کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ زندگی کی اصل خوب صورتی آخر کہاں چھپی ہوئی ہے؟ بلند و بالا عمارتوں، چمکتی ہوئی سڑکوں، بڑے بڑے ہسپتالوں اور جدید سہولتوں سے آراستہ شہروں میں یا پھر ان کچے پکے مکانوں، سرسبز کھیتوں، درختوں کی چھاؤں اور مٹی کی خوشبو سے مہکتے دیہات میں، جہاں سہولتیں کم لیکن زندگی کے رنگ کچھ اور ہی ہوا کرتے تھے۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے کہ دیہات میں آج بھی ایسے بزرگ موجود ہیں جو عمر کی کئی دہائیاں گزارنے کے باوجود اپنے روزمرہ کے کام خود انجام دیتے ہیں۔ کوئی کھیتوں میں چلا جاتا ہے، کوئی مویشیوں کو چارہ ڈالتا ہے، کوئی گاؤں کی بیٹھک میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف رہتا ہے۔ ان کے چہروں پر جھریاں ضرور ہوتی ہیں، مگر ان میں سے بعض کے قدموں میں ایسی مضبوطی اور طبیعت میں ایسی تازگی نظر آتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔
دوسری جانب شہروں میں جدید طبی سہولتیں، بڑے ہسپتال، ماہر ڈاکٹر، جدید لیبارٹریاں اور علاج کے بے شمار وسائل موجود ہیں، لیکن شہری زندگی کے ساتھ ذہنی دباؤ، ٹریفک کا شور، فضائی آلودگی، بے آرامی، غیر متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی جیسے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شہروں میں علاج کی سہولتیں زیادہ ہیں تو دیہات کے بعض بزرگ صحت مند اور متحرک زندگی کیسے گزارتے ہیں؟
اس سوال کا جواب کسی ایک وجہ میں نہیں بلکہ طرزِ زندگی کی ان عادات میں پوشیدہ ہے جو انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
دیہات کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو جسمانی محنت ہے۔ کسان صبح سویرے اٹھ کر کھیتوں کا رخ کرتا ہے۔ مویشی پالنے والا اپنے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ خواتین گھر کے کاموں کے ساتھ دیگر ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہیں۔ بہت سے دیہاتی لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں پیدل چلتے ہیں، کھلی فضا میں وقت گزارتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ معمولات جسم کو متحرک رکھنے، پٹھوں کی مضبوطی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کے برعکس شہری زندگی میں بہت سے افراد گھنٹوں کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر تک کا سفر گاڑیوں میں طے ہوتا ہے۔ بازار قریب ہو تب بھی موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کی جاتی ہے۔ جسمانی محنت کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے، مگر اس سہولت کے ساتھ انسان کی روزمرہ جسمانی سرگرمی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
دیہاتی زندگی کا ایک اور اہم پہلو خوراک ہے۔ ماضی میں بہت سے دیہات میں لوگ گھر کی تیار کردہ روٹی، دالیں، موسمی سبزیاں، دودھ، دہی اور دیگر سادہ غذائیں استعمال کرتے تھے۔ کھانے پینے میں سادگی تھی اور بازاری فاسٹ فوڈ روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں تھا۔ آج بھی بعض دیہات میں یہ روایت کسی نہ کسی صورت برقرار ہے۔
تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دیہات کی ہر غذا لازماً خالص اور صحت بخش نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر شہری کی خوراک غیر معیاری ہوتی ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، صاف پانی اور مناسب مقدار میں خوراک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
