چوہدری صاحب دا منڈا فارغ افسر اے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
پاکستان میں کرپشن کا ذکر ہو تو ہم فوراً سیاست دانوں، سرکاری افسروں اور حکمرانوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر شخص کے پاس ایک دلیل ہے کہ ملک کیوں تباہ ہوا، نظام کیوں نہیں چلتا اور ایماندار آدمی یہاں کیوں نہیں ٹک سکتا۔ مگر مجال ہے جو کوئی اپنے ڈیرے، اپنے خاندان اور اپنی برادری کی طرف بھی دیکھ لے۔ ہم کرپشن کو گالی بھی دیتے ہیں اور موقع ملے تو اسی کے ذریعے اپنا کام بھی نکلواتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دوسروں کا کام رشوت سے ہو تو کرپشن ہے، اپنا کام سفارش سے ہو جائے تو تعلقات ہیں۔
ہمارے ہاں کسی گھر کا لڑکا افسر بن جائے تو یوں سمجھا جاتا ہے جیسے خاندان کی قسمت کھل گئی ہو۔ اب فلاں کا بیٹا بے روزگار نہیں رہے گا، فلاں کا مقدمہ تھانے میں نہیں پھنسے گا، فلاں کی فائل مہینوں میز پر نہیں پڑی رہے گی۔ ڈیرے پر بیٹھے لوگوں کو بھی ایک سہارا مل جاتا ہے۔ اب کسی محکمے میں کام ہو تو افسر کو فون کرو، کسی تھانے میں مسئلہ ہو تو افسر کو فون کرو، کسی کی نوکری لگوانی ہو تو افسر کو فون کرو۔ گویا سرکاری عہدہ نہیں ملا، خاندان کے لیے ایک عدد جن بھرتی ہو گیا ہے جو ہر حکم پر حاضر ہوگا۔
اب ذرا اس افسر کو دیکھیے جسے واقعی رشوت کی ضرورت نہیں۔ تنخواہ اچھی ہے، گھر چل رہا ہے، بچوں کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ وہ اپنی نوکری ایمانداری سے کرنا چاہتا ہے۔ کسی کا ناجائز کام نہیں کرتا، کسی کی سفارش پر میرٹ نہیں توڑتا اور کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ بظاہر تو ایسے افسر کی عزت ہونی چاہیے، مگر اس کے اپنے ڈیرے پر بیٹھے لوگوں کے نزدیک شاید وہ ایک ناکام آدمی ہے۔
ایک دن ڈیرے پر بات چل نکلتی ہے کہ فلاں لڑکا ابھی تک بے روزگار پھر رہا ہے۔ کوئی پوچھتا ہے، ’’اوئے، چوہدری صاحب دے منڈے نے گل نہیں کیتی؟‘‘ دوسرا جواب دیتا ہے، ’’گل تے کیتی سی، پر اوہ کہندا اے میرٹ تے نوکری ملے گی۔‘‘ اس پر حقے کا کش لگتا ہے اور کوئی بزرگ فیصلہ سنا دیتا ہے، ’’پھر کیہڑا افسر اے؟ اپنے بندے دا اک کم وی نہیں کر سکدا؟ چوہدری صاحب دا منڈا تے فارغ افسر اے!‘‘
بس جی، افسر کی ساری قابلیت ایک طرف اور کسی رشتے دار کی نوکری ایک طرف۔ اب اس کی ایمانداری کسی کو نظر نہیں آتی، اس کی تعلیم کی کسی کو پروا نہیں، اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کسی کے لیے اہم نہیں۔ ڈیرے پر بیٹھے لوگوں کو تو صرف یہ پتا ہے کہ ان کا آدمی افسر ہے اور اگر وہ ان کے کام نہیں آ سکتا تو پھر افسر ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ ہمارے ہاں عہدہ ملنے پر مبارک باد اس بات کی نہیں دی جاتی کہ اب تم ایک بڑی ذمہ داری سنبھالو گے، بلکہ اس خوشی میں دی جاتی ہے کہ اب ہمارے کام آسان ہو جائیں گے۔
یہی وہ دباؤ ہے جو ایک آدمی کو آہستہ آہستہ اپنے اصولوں سے دور لے جاتا ہے۔ پہلے کسی عزیز کی سفارش آتی ہے، پھر کسی دوست کی فرمائش، پھر برادری کے کسی بااثر شخص کا فون۔ انکار کرو تو خاندان ناراض، انکار کرو تو ڈیرے پر باتیں، انکار کرو تو طعنہ کہ اتنا بڑا افسر بن کر بھی کسی کام نہیں آیا۔ اب آدمی سوچتا ہے کہ ایک کام ہی تو ہے، کروا دیتا ہوں۔ پھر دوسرا کام آ جاتا ہے، پھر تیسرا۔ کچھ عرصے بعد وہی شخص جسے رشوت لینے کی ضرورت نہیں تھی، دوسروں کے ناجائز کام کرنے کے لیے اپنا اختیار استعمال کرنے لگتا ہے۔ اسے پیسے کی بھوک شاید نہ ہو، مگر اسے اپنے لوگوں کے سامنے ناکام ہونے کا خوف ضرور ہوتا ہے۔
