بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بدلتے وقت، بدلتے رشتے،تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

ایک وقت تھا جب لوگ ایک ہی چھت تلے رہنے کو اپنی خوش نصیبی سمجھتے تھے۔ بڑے بڑے گھروں کے کشادہ صحن زندگی کی رونقوں سے آباد رہتے، چاروں طرف بنے کمروں میں خاندان کے کئی افراد سکونت پذیر ہوتے اور گھر کا ہر گوشہ اپنائیت کی خوشبو سے مہکتا تھا۔ دن بھر سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے، مگر شام ڈھلتے ہی صحن میں محفل سج جاتی۔ کوئی دن بھر کی مصروفیات سناتا، کوئی کسی کی خیریت دریافت کرتا اور کوئی اپنے دل میں چھپی پریشانی بیان کرتا۔ پھر سب مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کرتے۔ وہاں صرف افراد اکٹھے نہیں ہوتے تھے، بلکہ دل ایک دوسرے کے احساسات سے جڑے رہتے تھے۔ کسی ایک کی پریشانی پورے خاندان کی پریشانی اور کسی ایک کی خوشی سب کے لیے مسرت کا باعث بن جاتی تھی۔


ان گھروں میں رشتوں کی قدر کسی مفاد یا ضرورت کی محتاج نہیں تھی۔ بزرگوں کی موجودگی گھر کے لیے ایک مضبوط سائبان کی حیثیت رکھتی تھی، جن کی باتوں میں تجربے کی روشنی اور جن کی خاموشی میں بھی شفقت کا پیغام پوشیدہ ہوتا تھا۔ بچے بزرگوں کی گود میں بیٹھ کر قصے کہانیاں سنتے، جوان ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرتے اور خواتین گھریلو مصروفیات کے دوران ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف بھی ہوتا، ناراضی بھی جنم لیتی، مگر محبت کی ایک ڈور سب کو دوبارہ قریب لے آتی تھی۔


کسی گھر میں خوشی کی تقریب ہوتی تو رشتے دار کئی کئی دن پہلے پہنچ جاتے۔ کوئی گھر کی آرائش میں مصروف ہوتا، کوئی کھانے کی تیاری میں ہاتھ بٹاتا اور کوئی مہمانوں کی خاطر مدارت کے انتظامات سنبھال لیتا۔ ان تقریبات میں نمود و نمائش سے زیادہ خلوص کی اہمیت ہوتی تھی۔ خوشی کا اصل سرمایہ وہ چہرے ہوتے تھے جو اپنوں کے درمیان مسکراتے دکھائی دیتے تھے۔ اسی طرح جب کسی گھر میں وفات ہو جاتی تو غم کی ایک لہر پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ کئی دن تک گھروں میں سوگ کی فضا قائم رہتی، ٹی وی اور ریڈیو بند کر دیے جاتے اور ہر شخص اپنے طور پر غم زدہ خاندان کا سہارا بننے کی کوشش کرتا۔ دکھ کسی ایک گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا تھا، بلکہ پورا خاندان اس غم کو اپنا سمجھتا تھا۔


پھر وقت نے کروٹ بدلی۔ رہن سہن کے انداز بدلے، ضروریات میں اضافہ ہوا اور زندگی کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی۔ بڑے گھر چھوٹے ہوتے گئے، مشترکہ خاندان منتشر ہونے لگے اور وہ صحن جہاں کبھی قہقہوں کی بازگشت سنائی دیتی تھی، رفتہ رفتہ خاموشی کی نذر ہو گئے۔ اب ایک ہی خاندان کے افراد مختلف گھروں میں رہتے ہیں۔ اپنی اپنی مصروفیات، ذمہ داریوں اور خواہشات کے حصار میں اس طرح مقید ہو چکے ہیں کہ کبھی کبھار اپنوں کے لیے چند لمحے نکالنا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ بعض اوقات گھروں کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں، مگر دلوں کے درمیان حائل دیواریں بلند ہوتی چلی جاتی ہیں۔


