غزل،یوں دل میں محبت کے گلابوں کو سجا کر،شاعرہ:ثوبیہ راجپوت
نقطہ نظر
مصنف:
یوں دل میں محبت کے گلابوں کو سجا کر
اس شہرِ دل آزار میں ایسے نہ چلا کر
جلتا ہوا سورج تو سبھی دیکھ رہے ہیں
بجھتی ہوئی شمعوں کو بھی دیکھے کوئی آ کر
یہ شہرِ مدینہ شہِ لولاک کا ہے شہر
"اِس شہر کی گلیوں میں سلیقے سے رہا کر "
یہ ہجر کی شب تو نہیں کٹتی ہوئی لگتی
یہ عمر ہی کٹ جائے کسی طرح دعا کر
اچھا ہے کہ تُو ذہن کی آواز ہے سنتا
لیکن تُو ذرا دل کی صدائیں بھی سنا کر
آ جائے تو کس راہ سے کس وقت نجانے
بیٹھے ہیں تری راہ میں ہم پلکیں بچھا کر
جیسا کوئی ہو گا ، نظر آ جائے گا خود ہی
ثوبی تو ہر اک شخص کی عزت ہی کیا کر
ثوبیہ راجپوت
مزید پڑھیں



