Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دھرتی کہے پکار کے،تحریر:رئیس عنایت اللہ چاچڑ

نقطہ نظر
raees anayat

کبھی فرصت کے چند لمحے نکال کر خاموشی سے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس دھرتی کو دیکھیے، جس پر ہم نے پہلی بار آنکھ کھولی، جس کی مٹی نے ہمارے قدموں کو سہارا دیا اور جس کی خوشبو میں ہمارے بزرگوں کی یادیں آج بھی سانس لیتی ہیں۔ یہ صرف مٹی، پتھر اور زمین کا نام نہیں، یہ ہماری شناخت ہے، ہماری تاریخ ہے، ہماری تہذیب ہے، ہماری جڑیں ہیں اور ہمارے وجود کی وہ خاموش داستان ہے جسے نسل در نسل آگے بڑھایا جاتا ہے۔ مگر آج یہی دھرتی جیسے ہمارے سامنے کھڑی ہو کر سوال کر رہی ہے: میں نے تمہیں زندگی دی، رزق دیا، سایہ دیا، پانی دیا، پھر تم نے میرے لیے کیا کیا؟ ہم اسی زمین سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں، اسی کے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں، اسی کے کھیت ہماری بھوک مٹاتے ہیں اور اسی کے درخت دھوپ میں ہمارے لیے سایہ بنتے ہیں۔ مگر افسوس! اپنی سہولت اور وقتی ضرورتوں کی دوڑ میں ہم نے اسی دھرتی کے دامن کو زخموں سے بھر دیا۔ کہیں کچرے کے ڈھیر ہیں، کہیں کٹتے ہوئے درخت، کہیں آلودہ پانی، کہیں دھوئیں میں لپٹی فضا اور کہیں وہ کھیت جو کبھی لہلہایا کرتے تھے، آج پیاسے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم ترقی کے نام پر آگے بڑھ رہے ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ترقی کی اس دوڑ میں ہم اپنی دھرتی ہی کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں؟ دھرتی شاید زبان سے کچھ نہیں کہتی، مگر اس کے زخم بہت کچھ بولتے ہیں۔ سوکھتے کھیت، کم ہوتے درخت، آلودہ ندی نالے، بڑھتی ہوئی گرمی، بے وقت بارشیں اور بدلتا ہوا موسم دراصل اسی خاموش پکار کی آوازیں ہیں۔ یہ کسی ایک شخص یا ادارے کا مسئلہ نہیں، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم نے اس پکار کو نظرانداز کیا تو آنے والا وقت ہم سے وہ سوال پوچھے گا جس کا جواب شاید ہمارے پاس نہ ہو۔ وطن سے محبت صرف جھنڈا لہرانے، نعرے لگانے اور تقریریں کرنے کا نام نہیں۔ وطن سے محبت تو اس وقت حقیقت بنتی ہے جب ہم اپنی گلی میں کچرا پھینکنے سے پہلے سوچیں، پانی کی ایک ایک بوند کی قدر کریں، ایک درخت لگائیں، لگے ہوئے درخت کی حفاظت کریں، اپنے اردگرد صفائی رکھیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف، محفوظ اور سرسبز زمین چھوڑنے کی کوشش کریں۔ بڑی تبدیلی ہمیشہ بڑے دعووں سے نہیں آتی، کبھی ایک چھوٹا سا ذمہ دارانہ قدم بھی آنے والے کل کی بنیاد بن جاتا ہے۔ یہ دھرتی ہماری ملکیت سے بڑھ کر ہماری امانت ہے۔ ہمارے بعد بھی بچے اسی مٹی پر چلیں گے، اسی آسمان کے نیچے سانس لیں گے، انہی کھیتوں میں اپنے خواب تلاش کریں گے اور اسی زمین سے اپنی زندگی کا رشتہ جوڑیں گے۔ اگر ہم نے آج اس امانت کی حفاظت نہ کی تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہم سے ضرور پوچھیں گی: جب دھرتی پکار رہی تھی، جب درخت مدد کو پکار رہے تھے، جب پانی آلودہ ہو رہا تھا، جب فضا سانس لینے سے قاصر تھی، تب تم کہاں تھے؟ آئیے، آج اس سوال کا جواب اپنے عمل سے دیں۔ مٹی کی خوشبو کو محسوس کریں، اپنی زمین کے دکھ کو سمجھیں اور عہد کریں کہ ہم اپنی دھرتی کو صرف رہنے کی جگہ نہیں سمجھیں گے بلکہ اسے ماں کی طرح عزت، محبت اور حفاظت دیں گے۔ کیونکہ دھرتی جب پکارتی ہے تو صرف آواز نہیں دیتی، وہ ہمیں ہماری ذمہ داری، ہماری پہچان اور اپنے آنے والے کل کی حفاظت کا احساس دلاتی ہے۔ آئیے اس پکار کو سنیں، اس دھرتی کا قرض اتارنے کی کوشش کریں اور اپنے حصے کی ایک ایسی روشنی ضرور چھوڑ جائیں جس سے آنے والی نسلوں کا راستہ روشن ہو سکے۔