Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھکاری مافیا: ایک زوال پذیر معاشرے کی بھیانک تصویر،تحریر: نعیم خان

نقطہ نظر
naeem khan blog

جب کسی قوم کے اجتماعی ضمیر پر بے حسی کی دھند چھا جائے تو وہاں سچائی اور دکھاوے کے درمیان کا فرق مٹ جاتا ہے۔ لاہور سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صبح ہوتے ہی سڑکوں ، چوراہوں اور بازاروں میں پھیلنے والی گداگروں کی فوج محض چند مجبور انسانوں کا گروہ نہیں بلکہ یہ ہمارے قومی زوال ، قانونی ناکامی اور اخلاقی اندھے پن کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو روزانہ ہر شہری کی آنکھوں کے سامنے دہرائی جاتی ہے لیکن ہم سب اس بھیانک منظر کے عادی ہو چکے ہیں۔

حقائق اور تحققیاتی رپورٹوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ گداگری اب کوئی انسانی درد یا غربت کا نتیجہ نہیں رہی بلکہ یہ اربوں روپے کا ایک انتہائی منظم ، مضبوط اور منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ اس مافیا کے اپنے علاقے طے ہیں اپنے سرغنہ ہیں اور ان کے اپنے وصولی کے طریقے ہیں۔ سگنلز پر کھڑی گاڑیوں کے شیشوں پر جس بے باکی اور زبردستی سے ہاتھ مارا جاتا ہے خصوصاً خواجہ سراؤں کے بہروپ میں موجود گروہوں کی جانب سے جس طرح کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہ سوال نہیں بلکہ کھلم کھلا بھتہ خوری ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں ریاست کی قلمرو بالکل ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محض خاموش تماشائی بنے نظر آتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہزاروں بھکاریوں کی گرفتاری یا انہیں مختلف مراکز میں منتقل کرنے کے دعوے کیے گئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کی عارضی مہمات سے اس کینسر کا خاتمہ ممکن ہے؟ بالکل نہیں۔ یہ کارروائیاں محض کاغذی کارکردگی دکھانے کا ذریعہ ہیں کیونکہ گرفتار ہونے والے بیشتر افراد چند دنوں بعد دوبارہ انہی چوراہوں پر اپنی "دکانیں" سجائے نظر آتے ہیں۔ جب تک اس مافیا کے چھپے نظام ان کے ماسٹر مائنڈز اور ان کی مالی شریانوں کو نہیں کاٹا جائے گا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔

اس کا ایک اور بھیانک اور تاریک پہلو ہمارے اپنے رویے اور معاشرتی بے حسی سے جڑا ہے۔ ہمارے ہاں عوام میں اس بنیادی شعور کی شدید کمی ہے کہ خیرات اور صدقے کا اصل حقدار کون ہے۔ اکثر شہری خوف ، الجھن یا محض جان چھڑانے کے لیے سڑک پر کھڑے پیشہ ور گداگر کی ہتھیلی پر نوٹ رکھ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے حصے کا ثواب کما لیا۔ لیکن درحقیقت ان کی دی ہوئی یہ رقم اس گداگر مافیا کو مزید طاقتور بناتی ہے معصوم بچوں کے اغوا کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور محنت کش طبقات کی محنت پر تازیانہ ثابت ہوتی ہے۔ جب ایک کام بغیر کسی مشقت کے اتنی آسانی سے منافع دینے لگے تو محنت اور روزگار کی قدر و قیمت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

اگر اب بھی ہم نے بطورِ ریاست اور بطورِ معاشرہ اس ناسور کا حتمی اور معقول حل نہ نکالا تو اس کے نتائج صرف داخلی تباہی تک محدود نہیں رہیں گے۔ بیرونی دنیا میں بھی ہماری پہچان ایک ایسے ملک کے طور پر پختہ ہو جائے گی جہاں کا ہر فرد کشکول اٹھائے کھڑا ہے۔

اس فتنے کی سرکوبی کے لیے اب باتوں اور زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کرنا ہوں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ پیشہ ور بھکاریوں کے لیے سخت تادیبی قوانین بنائے ان کے اثاثوں کی چھان بین کر کے انہیں بحقِ سرکار ضبط کرے اور جو لوگ صحت مند ہونے کے باوجود اس پیشے کو اپناتے ہیں ان سے سخت قومی پروجیکٹس میں زبردستی مشقت لی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے ان شہریوں پر بھی جرمانے عائد کیے جائیں جو سڑکوں پر ان مافیا کو پیسے دے کر اس غیر قانونی دھندے کی آبیاری کرتے ہیں۔ جب تک دینے والے اور لینے والے دونوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا یہ معاشرتی داغ ہماری پیشانی سے نہیں مٹ سکے گا

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL