Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بڑا کون: تخلیق یا تخلیق کار ؟تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر

قسط اول ( سوال کی پہلی پرت )

naeem khan blog

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو جواب مانگنے کے لیے ذہن میں نہیں آتے بلکہ انسان کے اندر ایک گونج بن کر اتر جاتے ہیں۔ پھر وہ گونج خاموش نہیں ہوتی ، آدمی جہاں جاتا ہے سوال اس کے ساتھ چلتا ہے۔

کئی دنوں سے میرے اندر بھی ایک سوال مسلسل دستک دے رہا تھا:

بڑا کون ہے ؟ تخلیق یا تخلیق کار ؟ لکھاری بڑا ہے یا اس کی تحریر ؟ شاعر بڑا ہے یا اس کا شعر ؟

میں نے بہت سوچا مگر جواب کے بجائے سوال مزید پھیلتا گیا۔

بالآخر رات میں استاد کی تلاش میں باغِ جناح کے اندر کاسموپولیٹن کلب کے احاطے میں جا پہنچا۔

یہ پرانی خانقاہ نہیں تھی۔ لاہور شہر کی روشنیوں کے درمیان درختوں کا ایک خاموش حصار تھا۔ اوپر چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ چند دوست اور شاگرد استاد کے گرد بیٹھے تھے۔ میز پر کافی کے کپ تھے کیپوچینیو کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور کبھی کبھار چمچ کے کپ سے ٹکرانے کی مدھم آواز سکوت کو چھو جاتی۔

میں خاموشی سے جا کر بیٹھ گیا۔

استاد نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور مسکرا کر بولے:

“نعیم صاحب! کچھ تفکر میں ہیں؟”

میں نے کہا ، “جی استادجی ، ایک سوال ہے۔”

“ خیریت ہے ؟”

میں نے کہا:

“بڑا کون ہے ؟ تخلیق یا تخلیق کار؟”

استاد نے فوراً جواب نہیں دیا۔ کافی کی ایک چسکی لی اور سامنے بیٹھے شاگردوں کی طرف دیکھا۔

“آپ لوگ بتائیں بڑا کون ہے؟”

ایک شاگرد نے کہا:

“ سر ! ظاہر ہے تخلیق کار بڑا ہے ، کیونکہ تخلیق اسی کی ہے۔”

استاد محترم مسکرائے۔

“اگر تخلیق کار بڑا ہے تو کیا اس کی ہر تخلیق بھی بڑی ہوگی ؟”

شاگرد خاموش ہوگیا۔

استاد نے میری طرف دیکھا۔

“جی خانِ اعظم ، آپ بتائیے۔”

میں نے کہا:

“نہیں۔ کسی شخص کی عظمت اور اس کی تخلیق کی عظمت ایک ہی چیز نہیں۔ ایک آدمی عظیم لکھاری ہوسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ اس کی ہر تحریر عظیم ہو۔ اسی طرح ایک معمولی آدمی کبھی ایسی بات کہہ سکتا ہے جو اس سے کہیں بڑی ہو۔”

استاد نے پوچھا:

“تو پھر لکھاری بڑا ہوا یا تحریر ؟”

میں نے کہا: “دونوں کی عظمت الگ پیمانے سے ناپنی ہوگی۔ لکھاری کو اس کی شخصیت ، کردار ، فکر اور مجموعی کام سے دیکھا جائے گا جبکہ تحریر کو اس کے علم ، اثر ، معنویت اور افادیت سے۔”

استاد نے پوچھا: “تو کیا ایک بدکردار شخص اچھا شاعر ہوسکتا ہے ؟”

میں نے کہا: “ہوسکتا ہے۔ غالب اس کی ایک مثال ہیں۔ ان کی شاعری کی عظمت کو ان کی ذاتی زندگی کے ہر پہلو سے مشروط نہیں کیا جاسکتا۔”

“اور ایک اچھا انسان کیا لازماً بڑا لکھاری بھی ہوگا؟”

