کمرے میں پھیلا اندھیرا اور کھلی کھڑکی سے چھنتی چاندنی، دونوں مل کر میری تنہائی کا تماشہ بنا رہے تھے۔ شہر کا شور اب تھم چکا تھا، مگر میرے اندر کا شور مسلسل جاری تھا۔ میں کافی دیر سے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا، جہاں پنکھا ایک ہی رفتار سے گھومتے ہوئے وقت کے گزرنے کا احساس دلا رہا تھا۔ یہ رات کا وہ پہر تھا جب انسان اپنے پورے دن کی تھکن، لوگوں کی تلخ گفتگو اور دنیا کے ہنگاموں کو سمیٹ کر اپنے بستر پر آتا ہے۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس وقت میرے دل میں کوئی بڑی تمنا نہیں تھی، نہ دولت کی، نہ شہرت کی اور نہ ہی کسی کھوئی ہوئی منزل کو پانے کی۔ اس وقت اگر کوئی تڑپ میرے اندر انگڑائی لے رہی تھی، تو وہ صرف اور صرف خاموشی کی تڑپ تھی۔ ایک ایسی خاموشی جو میرے ذہن کے اس مسلسل ابلتے ہوئے لاوے کو ٹھنڈا کر سکے۔ یہی تو میری اصل آرزو تھی— سکوت کی آرزو۔
میز پر ایک کتاب کھلی پڑی تھی، جس کے سفید صفحات چاند کی مدہم روشنی میں چمک رہے تھے۔ میں نے اٹھ کر کھڑکی کا رخ کیا اور باہر پھیلی کائنات کو دیکھنے لگا۔ باہر درخت بالکل ساکت کھڑے تھے، جیسے وہ بھی رات کے اس سحر انگیز سناٹے کا احترام کر رہے ہوں۔ انسان کی پوری زندگی خواہشوں کے تعاقب میں گزر جاتی ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی تک، ہم سے کہا جاتا ہے کہ کچھ بن کر دکھاؤ، آگے بڑھو، لوگوں سے مقابلہ کرو۔ اس دوڑ میں ہم اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ ہماری روح کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں بھی اسی اندھی اندھیری دوڑ کا حصہ رہا تھا۔ میں نے لوگوں کی باتیں سنیں، ان کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کی، اور اس کوشش میں اپنے اندر کے سکون کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اب حالت یہ تھی کہ سجی سجائی محفلیں مجھے کاٹنے کو دوڑتی تھیں اور لوگوں کا ہجوم میرے اندر کے اکیلے پن کو مزید گہرا کر دیتا تھا۔ میری روح اب صرف ایک ایسی پناہ گاہ چاہتی تھی جہاں کوئی آواز نہ ہو، کوئی فرمائش نہ ہو اور کوئی فیصلہ نہ سنانا پڑے۔
میں نے محسوس کیا کہ خاموشی کی یہ خواہش دراصل انسان کی سب سے آخری اور سب سے قیمتی خواہش ہوتی ہے۔ جب انسان دنیا کے جھوٹے دلاسوں، منافقانہ مسکراہٹوں اور بے مقصد بحثوں سے اکتا جاتا ہے، تو وہ خاموشی کی وادی میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ یہ سکوت کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک طاقت ہے جو انسان کو دوبارہ خود سے جوڑتی ہے۔ کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا نے میرے چہرے کو چھوا تو مجھے یوں لگا جیسے کائنات خود میری اس آرزو کی تائید کر رہی ہو۔ میں نے اپنے موبائل فون کو دیکھا، جو سائیڈ ٹیبل پر خاموش پڑا تھا۔ کچھ دیر پہلے تک یہ پیغامات اور گھنٹیوں کے شور سے گونج رہا تھا، جو مجھے دنیا کی مصروفیت سے جوڑے رکھنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ میں نے اسے اٹھایا اور ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اس ایک چھوٹے سے عمل سے کمرے کے اندر کا سناٹا مزید گہرا ہو گیا، اور مجھے اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دینے لگی۔ یہ وہ پہلا قدم تھا جو میں نے اپنی اس آرزو کی تکمیل کی طرف اٹھایا تھا۔
کمرے کے کونے میں رکھی پرانی گھڑی کی ٹک ٹک اب تیز ہوتی محسوس ہو رہی تھی، جیسے وہ مجھے یاد دلا رہی ہو کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، چاہے انسان شور مچائے یا خاموش رہے۔ میں نے سوچا کہ لوگ خاموشی سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟ وہ کیوں ہر وقت اپنے اردگرد کوئی نہ کوئی شور برقرار رکھنا چاہتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ خاموشی انسان کو اپنے آپ کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب باہر کا شور ختم ہوتا ہے، تو اندر کی سچائیاں سامنے آنے لگتی ہیں، جن کا سامنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ مگر میرے لیے یہ سکوت اب ایک دوا کی مانند تھا۔ میں اس خاموشی کو اپنے اندر اتار لینا چاہتا تھا تاکہ دنیا کی دی ہوئی تمام تلخیاں اس میں گھل کر ختم ہو جائیں۔ میں نے میز پر رکھی کتاب کو آہستہ سے بند کر دیا، جیسے میں نے دنیا کے ساتھ اپنے رابطے کی آخری کتاب بھی بند کر دی ہو۔ اب میرے اور اس رات کے سناٹے کے درمیان کوئی تیسرا حائل نہیں تھا۔
چاند اب آہستہ آہستہ مغرب کی طرف ڈھل رہا تھا اور اس کی روشنی مدہم ہوتی جا رہی تھی۔ کمرے میں اندھیرے کا راج گہرا ہو رہا تھا، مگر یہ اندھیرا اب خوفناک نہیں بلکہ پرسکون محسوس ہو رہا تھا، جیسے اس نے مجھے اپنی حفاظتی چادر میں لپیٹ لیا ہو۔ میں دوبارہ اپنے بستر پر لیٹ گیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس بار میرے ذہن میں خیالات کا کوئی طوفان نہیں تھا، نہ کل کی فکر تھی اور نہ گزرے ہوئے کل کا پچھتاوا۔ میری وہ آرزو، جو میں کافی دنوں سے اپنے اندر محسوس کر رہا تھا، اب پوری ہو رہی تھی۔ خاموشی کا ایک لمس تھا جو میرے پورے وجود میں سرائیت کر رہا تھا۔ میرے اندر کا شور اب ہمیشہ کے لیے تھم چکا تھا، اور اس کی جگہ اس لازوال سکون نے لے لی تھی جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں ایک گہری اور پرسکون نیند کی وادی میں اترنے لگا، اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی سب سے بڑی کامیابی مجھے مل گئی ہو— اور وہ کامیابی کچھ اور نہیں، بس میری اپنی 'سکوتِ آرزو' تھی۔
مزید پڑھیں






