لفظوں کی منڈی میں سب سے قیمتی لفظ کونسا ؟تحریر: عظمیٰ شیخ
نقطہ نظراگر کبھی اس کائنات کے کسی وسیع میدان میں لفظوں کی منڈی سجا دی جائے اور دنیا کے تمام انسانوں کو بولی لگانے کی دعوت دی جائے، تو منظر بڑا دلچسپ اور عجیب ہو گا۔ اونچی اونچی دکانیں ہوں گی جہاں لفظوں کے ترازو لگے ہوں گے۔ ایک طرف محبت، کامیابی، دولت اور شہرت جیسے رنگین اور چمکدار الفاظ سجائے گئے ہوں گے، تو دوسری طرف صبر، سچائی اور خلوص جیسے الفاظ پر گرد جم رہی ہو گی۔
اب ذرا سوچئے کہ اس منڈی میں سب سے مہنگا اور گراں قدر لفظ کون سا ہو گا؟
اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی، سماجی رویوں اور نفساتی حالت کا گہرا جائزہ لیں، تو آج کے دور کی سب سے کڑوی سچائی یہ ہے کہ اس منڈی کا سب سے نایاب اور قیمتی لفظ معاف کرنا یا غلطی میری تھی پایا جائے گا۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی قیمت ہماری انا طے کرتی ہے۔ آج کے دور میں انسان کی خودی اور انا اتنی زیادہ مہنگی اور وزنی ہو چکی ہے کہ لوگ بسے بسائے گھر تباہ کرنا سستا سمجھتے ہیں۔
بائیس سال پرانی دوستیاں توڑنا اور رشتے گنوانا گوارا کر لیتے ہیں لیکن اپنی زبان سے یہ چند حروف ادا کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اس لفظ کی قیمت کسی پیسے سے نہیں بلکہ اپنی بے جا انا کی قربانی دے کر ادا کرنی پڑتی ہے، اسی لیے یہ لفظ منڈی میں انتہائی نایاب ہے۔
اگر اس تلخ حقیقت کے ساتھ مزاح کا تڑکا لگایا جائے، تو ہماری روزمرہ کی عملداری میں سب سے زیادہ بکنے والا اور سب سے قیمتی جھوٹا لفظ بس پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں ہے۔ یہ وہ تاریخی اور عالمگیر جملہ ہے جو ہر تاخیر سے آنے والا دوست اُس وقت بول رہا ہوتا ہے جب وہ ابھی بستر میں سو کر اٹھا ہوتا ہے یا گرمائے گرم چائے کی پیالی پر مکھی اڑا رہا ہوتا ہے۔ اس ایک جملے کی قیمت پر جو سامنے والے کا خون جلتا ہے، اگر اس کا حساب لگایا جائے تو شاید وہ دنیا کا سب سے مہنگا سودا بن جائے۔
اسی منڈی کا ایک اور دلچسپ اور مقبول عام لفظ مفت اور رعایت ہے۔ یہ الفاظ سنتے ہی ہماری قوم کی آنکھوں میں جو برقی چمک پیدا ہوتی ہے ۔وہ دنیا کے کسی نایاب ہیرے کی روشنی کو بھی مات دے سکتی ہے۔ لوگ وہ چیزیں بھی محض اس لیے خرید لاتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایک صابن مفت مل رہا ہوتا ہے، چاہے اس چیز کی گھر میں کوئی ضرورت ہی نہ ہو۔
اس رنگین منڈی میں اگر کسی لفظ سے خوف آتا ہے تو وہ ہے ادھار! یہ ایک ایسا جادوئی لفظ ہے جو زبان سے ادا ہوتے ہی سامنے والے دوست یا تاجر کی زبان پر فوراًچپ کا تالا لگا دیتا ہے اور دوستی کا جنازہ بڑی شان و شوکت سے نکال دیتا ہے۔ ادھار مانگنے کے بعد انسان میں ایک حیرت انگیز صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے جسے سائنس بھی نہیں سمجھ سکی، اور وہ ہے جادوئی طور پر غائب ہو جانا اور رابطہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جانا۔
اس کے علاوہ شادی شدہ زندگی کا جائزہ لیں تو ترکیب وہ نایاب لفظ ہے جو شادی کے فوراً بعد لغت سے ایسے غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور پرہیز وہ خیالی لفظ ہے جو ہمیشہ کل کے ساتھ جڑا رہتا ہے، اور وہ کل کبھی طلوع نہیں ہوتی۔
حقیقت یہ ہے کہ الفاظ بذاتِ خود مفت ہوتے ہیں۔ انہیں ادا کرنے پر کوئی جرمانہ نہیں لگتا۔ لیکن معذرت، شکرگزاری، وفا اور سچ جیسے الفاظ کو صحیح وقت پر بولنے کے لیے ایک بہت بڑے دل کے مالک کےظرف اور اخلاقی وقار کی ضرورت ہوتی ہے۔ لفظوں کی اس بھیڑ میں وہی الفاظ واقعی انمول اور گراں قدر ہوتے ہیں جو انا کی دیواروں کو توڑ کر بکھرے ہوئے دلوں کو جوڑنے کا ہنر جانتے ہوں ۔
اس تمام قصے کا سب سے بڑا اور دلچسپ فلسفہ یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی لفظوں کے جال بُنتا رہتا ہے تاکہ اپنے سچ اور اپنی کمزوریوں کو چھپا سکے۔ لیکن آخر کار اس لفظی منڈی کے اس آخری موڑ پر جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے گہرا، سب سے سچا اور سب سے قیمتی لفظ دراصل کوئی لفظ تھا ہی نہیں، بلکہ وہ خاموشی تھی۔
مزید پڑھیں