بلاشبہ جدید دور نے ہمیں بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے دور بیٹھے لوگوں سے رابطہ آسان بنا دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رابطوں کی کثرت نے ہمارے درمیان احساس کی قربت بھی برقرار رکھی ہے؟ آج کسی کی خوشی پر مبارک باد کا پیغام بھیج دینا اور کسی کے غم میں تعزیت کے چند الفاظ لکھ دینا کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ کسی کی بیماری کی خبر ملے تو عیادت کے لیے وقت نکالنا مشکل لگتا ہے، مگر موبائل پر گھنٹوں صرف کرنا دشوار نہیں ہوتا۔ ہم ایک دوسرے کی تصاویر اور حالات سے تو واقف رہتے ہیں، لیکن دلوں کے اندر جاری کشمکش سے بے خبر ہوتے چلے جاتے ہیں۔


رشتوں کی بنیاد صرف ملاقات، گفتگو یا رسمی تعلق پر نہیں ہوتی، بلکہ ان کے استحکام کے لیے خلوص، احساس اور ایثار درکار ہوتے ہیں۔ کسی کی خاموشی کے پیچھے چھپے دکھ کو محسوس کرنا، کسی کی پریشانی کو اپنے لیے اہم سمجھنا اور مشکل وقت میں بغیر کسی غرض کے ساتھ کھڑے رہنا ہی تعلق کی اصل پہچان ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض رشتے بھی مفاد کی میزان پر تولے جانے لگے ہیں۔ جب تک کوئی ضرورت باقی رہتی ہے، رابطوں میں گرم جوشی قائم رہتی ہے، لیکن ضرورت پوری ہوتے ہی تعلق کی حرارت ماند پڑنے لگتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے رشتوں کو نبھانے کے بجائے ان سے فائدہ اٹھانے کا ہنر سیکھ لیا ہو۔


یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ہر تبدیلی کو برا قرار دینا درست نہیں۔ الگ گھر بسانا، اپنی ذمہ داریاں سنبھالنا اور زندگی میں آگے بڑھنا کسی طور غلط نہیں۔ اصل مسئلہ گھروں کی علیحدگی نہیں، دلوں کی دوری ہے۔ اگر الگ رہنے کے باوجود ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہا جائے، بزرگوں کی قدر کی جائے اور بچوں کو رشتوں کی اہمیت سمجھائی جائے تو فاصلے محبت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔


آخر ہم نے ترقی کے سفر میں بہت کچھ حاصل کیا، مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ اس دوڑ میں ہم نے اپنے تعلقات کا قیمتی اثاثہ پس پشت ڈال دیا ہے؟ کیا ہماری مصروفیات اتنی اہم ہو گئی ہیں کہ والدین کی خیریت دریافت کرنے، بہن بھائیوں کے ساتھ چند لمحے گزارنے اور کسی ضرورت مند رشتے دار کا سہارا بننے کی گنجائش باقی نہیں رہی؟


وقت کو پلٹایا نہیں جا سکتا، مگر اپنے رویوں کی اصلاح ضرور کی جا سکتی ہے۔ کسی کی خیریت پوچھ لینا، بیمار کی عیادت کرنا، خوشی میں شریک ہونا اور مشکل گھڑی میں اپنوں کا ہاتھ تھام لینا آج بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رشتے محض خون کے تعلق سے قائم نہیں رہتے، بلکہ محبت، احترام اور مسلسل توجہ سے پروان چڑھتے ہیں۔


رشتے بڑے گھروں سے نہیں، بڑے دلوں سے آباد رہتے ہیں۔ زمانہ بدلنا فطری عمل ہے، مگر اس تبدیلی کی آڑ میں اپنے احساسات کو فراموش کر دینا دانش مندی نہیں۔ ہمیں بدلتے وقت کے ساتھ اپنی زندگی کے طور طریقے ضرور بدلنے چاہییں، مگر اپنے دلوں سے خلوص، محبت اور اپنائیت کو رخصت نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ورنہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے کہ ہمارے پاس آسائشوں سے آراستہ گھر تو ہوں، رابطوں کے بے شمار ذرائع بھی ہوں، مگر ان گھروں میں اپنوں کی موجودگی اور ان رابطوں میں محبت کی حرارت باقی نہ رہے۔ پھر ہم رشتوں کے ہجوم میں کھڑے ہو کر بھی تنہائی محسوس کریں گے اور ماضی کی ان محفلوں کو یاد کریں گے جہاں زندگی صرف گزاری نہیں جاتی تھی، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ بانٹی بھی جاتی تھی۔