موسمیاتی تبدیلیاں برفانی چیتے کیلئے بھی خطرات بڑھا رہی ہیں، عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ انسانی سرگرمیاں بھی برفانی چیتے کے لیے خطرات بڑھا رہی ہیں۔ برفانی چیتے کے تحفظ سے متعلق عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ برفانی چیتا پاکستان کے قومی فخر، قدرتی ورثے اور حیاتیاتی تنوع کی علامت ہے، جبکہ اس نایاب جنگلی جانور اور اس کے قدرتی مسکن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں برفانی چیتوں کی تعداد 200 سے 300 کے درمیان ہے، جنہیں غیر قانونی شکار، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیوں کے باعث مختلف خطرات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ برفانی چیتا صدیوں سے مقامی آبادی کے ساتھ ہم آہنگی میں رہتا آیا ہے، اس کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنایا جائے اور جنگلی حیات کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
عطا تارڑ نے اعلان کیا کہ برفانی چیتے کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔ کمیٹی میں عالمی ادارہ برائے تحفظِ فطرت و جنگلی حیات ڈبلیو ڈبلیو ایف، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان، چترال اور آزاد کشمیر سمیت شمالی علاقوں میں آنے والے سیاحوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ، مقامی ثقافت اور روایات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے، سیاحوں کو ان علاقوں کا رخ کرنے سے پہلے مقامی آبادی کے حقوق، ثقافتی حساسیت اور ماحول دوست رویوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیاحتی علاقوں میں شور شرابے، گندگی اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کے باعث قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے، سیاحت کو ذمہ دارانہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی آبادی اور سیاح مل کر قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ سکردو اور گلگت آنے والی پروازوں میں سیاحوں کی آگاہی کے لیے معلوماتی بروشرز رکھنے کی تجویز سول ایوی ایشن حکام کو دی جائے گی، تاکہ شمالی علاقوں میں پہنچنے سے پہلے ہی سیاحوں کو وہاں کے ماحول، ثقافت اور روایات کے احترام سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں




