Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دعا تھی یا کوئی نیکی۔تحریر۔کنیز سسیلیا منظور

نقطہ نظر

یوں تو عمر کے اس حصے تک آتے آتے زندگی میں ان گنت ایسے واقعات پیش ائے ۔کہ جن کو سوچ کر دل لامحالہ شکر گزاری سے بھر جاتاہے ۔بہت سے یاد رہ گئےاور کچھ ذہن کے پردے سے چپکے سے سرک بھی گئے۔

1995 میں میرا بیٹا سنیل ذیشان (روکی) جب وہ دس سال کا تھا ۔اس کے ساتھ پیش انے والا ایک دل دہلا دینے والا حادثہ۔دل و دماغ پہ یوں ثبت ہوا کہ تیس سال گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں یاد ہے ۔ کہ جب وہاں باتھ روم پائپ کھولنے کے لئےرکھی ہوئ سیلفیورک ایسڈ کی بوتل غلطی سے اوپر سے گر کر اس کے پیروں کے پاس ٹوٹی ۔۔۔تیزاب اچھل کر اس ٹانگوں ،پیروں ، نیکر اور ٹی شرٹ پہ جہاں جہاں لگا سوراخ کر گیا ۔گھٹنوں سے پیروں تک بچے پہ بھی گرا ۔خدا کا کروڑوں بار شکر کہ چہرے کی طرف کوئ چھینٹ بھی نہ ائ۔ بھلا ہو میرے بھانجے کا جو اتفاق سے ملنے ایا ہوا تھا۔اس نے فورا پانی سے دھو کر کپڑوں پہ لگایا جانے والا نیل مل دیا ۔بچے سے زیادہ میری جان پہ بنی ہوئ تھی۔جیسے میرا بچہ چیخ رہا تھا۔"ممی میں جل گیا ۔ممی میں جل گیا"لیکن میرے رب میرے مالک کا بے پناہ کرم رہا کہ جب ہسپتال لے کر گئے ۔میں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ سیلفیورک ایسڈ اس پہ گر گیا ہے۔تو وہ حیرانی مجھے بغور دیکھتے ہوا بولا۔" بی بی وہ کونسا سیلفیورک ایسڈ تھا" ۔وہ سمجگا کہ شاید میں غلط تیزاب کا نام لے رہی ہوں۔کیوں کہ بچے کی جلد کی رنگت کو سوائے ذرا گہری ہونے کے ،کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ ورنہ تیزاب گردی کے واقعات کو یاد کر کے میری جان نکل رہی تھی، کہ کہیں پٹی اترنے کے بعد اگر ساری ٹانگیں چھل گئیں یا خدا نخواستہ اعصاب پہ اثر ہوگیا تو کیا ہوگا۔ لیکن اس کی درد اورجلن بھی ایک دو گھنٹے میں کافی کم ہوگئ۔لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہورہا تھا۔اس لئے ہم دوبارہ اسے اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔اس نے بچے کو دیکھا اس سے بات کی اور کہنے لگے ۔منظور صاحب خدا کا شکر کریں کہ اس نے بچا لیا ہے۔فکر کی کوئ بات نہیں۔ پھرکاغذ پہ کوئ دوا لکھ کر انہیں پکڑا تے ہوئے کہا البتہ یہ گولی اپنی بیگم کو ضرور کھلا دیں۔

1995 کے بعد نومبر 2025 کو پھر ایسی ہی انہونی ہو گئی۔30 سال بعد ۔۔لیکن اس بار میری لاڈو میری پہلوٹھی کی بیٹی ٹینا سنیلا ۔اکیلی نہیں تھی چند قدم کے فاصلے پہ اس کا دس سالہ بیٹا ہمار اکلوتا نواسا ننھیال ددھیال کی جان بھی موجود تھا ۔بڑی سنگین بھول ہوئ کہ ہماری ماں جیسی ریاست کی کرم نوازی کی بدولت سوئ گیس جب چاہے غائب یا اتنی کم ہو جاتی ہے کہ روٹی نہیں پکائ جا سکتی۔میں رات کو گیس سلینڈر چلا کر روٹی پکانے کے بعد اس کا والو بند کرنا بھول گئ۔

ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کے پیچھے والا والو پرانا ہو چکا تھا ۔جس میں سے ہلکی ہلکی گیس نکلتی تھی۔کبھی بو آتی تو دروازہ کھڑکی فورا کھول کر پنکھا چلا دیتے تھے۔تو کوئ مسئلہ نہ ہوتا۔اس دن رات بھر سیلینڈر کا والو کھلا رہنے کی وجہ سے کچن کیبنٹ میں جہاں وہ رکھا ہوتا ہے ۔اچھی خاصی گیس بھر چکی تھی ۔صبح جیسے ہی بیٹی نے ناشتہ بنانے کی غرض سے چولہا جلایا تو۔۔۔ا یک زور دار دھماکہ ہوا ،نیچےکیبنٹ میں رکھا سامان اس کے اندر ہی گرا۔لیکن پلاسٹک کی تھیلیاں حرارت سے سکڑیں اور اڑ کر کچن کے فرش پہ پھیل گیئں ۔ دھماکے سےکچن کے اوپر والے کیبنٹ کے دروازے بھی کھل گئے۔تقریبا دس فٹ کے فاصلے پہ موجود دیوار کے اوپر سے مٹی اور جالے وغیرہ نیچے گر گئے۔

خداوند خدا کا بے انتہا شکر ہے کہ چولہے کے سامنے کھڑی میری بچی کو آگ سے کچھ نقصان نہیں پہنچا۔صرف سر کے دائیں جانب ،گردن اور بازو پاس سے بال ہلکے سے جل گئے تھے۔ پیر پہ تپش ذرا زیادہ لگی کہ ایک دو دن جلن کا احساس رہا۔لیکن جسم پہ کہیں بھی کوئ ابلہ وغیرہ بالکل نہیں پڑا ۔نہ ہی کپڑوں یا کسی اور چیز نے اگ پکڑی۔ سچ میں اس خالق کی عجب رحمت پہ عقل دنگ رہ گئ۔

دھماکے کی آواز سے اس کی دونوں چھوٹی بچیاں بھی ڈر کر بجلی کی سی تیزی سے چیختی ہوئ آ کے ماں سے لپٹ گئیں۔مجھے پتہ نہیں کیوں لگا کہ پنکھا گر گیا ہے ۔میں جاگی اور " ہاے خدایا میرے بچے" چیختی ہوئ بستر سے اتر کر بھاگی۔ بچوں کا چیخنا یاد کرتی ہوں تو دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ میں روتے ہوئے بار بار اپنی بیٹی کو پوچھ رہی تھی ہاتھ لگا لگا کر یقین کر رہی تھی ۔کہ اسے کہیں کوئ چیز لگی تو نہیں۔یا اگ سے کچھ نقصان تو نہیں ہوا۔ آس پڑوس کی خواتین بھی دھماکے کی آواز سن کر آگئیں ۔بچوں کو چپ کرانے،پانی پلا کر تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔کچھ دیر بعد جب سب کے حواس بحال ہونے تو میری نواسی کہنے لگی "نانو کچن میں تو ماما تھیں ان کو چوٹ لگی ہے ،اپ کیوں رو رہے ہو" اب میں اس ننھی پری کو کیا بتاتی کہ میری جان پہ کیوں بنی ہوئ ہے ۔

۔۔۔۔۔ خیر دل کی گہرائیوں سےخدا کی شکر گزار ہوں کہ میرے بچے، میرے گھر کی ہر چیز کسی بڑے نقصان سے بچ گئے ۔ورنہ گیس دھماکے سے اگ لگنے کے واقعات تو عام سننے میں اتے ہیں۔دل میں بس یہی خیال اتا ہے کہ میرے خدایا نہ جانے ہم میں سے کس کی کونسی نیکی تھی ۔یا کس کی دعائیں تھیں جو کام آ گئیں۔ ہمیشہ دعائیں دیتے اور دعائیں لیتےرہا کریں۔نجانے کب کہاں کس کی دعا کام آ جائے

وہ شعر یاد آگیا ہے کہ ۔کنی

جانے کون دعاوں میں یاد رکھتا ہے۔

میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے۔

آخر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ سردیوں کا موسم شروع ہو نے کو ہے ۔گیس کی کمی یا بندش معمول بن گیا ہے ۔خدرا گیس سیلینڈر استعمال کرنے والے غیر معمولی احتیاط سے کام لیں۔وقتا فوقتا گیس والو چیک کرتے رہیں۔استعمال کے بعد سیلینڈر لازما بند کر دیں ۔چولہا جلانے سے پہلےایک لمحہ ٹھہر کر گیس کی بو ضرور سونگھیں ۔اگر بو محسوس ہو تو کھڑکیاں دروازے کھول دیں اور کچھ دیرکے لئے کچن کا ایگزاسٹ فین بھی چلا دیں۔تاکہ ہر کوئی ایسے حادثات سے محفوظ رہ سکے۔