتی ہے۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم کہتے ہیں، وہ وہ سیکھتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ اگر والدین خود قطار توڑیں گے تو بچوں کو نظم کا سبق دینا بے اثر رہے گا۔ پھر تعلیمی ادارے ہیں جنہیں نمبروں کی دوڑ سے نکل کر کردار سازی کو بھی اپنا فرض سمجھنا ہوگا۔ اور ہم سب پر لازم ہے کہ دن میں کچھ وقت اسکرین سے ہٹ کر اپنے پڑوسی، اپنے بزرگ اور اپنے بچے کو دیا کریں۔
معاشرے عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں، رویوں سے بنتے ہیں۔ بدلتے زمانے کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم اپنی جڑیں کاٹ دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم جڑوں کو مضبوط رکھتے ہوئے نئی شاخوں کو پھلنے دیں۔ جس دن ہم نے یہ توازن سیکھ لیا، اسی دن ترقی کا مطلب صرف سہولت نہیں بلکہ سکونِ دل بھی ہوگا۔
مزید پڑھیں