دیہات کی زندگی کا ایک خوب صورت پہلو قدرت سے قربت بھی ہے۔ صبح کے وقت پرندوں کی چہچہاہٹ، درختوں سے آتی ٹھنڈی ہوا، کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں اور شام کے وقت گاؤں کی گلیوں میں لوگوں کی چہل قدمی، یہ سب مناظر ذہنی سکون کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ بیٹھنا، دکھ سکھ بانٹنا اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننا بھی انسانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں شہروں میں تنہائی، معاشی دباؤ، مہنگائی، ملازمت کا عدم تحفظ اور وقت کی کمی بہت سے لوگوں کی ذہنی کیفیت کو متاثر کرتے ہیں۔ بڑے شہر میں ہزاروں لوگوں کے درمیان رہنے والا انسان بھی کبھی کبھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، جبکہ ایک چھوٹے گاؤں میں کسی کے گھر پریشانی آ جائے تو پورا محلہ اس کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اب دیہات میں بھی سماجی تعلقات اور طرزِ زندگی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، لیکن باہمی تعاون کی روایت آج بھی کئی مقامات پر زندہ ہے۔
تاہم دیہات کی زندگی کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے دیہات میں آج بھی معیاری ہسپتال، اچھی ڈسپنسریاں، ماہر ڈاکٹر، جدید تشخیصی سہولتیں اور ایمرجنسی سروسز ناکافی ہیں۔ کسی شخص کو دل کا دورہ پڑ جائے، کسی خاتون کو زچگی کے دوران پیچیدگی کا سامنا ہو یا کوئی بچہ شدید بیمار ہو جائے تو بعض علاقوں میں بروقت علاج کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
کیا یہ صورتِ حال کسی مہذب معاشرے کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے کہ شہر میں رہنے والے انسان کو جدید طبی سہولتیں میسر ہوں، جبکہ دیہات کے کسی غریب شہری کو بنیادی علاج کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے؟
دیہات کے لوگ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کے بچے بھی معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے حق دار ہیں۔ کسان جو اپنی محنت سے ملک کے لیے خوراک پیدا کرتا ہے، اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ بیماری کی صورت میں اسے بروقت اور معیاری علاج میسر ہو۔
یہاں ایک اور حقیقت پر غور کرنا ضروری ہے۔ بعض دیہاتی بزرگوں کی صحت اور جسمانی فعالیت قابلِ رشک ضرور ہو سکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ دیہات میں رہنے والے تمام لوگ شہریوں سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ انسانی عمر اور صحت پر خوراک، موروثی عوامل، ماحول، معاشی حالات، طبی سہولتوں اور طرزِ زندگی سمیت بہت سے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دیہات کی اچھی روایات کو محفوظ رکھیں اور شہروں کی جدید سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھائیں۔ ہمیں جسمانی محنت، سادہ اور متوازن خوراک، پیدل چلنے کی عادت، خاندانی تعلقات اور ذہنی سکون کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ ساتھ ہی حکومت کو دیہی علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت کو فعال بنانے، تربیت یافتہ عملہ فراہم کرنے، ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے اور ہنگامی طبی سہولتوں کو بہتر کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
میری نظر میں زندگی کی اصل خوب صورتی نہ صرف بڑے شہروں کی چمک دمک میں ہے اور نہ ہی دیہات کی سادگی میں، بلکہ اس توازن میں ہے جہاں انسان کو صاف ماحول، مناسب خوراک، جسمانی سرگرمی، ذہنی سکون، اپنوں کی محبت اور بروقت علاج کی سہولت میسر ہو۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ صحت مند زندگی گزاریں، ہمارے بچے توانا ہوں اور ہماری آنے والی نسلیں بیماریوں سے محفوظ رہیں تو ہمیں ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتوں اور کشادہ سڑکوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو شہر اور گاؤں، امیر اور غریب، سب کو بہتر زندگی گزارنے کے یکساں مواقع فراہم کرے۔
آخر میں حکومت، سماجی اداروں اور اہلِ ثروت سے ایک سوال ہے: اگر دیہات ہماری معیشت کی بنیاد ہیں، اگر کسان کی محنت سے ہمارے گھروں میں چولہا جلتا ہے، تو پھر دیہات کے لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں کیوں شامل نہیں ہونا چاہیے؟
یاد رکھیے! صحت مند معاشرہ صرف بڑے ہسپتال بنانے سے نہیں، بلکہ ایسی زندگی تشکیل دینے سے وجود میں آتا ہے جس میں انسان بیمار ہونے سے پہلے اپنی صحت کا خیال رکھ سکے اور بیمار ہونے کے بعد اسے بروقت علاج بھی میسر ہو۔
مزید پڑھیں