ہم نے خاندان اور برادری کی عزت کا پیمانہ بھی عجیب بنا رکھا ہے۔ کسی افسر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرکے رشتے دار کو نوکری دلوا دی تو پورا خاندان فخر سے بتائے گا کہ ہمارا بندہ بڑا پہنچا ہوا ہے۔ کسی نے تھانے سے فون کرکے آدمی چھڑوا دیا تو اس کی واہ واہ ہوگی۔ کسی نے فائل نکلوا دی تو ڈیرے پر اس کے قصیدے پڑھے جائیں گے۔ مگر اسی افسر نے اگر کسی کا ناجائز کام کرنے سے انکار کر دیا تو وہی لوگ اسے ناکارہ کہیں گے۔ یعنی عزت بھی اسی کی ہے جو قانون کو اپنی جیب میں ڈال کر گھوم سکے۔
کبھی سوچتا ہوں کہ اگر یورپ میں بھی ہر افسر کے پیچھے ایک ڈیرہ ہوتا، ہر ڈیرے پر برادری کے دس بارہ بزرگ بیٹھے ہوتے اور ہر بزرگ کے پاس اپنے کسی عزیز کی نوکری، کسی مقدمے یا کسی فائل کی فرمائش ہوتی تو وہاں بھی سفارش کا کیا حال ہوتا! ذرا تصور کیجیے، مائیکل جٹ، میتھیو ورک اور اسٹیورٹ رانا اپنے اپنے افسروں کے پیچھے کھڑے ہوتے۔ مائیکل کہتا، میرا بھتیجا نوکری پر لگوا دو۔ میتھیو کہتا، میرے بندے کو تھانے سے نکلوا دو۔ اسٹیورٹ رانا کا مطالبہ ہوتا، میری فائل آج ہی کلیئر ہونی چاہیے۔ اور اگر افسر انکار کر دیتا تو اگلی محفل میں اس کے خلاف بھی یہی فیصلہ سنایا جاتا کہ بڑا افسر بنا پھرتا ہے، اپنے بندے کا ایک کام نہیں کر سکتا!
شاید وہاں بھی برادری کی عزت بچانے کے لیے قانون کو روزانہ ذلیل کرنا پڑتا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہاں اس رویے کو اتنا معمول بنا دیا ہے کہ ہمیں اس میں کوئی خرابی ہی نظر نہیں آتی۔ ہم نے آدمی کو اس کے نام سے پہچاننے کے بجائے اس کے تعلق سے پہچاننا شروع کر دیا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا ہے کہ کس کا بندہ ہے، پھر دیکھا جاتا ہے کہ کام جائز ہے یا ناجائز۔ میرٹ کی بات بعد میں آتی ہے، برادری پہلے پہنچ جاتی ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک میں کرپشن ختم کیوں نہیں ہوتی۔ آخر کیسے ختم ہو؟ جب ایک طرف حکومت اور ادارے ایمانداری کا مطالبہ کریں اور دوسری طرف خاندان اپنے ہی افسر سے ناجائز کام کروانے کی توقع رکھے تو وہ کس طرف جائے؟ جب باپ کو بیٹے کی ترقی سے زیادہ اس بات کی خوشی ہو کہ اب تھانے میں فون چل جائے گا، جب برادری کو افسر کی دیانت سے زیادہ اس کے اثر و رسوخ کی فکر ہو، تو پھر کرپشن کے خلاف مہمیں چلانے سے کیا ہوگا؟ پوسٹر لگانے اور تقریریں کرنے سے معاشرہ نہیں بدلتا، معاشرے کی وہ سوچ بدلنی پڑتی ہے جو غلط کام کو بھی اپنے مفاد میں ہو تو قابلِ فخر بنا دیتی ہے۔
اصل مسئلہ صرف وہ افسر نہیں جو رشوت لیتا ہے۔ مسئلہ وہ لوگ بھی ہیں جو اس سے کام کرواتے ہیں، اس کی سفارش پر فخر کرتے ہیں اور پھر دوسروں کے لیے میرٹ کا درس دیتے ہیں۔ جب تک ہمیں اپنا کام نکلوانے کے لیے ایماندار افسر سے شکایت اور قانون توڑنے والے افسر سے محبت رہے گی، تب تک اس ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ بھی چلتی رہے گی اور کرپشن بھی۔
اور ڈیرے پر بیٹھے لوگ بھی شاید اگلی نسل کے کسی افسر کا انتظار کرتے رہیں گے، اس امید پر کہ اب کی بار کوئی ایسا بندہ آئے گا جو ان کے سارے کام کروا سکے۔ کیونکہ ہمارے ہاں افسر کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے اپنے محکمے میں کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ڈیرے پر بیٹھے لوگوں کے لیے کیا کر سکتا ہے۔
ورنہ آخر میں فیصلہ تو وہی ہونا ہے:
’’چوہدری صاحب دا منڈا فارغ افسر اے، اپنے بندے دا اک کم وی نہیں کروا سکدا!‘‘
مزید پڑھیں



