کھیل ہمیشہ سے انسانوں کے مابین فاصلے مٹانے، تعصبات کی دیواریں گرانے اور دلوں کو جوڑنے کا سب سے خوبصورت اور معتبر ذریعہ رہا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں جیت اور ہار کا فیصلہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل حسن وہ باوقار رویہ ہے جو کھلاڑی میدان میں داخل ہونے سے لے کر اختتامی تقریب کے آخری لمحے تک برقرار رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کرکٹ کو شرفا کا کھیل یعنی "جنٹلمینز گیم" کہا گیا، جہاں حریف کے ساتھ ہاتھ ملانا، اس کی برتری کو تسلیم کرنا اور تقریب تقسیم انعامات میں ٹرافی کو سینے سے لگانا اسپورٹس مین شپ کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ لیکن دبئی کے میدان میں ویمنز ایشیا کپ کے فائنل کے بعد جو تماشا دیکھا گیا، اس نے کرکٹ کے اس دیرینہ وقار کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔
میدان میں خواتین کھلاڑیوں نے خون پسینہ بہا کر، تپتی دھوپ میں جان لڑا کر ٹائٹل جیتا، فتح سمیٹی اور اپنی مہارت کا لوہا منوایا، لیکن فائنل کے اختتام پر سیاسی تعصب اور بی سی سی آئی کے غیر لچکدار رویے نے ان تمام جذبوں پر پانی پھیر دیا۔ ٹورنامنٹ کی چیمپئن ٹیم کا تقریبِ تقسیم انعامات کے دوران ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دینا اور میدان سے بغیر کپ کے لوٹ جانا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کی تاریخ کا وہ تاریک لمحہ ہے جس نے کھیل کی بنیادی روح کو تار تار کر دیا ہے۔ اس عمل نے واضح کر دیا کہ جب کسی کرکٹ بورڈ کی ذاتی انا اور ریاستی سیاست میدان پر حاوی ہو جائے تو پھر کھیل کے روایتی پروٹوکول، اخلاقیات اور شائقین کے جذبات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کوئی نجی کلب نہیں بلکہ براعظم ایشیا کی تمام کرکٹنگ نیشنز کی نمائندہ تنظیم ہے، جس کا اپنا ایک آئین اور ضابطہ اخلاق ہے۔ اس تنظیم کے قواعد بالکل واضح اور دو ٹوک ہیں کہ ایونٹ کی فائنل ٹرافی اس کونسل کے منتخب صدر کے ہاتھوں ہی پیش کی جائے گی۔ اگر صدر گراؤنڈ میں موجود ہو تو اس کے ہوتے ہوئے کسی اور کو آگے لانا خود ادارے کے منصب کو پامال کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ محسن نقوی اس تقریب میں کسی پارٹی یا ریاست کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ اے سی سی کے قانونی اور منتخب سربراہ کے طور پر پوڈیم پر کھڑے تھے۔ ایسے میں بھارتی بورڈ کی جانب سے یہ ہٹ دھرمی کہ وہ کونسل کے صدر سے ٹرافی نہیں لیں گے، دراصل ایک بین الاقوامی ادارے کے آئین کو روندنے کی دانستہ کوشش تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارتی ٹیم کو اے سی سی کی انتظامی حیثیت یا اس کے سربراہ کی ذات سے اس قدر سفارتی اختلاف تھا تو وہ اس کونسل کے زیر انتظام منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں شریک ہی کیوں ہوئی؟ اگر ملٹی نیشن ایونٹ کا شیڈول قبول ہے، اس کے پوائنٹس درکار ہیں، اس میں فتح حاصل کر کے چیمپئن بننا منظور ہے، تو پھر اسی ایونٹ کے سربراہ سے فائنل کا انعام لینے سے انکار کیسی منطق ہے؟ یہ دہرا معیار اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ بی سی سی آئی اپنے مالیاتی رسوخ اور طاقت کے زعم میں ہر اس اصول کو قربان کرنے پر آمادہ ہے جو اس کی مرضی کے مطابق نہ ڈھلے۔
اس فیصلے نے سب سے گہری ضرب ان خواتین کھلاڑیوں کے جذبات پر لگائی ہے جو سالہا سال کی ریاضت کے بعد اپنی زندگی کے سب سے یادگار لمحے کی منتظر تھیں۔ ٹرافی کو دونوں ہاتھوں سے فضا میں بلند کرنا، ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ اس چمکتی ہوئی شیلڈ کو گلے لگانا اور فریم میں وہ لمحہ قید کرنا ہر کرکٹر کا خواب ہوتا ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں سے وہ تاریخی لمحہ ان کے اپنے بورڈ نے سیاسی ضد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا کر چھین لیا۔ میدان میں حاصل کی گئی فتح اب تاریخ کے اوراق میں کسی شاندار کارکردگی کے بجائے ایک سفارتی بائیکاٹ اور بد نظمی کے طور پر یاد رکھی جائے گی، اور یہ خود ان نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
کرکٹ ڈپلومیسی کا جو باب دہائیوں کی محنت سے رقم ہوا تھا، آج وہ مکمل طور پر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ماضی میں شدید ترین کشیدگی، جنگی حالات اور سفارتی تعطل کے باوجود کھلاڑی میدان میں آتے تھے، مسکراتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دنیا کو امن اور برداشت کا پیغام دیتے تھے۔ لیکن موجودہ بھارتی رویے نے کھیلوں کے اس آخری پل کو بھی منہدم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو کل کو کوئی بھی ٹیم اپنی ناپسندیدگی، لسانی، علاقائی یا سفارتی اختلافات کو جواز بنا کر امپائر کے فیصلے ماننے، پریزینٹر سے بات کرنے یا ٹرافی لینے سے انکاری ہو جائے گی، جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور علاقائی باڈیز کی کوئی توقیر باقی نہیں رہے گی۔
یہ لمحہ عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی مقتدر باڈی آئی سی سی کے لیے بھی ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ایک طاقتور بورڈ کے مالی تسلط اور آمرانہ طرز عمل کے آگے بین الاقوامی قوانین اسی طرح بے بس ہوتے رہے تو پھر کرکٹ کا مستقبل چند ممالک کے سیاسی مفادات کی لونڈی بن کر رہ جائے گا۔ کھیل کا حسن جیت سے زیادہ مدمقابل کے احترام میں مضمر ہے۔ جب تک اس باہمی احترام کو تحفظ نہیں دیا جائے گا، پروٹوکول کی حرمت کو یقینی نہیں بنایا جائے گا اور سیاست کو کرکٹ کی پچ سے دور نہیں رکھا جائے گا، تب تک میدان میں کھیلے جانے والے میچز بے روح تماشے بن کر رہ جائیں گے جن میں جیت تو حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اخلاقی وقار ہمیشہ کے لیے ہار جاتا ہے۔
مزید پڑھیں






