جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دوسروں کی خوشیوں سے جلنے والا دل کبھی سکون نہیں پاتا،تحریر: عارفین عائشہ

نقطہ نظر

حسد ایک ایسی خاموش آگ ہے جو انسان کے دل میں جلتی ہے، لیکن اس کی تپش صرف دوسروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ سب سے پہلے خود حسد کرنے والے انسان کے سکون، خوشی اور شخصیت کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی منفی سوچ ہے جو انسان کو دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونے کے بجائے ان کی خوشیوں سے پریشان ہونا سکھاتی ہے۔ حسد کرنے والا شخص دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسرے انسان کی کامیابی کبھی بھی ہماری ناکامی نہیں ہوتی۔


ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اکثر لوگ دوسروں کی ترقی، عزت، شہرت اور کامیابی کو دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے دل ہی دل میں جلنے لگتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس دولت ہو تو اس کی دولت سے حسد، اگر کسی کو عزت ملے تو اس کی عزت سے حسد، اگر کسی کی محنت رنگ لے آئے تو اس کی کامیابی سے حسد، اور اگر کسی کو لوگوں کی محبت حاصل ہو جائے تو اس محبت سے حسد شروع ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ بعض اوقات انسان اپنی زندگی کی نعمتوں کو بھول کر دوسروں کی زندگی میں موجود نعمتوں کا حساب لگانے بیٹھ جاتا ہے۔


حسد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان دوسرے کی خوشی میں اپنی بے سکونی تلاش کرنے لگتا ہے۔


حسد اور مقابلے میں فرق ہوتا ہے۔ مقابلہ انسان کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے، جبکہ حسد انسان کو دوسرے کو پیچھے گرانے پر آمادہ کرتا ہے۔ ایک مثبت انسان کسی کی کامیابی دیکھ کر سوچتا ہے کہ میں بھی محنت کروں گا، اپنے اندر صلاحیت پیدا کروں گا اور اپنی منزل حاصل کروں گا۔ اس کے برعکس حسد کرنے والا شخص یہ سوچتا ہے کہ یہ شخص کامیاب کیوں ہوا؟ اسے عزت کیوں ملی؟ لوگ اسے پسند کیوں کرتے ہیں؟ اس کے پاس وہ سب کچھ کیوں ہے جو میرے پاس نہیں؟


یہی سوچ انسان کے کردار کو کمزور کر دیتی ہے۔


زندگی کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات حسد کرنے والے لوگ اجنبی نہیں ہوتے۔ وہ ہمارے اپنے، ہمارے دوست، ہمارے رشتے دار اور ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ ہمارے سامنے مسکراتے ہیں، ہماری کامیابی پر مبارک باد دیتے ہیں، لیکن ان کے دل میں ہماری ترقی قبول کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تاہم یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر تنقید کرنے والا حسد نہیں کرتا اور نہ ہی ہر اختلاف رکھنے والا ہمارا دشمن ہوتا ہے۔ سمجھ دار انسان دوسروں کے رویوں کو پرکھتا ہے، مگر بلاوجہ کسی کے بارے میں بدگمانی نہیں کرتا۔


حسد کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو غیبت، بہتان، جھوٹ اور دوسروں کی کردار کشی تک لے جا سکتا ہے۔ جب کسی شخص کو کسی دوسرے کی عزت برداشت نہیں ہوتی تو وہ کبھی اس کی خامیاں تلاش کرتا ہے، کبھی اس کی کامیابی کو قسمت کا کھیل قرار دیتا ہے اور کبھی اس کی محنت کو دوسروں کے سامنے کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر دوسرے کی عزت کم ہو جائے گی تو اس کی اپنی عزت بڑھ جائے گی، حالانکہ کسی کی عزت گرا کر انسان اپنی عزت بلند نہیں کر سکتا۔


یاد رکھیے، کسی کے چراغ کو بجھانے سے آپ کی زندگی روشن نہیں ہوتی۔ اپنی روشنی پیدا کرنے کے لیے خود محنت کرنا پڑتی ہے۔


اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں، حالات اور مواقع سے نوازا ہے۔ کسی کو دولت ملی، کسی کو علم، کسی کو خوب صورت آواز، کسی کو لکھنے کا ہنر، کسی کو لوگوں کے دل جیتنے کی صلاحیت اور کسی کو دوسروں کے کام آنے کا جذبہ۔ ضروری نہیں کہ ہر انسان کو ایک جیسی نعمتیں ملیں۔ زندگی کا حسن ہی اس کے تنوع میں ہے۔ اگر ہم دوسروں کی خوبیوں کو تسلیم کرنا سیکھ لیں تو ہمارے اندر بھی سیکھنے، آگے بڑھنے اور بہتر انسان بننے کا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔


قرآنِ مجید میں سورۃ الفلق میں حاسد کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حسد ایک ایسی برائی ہے جس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ اور مدد طلب کرنی چاہیے۔ اسی طرح ہمیں اپنے دلوں کی اصلاح بھی کرنی چاہیے، کیونکہ صرف دوسروں کے حسد سے بچنا ہی کافی نہیں، اپنے دل کو حسد سے پاک رکھنا بھی ضروری ہے۔


ہم اکثر دوسروں کے حالات کا موازنہ اپنی زندگی سے کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی مسکراہٹ کے پیچھے کتنی پریشانیاں، ان کی کامیابی کے پیچھے کتنی محنت اور ان کی منزل کے پیچھے کتنی قربانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ ہمیں صرف لوگوں کی کامیابی دکھائی دیتی ہے، ان کی جدوجہد نہیں۔ ہمیں ان کا مقام نظر آتا ہے، وہ راستہ نہیں جس پر چل کر وہ وہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔


اس لیے دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنے نصیب سے شکایت کرنے کے بجائے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کسی نے کامیابی حاصل کی ہے تو اس سے سیکھیں، اگر کسی کو عزت ملی ہے تو اس کے اچھے کردار کو سمجھیں، اگر کوئی آگے بڑھ رہا ہے تو اس کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے اپنی منزل کی طرف قدم بڑھائیں۔


زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے دوسروں سے نفرت کرنے، ان کی خوشیوں سے پریشان ہونے اور ان کی ناکامی کی خواہش کرنے میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے پاس اپنے خواب پورے کرنے، اپنے رشتے سنوارنے، اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے بہت سے کام ہیں۔ اگر ہم اپنی توانائی دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے اپنی اصلاح پر خرچ کریں تو شاید ہماری زندگی کہیں زیادہ خوب صورت ہو جائے۔


ایک اچھا انسان وہ نہیں جو صرف اپنی کامیابی پر خوش ہو، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی کامیابی کو بھی کھلے دل سے تسلیم کر سکے۔ کسی کو مبارک باد دینا، کسی کی محنت کی تعریف کرنا اور کسی کی خوشی میں شریک ہونا چھوٹی باتیں دکھائی دیتی ہیں، مگر یہی عادتیں انسان کے کردار کی خوب صورتی ظاہر کرتی ہیں۔


اگر آج آپ کے کسی دوست نے کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے لیے دل سے دعا کریں۔ اگر کسی کو وہ مقام مل گیا ہے جس کی آپ خواہش رکھتے تھے تو مایوس ہونے کے بجائے اپنی کوشش جاری رکھیں۔ اگر کسی کے پاس آپ سے زیادہ وسائل ہیں تو اپنے وسائل کی قدر کریں۔ اور اگر کوئی آپ سے آگے نکل گیا ہے تو یاد رکھیں کہ ہر انسان کا سفر، اس کی رفتار اور اس کی منزل مختلف ہوتی ہے۔


اپنے دل کو اتنا وسیع بنائیں کہ اس میں دوسروں کی خوشیوں کے لیے بھی جگہ ہو۔ اپنے الفاظ کو اتنا خوب صورت بنائیں کہ وہ کسی کی حوصلہ شکنی کے بجائے اس کی ہمت بڑھائیں۔ اپنی سوچ کو اتنا مثبت بنائیں کہ آپ دوسروں کی کامیابی سے جلنے کے بجائے اس سے تحریک حاصل کریں۔


آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ حسد انسان کو دوسروں کی زندگی پر نظر رکھنے والا بنا دیتا ہے، جبکہ شکر گزاری انسان کو اپنی زندگی کی خوب صورتی پہچاننا سکھاتی ہے۔ جو شخص ہر وقت دوسروں کے نصیب کا حساب کرتا رہتا ہے، وہ اکثر اپنے حصے کی خوشیاں بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔


دوسروں کی کامیابی کو اپنی محرومی نہ سمجھیں، کیونکہ کسی اور کے نصیب میں لکھی ہوئی خوشی آپ کی خوشیوں کو کم نہیں کر سکتی۔


لوگوں کے دل جیتیں، ان کی عزت کریں، ان کی کامیابی پر خوش ہوں اور اپنی محنت پر یقین رکھیں۔ کیونکہ دنیا میں اصل کامیابی صرف دولت، شہرت یا عہدہ حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا کردار بنانے کا نام ہے جس کی موجودگی دوسروں کے لیے سکون اور جس کے الفاظ دوسروں کے لیے حوصلہ بن جائیں۔


یاد رکھیے: حسد دل کو چھوٹا کرتا ہے، جبکہ محبت، خلوص اور نیک نیتی انسان کو بڑا بناتے ہیں۔


اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی زندگی کو اتنا بامقصد بنائیں کہ آپ کے پاس دوسروں سے حسد کرنے کا وقت ہی نہ بچے۔