شناختی کارڈ کو غلط استعمال سے بچائیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
یہ ایک تلخ اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل اور قانونی پیچیدگیوں سے بھرے عہد میں قومی شناختی کارڈ محض ایک پلاسٹک کا ٹکڑا نہیں رہا، بلکہ یہ انسان کی پوری قانونی، مالی اور معاشرتی زندگی کی کلید ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیشتر افراد اس وقت تک کسی خطرے کو خطرہ تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے جب تک وہ مصیبت بن کر ان کے اپنے دروازے پر دستک نہ دے دے۔ لوگ اپنے شناختی کارڈ کی کاپیاں کچہری کے باہر، دکانوں پر، ہوٹلوں کے کاؤنٹرز یا نوکری کے انٹرویوز میں بغیر کسی احتیاط کے بانٹتے پھرتے ہیں، اور پرانے یا گمشدہ کارڈز کو ردی سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔ یہ معصومانہ بے پروائی درحقیقت ایک ایسے مجرمانہ جال کا راستہ ہموار کرتی ہے جس میں پھنسنے کے بعد ایک شریف شہری سالہا سال تک تھانوں، عدالتوں اور بینکوں کی دہلیز پر انصاف کی دہائی دیتا رہ جاتا ہے۔
شناختی کارڈ غلط استعمال ہو سکتا ہے، اور اس کا دائرہ کار اتنا وسیع اور لرزہ خیز ہے کہ سن کر ہی ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اس تلخ حقیقت کا ذاتی مشاہدہ مجھے خود اس وقت ہوا جب ایک روز اچانک مجھے ایک معروف بینک سے فون موصول ہوا۔ فون پر موجود نمائندے نے مجھ سے انتہائی سنجیدہ لہجے میں دریافت کیا کہ کیا آپ فلاں شخص کو جانتے ہیں؟ میں نے سادگی سے اثبات میں جواب دیا کہ جی ہاں، میں انہیں جانتا ہوں۔ اگلے ہی لمحے اس اہلکار نے مجھ پر یہ کہہ کر بجلی گرا دی کہ آپ نے ان کے بینک قرضے کی ضمانت دی ہے اور وہ اب نادہندہ ہو رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، کیونکہ میں نے زندگی میں کبھی نہ تو اس شخص کے لیے کسی فارم پر دستخط کیے تھے اور نہ ہی کسی دستاویز کی کوئی تصدیق کی تھی۔ میں نے فوراً سختی سے انکار کرتے ہوئے بینک حکام کے سامنے اپنا مؤقف رکھا، اور کافی تکرار اور قانونی بحث کے بعد وہ بڑی مشکل سے میری بے گناہی پر قائل ہوئے۔ جب میں نے معاملے کی کھوج لگائی تو ایک انتہائی شرمناک اور ہوشربا حقیقت سامنے آئی۔ معلوم ہوا کہ ان حضرت نے کچھ عرصہ قبل کسی عام بات چیت کے دوران محض دیکھنے کے بہانے مجھ سے میرا شناختی کارڈ مانگا تھا، اور میری بے خبری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موبائل سے اس کی تصویر کھینچ لی۔ بعد میں اسی تصویر کا پرنٹ نکلوا کر بینک میں بطور ضامن جمع کروا دیا گیا اور بینک کے عملے نے بھی بغیر دستخطوں کی تصدیق اور میری جسمانی موجودگی کے اس کاپی کو قبول کر کے قرض جاری کر دیا۔
اگر قریبی جاننے والے محض ایک تصویر کی بنیاد پر ایسا گھناؤنا کھیل کھیل سکتے ہیں، تو ذرا سوچیے کہ جب یہ کارڈ کچہریوں اور تھانوں کے باہر سرگرم پیشہ ور مافیا کے ہاتھ لگتا ہوگا تو وہ کیا گل کھلاتا ہوگا۔ اس وقت ملک بھر میں پیشہ ور ضامنوں کا ایک منظم گروہ کام کر رہا ہے جس کا دھندہ ہی چوروں، ڈاکوؤں، جواریوں اور منشیات فروشوں کو عدالتوں سے چھڑوانا ہے۔ یہ مافیا کمپیوٹر آپریٹرز اور منشیوں کی مدد سے چوری شدہ یا ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر جعلی ضمانتی مچلکے تیار کرتا ہے۔ ہمارے نظام کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اکثر تھانوں اور عدالتوں میں ضامن کی جسمانی موجودگی اور نادرا سے لائیو بائیومیٹرک تصدیق کی زحمت ہی گوارا نہیں کی جاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب رہا ہونے والا ملزم فرار ہو جاتا ہے، تو عدالتیں اس معصوم شہری کو اشتہاری قرار دے کر اس کے وارنٹ نکال دیتی ہیں جس کا شناختی کارڈ فائل میں لگایا گیا تھا۔ پھر وہ بے گناہ شخص اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کے لیے ایک عدالت سے دوسری عدالت فوٹو کاپیاں اٹھائے ذلیل و خوار ہوتا پھرتا ہے۔
بینکنگ اور فنانس کے شعبے میں اس چوری کا نقصان اور بھی گہرا ہے۔ جعل ساز کسی بھی شہری کے شناختی کارڈ کی کاپی اور جعلی دستخطوں کی مدد سے ایسے بینک اکاؤنٹس کھلواتے ہیں جو بعد میں منی لانڈرنگ، رشوت، تاوان کی رقم، اور آن لائن فراڈ کے لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جب تحقیقاتی ادارے حرکت میں آتے ہیں، تو وہ اصل مجرموں تک پہنچنے سے پہلے اس معصوم کھاتے دار کے گھر چھاپہ مارتے ہیں جس کے نام پر وہ اکاؤنٹ بول رہا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کل کی نجی ڈیجیٹل قرض ایپس اور مائیکرو فنانس کمپنیاں بغیر مناسب چھان بین کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر قرضے جاری کر دیتی ہیں۔ جب وہ رقم ڈوبتی ہے تو اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ میں اس عام شہری کا نام ڈیفالٹرز کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے، جس سے اس کا کریڈٹ سکور ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جاتا ہے۔
ٹیلی کام اور جائیداد کا میدان بھی اس مجرمانہ عمل سے محفوظ نہیں۔ قانون کے مطابق ایک کارڈ پر پانچ سمیں جاری ہو سکتی ہیں، اور جعل ساز سلیکون کے مصنوعی انگوٹھوں اور پرانے ڈیٹا کے ذریعے ایسی سمیں نکلواتے ہیں جو بھتہ خوری، اغوا اور ہراسانی جیسے سنگین جرائم میں استعمال کی جاتی ہیں۔ جب پولیس تفتیش کرتی ہے تو سم کے اصل مالک کو دھر لیا جاتا ہے۔ اوپن ٹرانسفر لیٹرز پر چلنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن، جعلی دستاویزات پر پراپرٹی کی خرید و فروخت، اور بڑے سرمایہ داروں کی جانب سے ٹیکس چوری کے لیے عام شہریوں کے شناختی کارڈز پر کروڑوں روپے کے بے نامی لین دین اسی ڈیٹا چوری کے شاخسانے ہیں۔
اس سارے گورکھ دھندے کا سدباب جہاں حکومت، نادرا اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ضمانت اور ہر اکاؤنٹ کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیں، وہاں خود عام شہری پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس بنیادی حق کا دفاع کرے۔ جب بھی کسی مجبوری کے تحت اپنے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کسی ادارے، ہوٹل یا کمپنی کو دیں، تو اس پر پین سے دو ترچھی متوازی لکیریں کھینچ کر درمیان میں واضح لکھ دیں کہ یہ کاپی صرف کس مخصوص مقصد کے لیے دی جا رہی ہے۔ کسی کو بھی محض دیکھنے یا وقت گزاری کے لیے اپنا کارڈ ہرگز نہ تھمائیں، اور اگر کبھی کارڈ گم یا چوری ہو جائے تو بغیر کسی تاخیر کے تھانے میں روزنامچے کی رپٹ درج کروائیں۔ یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ شناختی کارڈ کی حفاظت میں برتی گئی محض ایک لمحے کی غفلت انسان کو زندگی بھر کے لیے کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے۔





