ان پڑھ صحافیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ،تحریر:عابد محمود عابد
نقطہ نظر
میں نے 6 سال قبل ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا
" صحافت کی بڑھتی ہوئی اقسام " اور جو کالم ابھی لکھنے جارہا ہوں اسکا عنوان اور موضوع مذکورہ بالا کالم سے ملتے جلتے ہیں لیکن بالکل ایک جیسے نہیں ہیں ،
ہاں یہ ہے کہ صحافت کی بڑھتی ہوئی اقسام نے ان پڑھ صحافیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور یہ اضافہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے ، سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ تو شاید کئی لوگوں نے دیکھی ہوگی ، جس میں ایک اخبار جس کا نام اپنی جانب سے روزنامہ لوح قلم رکھا گیا تھا لیکن اسکو لوہے قلم لکھا گیا تھا ، مجھے صحافیوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا گیا ہے ، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک چینل کے نمائندے نے اپنی ایک رپورٹ شیئر کی کہ جس میں رپورٹ کو روپوٹ لکھا گیا ، املا کی غلطیاں اگر کبھی کبھار ہوں تو انکو غلطیاں کہا جاسکتا ہے لیکن اگر بار بار ہوں تو انکو ان پڑھ صحافیوں کے کارنامے کہا جاسکتا ہے ،
صحافیوں کی ایک نئی قسم جسے اب پرانی ہی کہنا چاہیے ، وہ یوٹیوبر یا ٹک ٹاکر ہیں ، ان میں بھی بہت سے ہیں جو سر عام غلط الفاظ بار بار بول رہے ہوتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس بھی پریس کارڈ آجائے وہ صحافی بن جاتا ہے ، جس طرح ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی ، اسی طرح ہر پریس کارڈ والا شخص صحافی نہیں ہوتا ، میرے ایک مرحوم صحافی دوست جن کی تعلیم ایم اے انگلش تھی اور وہ پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار کے ڈسٹرکٹ رپورٹر تھے وہ ایک جملہ اکثر دہرایا کرتے تھے کہ
" لوگ آسان سمجھتے ہیں صحافی ہونا "
ویسے میرا انکے جملے میں یہ تبدیلی کرنے کو دل چاہتا ہے کہ " لوگ آسان سمجھتے ہیں سینیئر صحافی ہونا"
کیونکہ کبھی بھی میں نے یہ نہیں سنا کہ کوئی جونیئر صحافی بھی ہو ،سب سینیئر صحافی ہی ہوتے ہیں
نِئے نئے ناموں سے اخبارات اور ڈیجیٹل نیوز چینلز کی تشہیر سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آتی ہے اور یہ سب اخبارات اور چینلز بار بار ضرورت نمائندگان کے بینر لگائے سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں ، جو بھی رابطہ کرتا ہے وہ پیسے دے کر پریس کارڈ یا اتھارٹی لیٹر لے سکتا ہے ، پریس کارڈز کی لوٹ سیل لگی ہوتی ہے اور اس طرح جن لوگوں کو صحافت کی الف بے کا بھی پتہ نہیں ہوتا وہ پیسے دے کر صحافی بن جاتے ہیں اور جس کو دل چاہے دھمکاتے پھرتے ہیں ،
نئے نئے اخبارات اور چینلز کی یہ دوکانداری چلتی رہتی ہے اور بہت سے لوگ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے نظر آتے ہیں ,
کچھ عرصہ قبل میں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ حکومت نے صحافیوں کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا ہے اور جو اس امتحان میں پاس ہوگا وہی اپنی صحافتی شناخت برقرار رکھ سکے گا ، یہ خبر غیر مصدقہ ہے اور معتبر نہیں لگتی لیکن ویسے ایسا ہونا چاہیے ، اخبارات اور چینلز پریس کارڈ یا اتھارٹی لیٹر دیتے وقت بے شک ڈگریاں یا تعلیمی اسناد چیک نہ کریں لیکن کوئی ہلکا پھلکا ٹیسٹ تو لیا کریں کہ جس سے پتہ چل سکے کہ صحافی بننے کے خواہش مند شخص کو صحیح لکھنا یا صحیح بولنا بھی آتا ہے یا نہیں ؟
شاید انکا مقصد بھی صرف پیسے کمانا ہی ہوتا ہے اس لیے وہ ایسے کسی امتحان سے نہ گزرنا چاہتے ہیں اور نہ اگلے بندے کو گزارنا چاہتے ہیں ، بس پیسے دو اور صحافی بن جاؤ ،
پھر یہ بھی ہے کہ جو پیسے دے کر کسی غیر معروف اخبار کا رپورٹر بن جاتا ہے وہ بھی پیسے کمانے کے چکر میں رہتا ہے اور ایسی موٹی موٹی آسامیاں ڈھونڈتا رہتا ہے کہ جن کو خبروں میں رہنے کا شوق اور جنون ہوتا ہے ، جس کے لیے انہوں نے کچھ چھوٹے موٹے صحافیوں کا مستقل خرچہ لگایا ہوتا ہے اور اس خرچے کے بدلے وہ نام نہاد صحافی انکو خبروں میں موجود رکھنے کا عظیم فریضہ سرانجام دیتے ہیں ،
صحافت کوئی معمولی چیز نہیں ہے اور صحافت کے تو باقاعدہ کورسز بھی ہوتے ہیں ، میری اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ صحافتی تنظیموں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے کہ انکو صحافیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کوئی طریقہ کار بنانا چاہیے تاکہ ان پڑھ صحافیوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد صحافت کو داغدار نہ کر سکے ،
مزید پڑھیں