“نہیں۔ اچھا انسان ہونا اور اچھا لکھاری ہونا دو الگ صلاحیتیں ہیں۔”

استاد نے کافی کا کپ میز پر رکھا۔

“تو آپ کہہ رہے ہیں کہ انسان اور اس کی تخلیق کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جاسکتا ؟”

“جی۔”

“پھر یہ بتائیے ، ایک لکھاری کے پاس تخلیق کے لیے اپنا کیا ہے ؟”

میں کچھ دیر خاموش رہا۔

استاد نے پوچھا:

“ذہن ؟”

میں نے کہا “شاید۔”

“ذہن کس نے دیا؟”

میں رک گیا۔

“آنکھ ؟”

“کس نے دی ؟”

“زبان ؟”

“کس نے دی؟ ”

“شعور ؟”

استاد نے پھر پوچھا:

“اور اظہار کی صلاحیت ؟”

محفل میں خاموشی گہری ہوگئی۔

میں نے کہا:

“اگر دائرہ بڑھائیں تو یہ سب عطا ہیں۔”

استاد نے کہا:

“تو پھر لکھاری کیا ہے ؟”

میں نے بے اختیار کہا:

“شاید ایک قلم۔”

استاد مسکرائے۔

“اور روشنائی ؟”

“عطا۔”

“تحریر ؟”

میں نے کہا: “وہ بھی عطا۔”

“اور شعور کی روانی ؟ خیالات کا تسلسل ؟ ایک خیال کو دوسرے خیال سے جوڑنے کی صلاحیت ؟”

میں نے آہستہ سے کہا:

“یہ بھی فضل اور نعمت ہے۔”

استاد نے محفل پر ایک نظر ڈالی اور پھر میری طرف دیکھا۔

“تو پھر غرور کہاں سے آتا ہے؟”

میں نے کہا: “شاید انسان عطا کو اپنا سمجھ لیتا ہے۔”

“اور شکر؟”

“عطا کو عطا مان لینا۔”

“اور عاجزی ؟”

“اپنے مقام کو پہچان لینا۔”

استاد نے کہا:

“یعنی فخر انسانی وصف نہیں ، عاجزی انسانی وصف ہے؟”

میں نے جواب دیا:

“فخر شاید انسان کو اپنی ذات کے گرد کھڑا کرتا ہے ، عاجزی اسے اس سرچشمے کی طرف لے جاتی ہے جہاں سے اسے سب کچھ ملا۔ جھکنے والے کو پھل لگتا ہے۔”

ایک شاگرد نے سوال کیا:

“لیکن اگر سب کچھ عطا ہے تو لکھاری کی محنت کہاں گئی ؟”

استاد نے میری طرف دیکھا۔

میں نے کہا: “یہی تو اصل نکتہ ہے۔ مواد شاید میرا نہیں مگر اس مواد کو دیکھنے کا زاویہ ، اسے ترتیب دینے کی کوشش ، مختلف خیالات کو جوڑنے کی محنت اور انہیں اپنی زبان میں پیش کرنا میری انسانی کاوش ہے۔”

استاد نے کہا:

“تو تخلیق کار مطلق خالق نہیں ؟”

“جی ! شاید وہ امین ہے۔”

“امین کس چیز کا؟”

“عطا کا۔”

استاد نے پوچھا:

“کسی مثال سے سمجھائیں۔”

میں نے کہا:

“فرض کریں ایک دکاندار کی دکان میں ہر قسم کا سامان موجود ہے۔ کوئی شخص وہاں سے آٹا ، دال ، مصالحے ، سبزیاں اور گوشت خرید کر گھر لے جاتا ہے۔ پھر انہیں اپنے ذوق ، تجربے اور محنت سے ایک بہترین کھانے میں بدل دیتا ہے۔ لوگ دسترخوان پر بیٹھتے ہیں ، کھانا کھاتے ہیں اور باورچی کی تعریف کرتے ہیں۔ مگر اس کھانے کا خام مال تو دکاندار کی دکان سے آیا تھا۔”

