ریٹائرمنٹ کے بعد کا پہلا دن،تحریر:رفعت اکرام
نقطہ نظر
سلیم صاحب نے اپنی زندگی کے پینتیس سال ایک ہی میز پر گزار دیے تھے۔ سرکاری دفتر کی وہ پرانی کرسی جس پر بیٹھ کر انہوں نے ہزاروں فائلیں نمٹائیں، سینکڑوں لوگوں کے مسئلے سنے، آج خالی ہو چکی تھی۔ کل ان کی الوداعی تقریب تھی۔ ساتھیوں نے پھولوں کا ہار پہنایا، ایک یادگاری شیلڈ دی، اور پرتپاک تالیوں میں رخصت کیا۔ سب نے کہا آپ نے بڑی ایمانداری سے نوکری کی۔
آج صبح وہ حسب معمول چھ بجے اٹھے۔ وضو کیا، فجر کی نماز پڑھی، اور پھر پینتیس سالہ عادت کے مطابق استری شدہ کپڑے نکالنے لگے۔ بیوی نے مسکراتے ہوئے نرم لہجے میں کہا، آج آپ کو کہیں نہیں جانا۔ آج آپ گھر پر ہیں، آرام کریں، باغیچے میں بیٹھیں۔
سلیم صاحب آئینے کے سامنے کھڑے رہے۔ انہیں لگا جیسے ان کی شناخت ہی ان سے چھین لی گئی ہو۔ وہ سلیم صاحب جو کل تک ہیڈ کلرک کہلاتے تھے، جن کے دستخط کے بغیر کوئی فائل آگے نہیں بڑھتی تھی، آج صرف سلیم رہ گئے تھے۔ نام کے ساتھ لگا عہدہ ہٹ جائے تو انسان خود کو بہت چھوٹا اور تنہا محسوس کرتا ہے۔
ناشتے کے بعد وہ خاموشی سے صحن میں آ کر بیٹھ گئے۔ گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا جسے ان کی بیوی نے بڑی محبت سے بنایا تھا، لیکن سلیم صاحب کبھی اسے غور سے نہیں دیکھتے تھے۔ ہمیشہ جلدی میں ہوتے تھے۔ آج پہلی بار انہوں نے دیکھا کہ گلاب کے پودے پر ایک نئی سرخ کلی کھلی ہے، گیندے کے پھول دھوپ میں چمک رہے ہیں، اور مالی نے جو امرود کا پودا لگایا تھا وہ اب تناور درخت بن چکا ہے۔
بیٹا اپنے دفتر چلا گیا، بیٹی یونیورسٹی۔ بیوی کچن میں مصروف ہو گئی۔ گھر میں صرف وہ اور دیوار پر ٹک ٹک کرتی پرانی گھڑی رہ گئی۔ دفتر میں تو وقت پر لگا کر اڑ جاتا تھا، یہاں وقت ٹھہر سا گیا تھا۔ ہر منٹ لمبا لگ رہا تھا۔ سلیم صاحب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس فارغ وقت کا کیا کریں۔
وہ اٹھے اور کمرے کی پرانی الماری سے ایک گرد آلود ڈبہ نکالا۔ اس ڈبے میں ان کے جوانی کے خط، کچھ بلیک اینڈ وائٹ تصویریں، اور ایک چمڑے کی ڈائری تھی۔ یہ ڈائری انہوں نے تیس سال پہلے لکھی تھی جب وہ شاعری کیا کرتے تھے، افسانے لکھتے تھے، اور مشاعروں میں جاتے تھے۔ نوکری کی ذمہ داریوں، بچوں کی فیسوں، اور گھر کے خرچوں نے آہستہ آہستہ ان سے ان کا ادیب چھین لیا تھا۔
انہوں نے ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا۔ زرد صفحے پر ان کی اپنی لکھائی میں لکھا تھا، میں ایک دن اپنا ناول ضرور لکھوں گا، اپنی کہانی۔ یہ جملہ پڑھ کر وہ مسکرا دیے۔ پینتیس سال پرانا خواب آج بھی ان کا انتظار کر رہا تھا۔
وہ قلم ڈھونڈنے لگے۔ بیوی نے کہا، دوسری دراز میں دیکھیں۔ دراز میں ایک نیا قلم اور کاپی رکھی تھی۔ بیوی بولی، مجھے پتا تھا آپ کو ضرورت پڑے گی، اس لیے بازار سے لا کر رکھی تھی۔ آپ دوبارہ لکھنا شروع کریں۔
سلیم صاحب کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ احساس ہوا کہ ریٹائرمنٹ ختم نہیں بلکہ نئی شروعات ہے۔ وہ زندگی جو فائلوں میں گم ہو گئی تھی، واپس آ رہی ہے۔
انہوں نے کاپی کھولی اور لکھنا شروع کیا۔ پہلا جملہ، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ الفاظ خود آتے گئے جیسے قطار میں کھڑے ہوں۔ دوپہر تک چھ صفحے لکھ لیے۔ باہر بچوں کے کھیلنے کی آواز، کچن سے خوشبو، اور قلم سے نکلتے لفظ۔ انہیں پہلی بار سکون ملا۔
اسی دوران محلے کے دو بچے آئے اور کہا انکل ہمیں مضمون لکھنا سکھا دیں۔ سلیم صاحب نے انہیں بٹھایا اور لکھنا سکھایا۔ بچے خوش ہو کر چلے گئے۔ انہیں لگا علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔
شام کو بیٹے نے پوچھا، ابا جان دن کیسا گزرا؟ بور تو نہیں ہوئے؟ سلیم صاحب نے کہا، زندگی کا سب سے مصروف دن۔ آج خود سے ملاقات کی ہے۔
رات کو انہوں نے لکھا، ہم سمجھتے ہیں ہماری اہمیت کرسی سے ہے۔ لیکن اصل اہمیت ذات اور خوابوں سے ہے۔ کرسی عارضی ہے، لیکن انسان اور اس کے لفظ باقی رہتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ نوکری سے چھٹی ہے، زندگی سے نہیں۔ میری دوسری زندگی آج سے شروع ہے۔
مزید پڑھیں