استاد نے کہا:

“تو کیا باورچی کی کوئی حیثیت نہیں ؟”

“حیثیت ہے ! اس نے چیزوں کو پہچانا ، منتخب کیا ، تناسب قائم کیا ، ملایا اور ایک نئی صورت دی۔”

“اور دکاندار ؟”

“اس کا بھی حصہ ہے۔”

استاد نے مسکرا کر کہا:

“اور اگر دکان ہی نہ ہوتی ؟”

میں نے کہا:

“تو باورچی کے پاس خام مال کہاں سے آتا ؟”

استاد نے کہا:

“اب دکان کو کائنات سمجھ لیجیے۔”

میں خاموش رہا۔

پھر استاد نے کہا:

“کتاب کیا ہے ؟”

میں نے جواب دیا:

“کتاب علم نہیں ، علم کی طرف لے جانے والی راہ ہے۔”

“اور لکھاری ؟”

میں نے کہا:

“وہ اپنے سفر کا سفرنامہ لکھتا ہے۔”

استاد نے پوچھا:

“اور اگر وہ تصورات کی دنیا میں چلا جائے ؟”

میں نے کہا:

“ہر لکھاری جب تصورات کی سیر کو نکلتا ہے تو وہ اپنا سفرنامہ لکھتا ہے اور جو اس سحر میں وہیں رہ جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا۔”

استاد نے میری طرف دیکھا۔

“تو کیا یہی فرق ہے تخلیق کار اور اس شخص میں جو تصور کی دنیا سے واپس نہ آسکے جسے ہم پاگل کہتے ہیں ؟”

میں نے کہا:

“شاید ! تخلیق کار سحر سے معنی لے کر واپس آتا ہے۔”

استاد نے کچھ دیر خاموش رہ کر پھر پوچھا:

“اور تحریر انسان کو کب زندہ رکھتی ہے ؟”

میں نے کہا:

“جب تک اس کے خیالات کسی ذہن میں سوال پیدا کرتے رہیں۔”

استاد نے کہا: “تو پھر انسان کی ایک زندگی جسم کی ہے اور دوسری خیال کی؟”

میں نے کہا: “شاید خیال کی زندگی زیادہ طویل ہوسکتی ہے مگر دائمی ہونے کی ضمانت کسی تحریر کو نہیں۔”

استاد نے پوچھا: “تو پھر ہمیشہ زندہ رہنے کا راستہ کیا ہے ؟”

میں نے کہا: “یا تو انسان ایسا کام کرے جو لکھنے کے قابل ہو یا ایسا لکھے جو پڑھنے کے قابل ہو۔”

استاد نے سر ہلایا۔

پھر اچانک ان کی آواز میں ایک نیا سوال اتر آیا:

“اگر تخلیق کار بھی عطا ہے ، تخلیق کا سامان بھی عطا ہے ، آنکھ ، ذہن ، زبان ، شعور اور اظہار بھی عطا ہیں تو پھر تخلیق کار اپنی تخلیق میں آخر اپنا کیا رکھتا ہے ؟”

محفل پر ایک لمحے کے لیے خاموشی اتر آئی۔

چودھویں کا چاند بدستور آسمان کے وسط پر تھا ، کافی کے کپ میز پر رکھے تھے ، مگر اب سوال صرف میرے سامنے نہیں تھا۔

اب یہ سوال آپ کے سامنے بھی ہے۔

آپ کے نزدیک اگر انسان کو اس کی آنکھ ، ذہن ، شعور ، زبان ، اظہار اور تخلیق کا بنیادی سامان عطا ہوا ہے تو پھر اس کی تخلیق میں اس کا اپنا حصہ کیا ہے؟

اپنا جواب کمنٹس میں ضرور لکھیے۔

دیکھتے ہیں ، آپ کے نزدیک اس سوال کی کون سی پرت پہلے کھلتی ہے