Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اگر آج دنیا کی دولت سب میں برابر تقسیم کر دی جائے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہم اکثر کہتے ہیں کہ دنیا میں پیسے کی تقسیم ٹھیک نہیں۔ کسی کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ اپنی کئی نسلوں کے اخراجات پورے کر سکتا ہے اور کسی کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ مہینے کے آخری دنوں میں اپنے گھر کا خرچ چلا سکے۔ کوئی شخص ایک رات کے کھانے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے اور کوئی باپ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ یہ فرق دیکھ کر دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا دنیا میں اتنا پیسہ موجود نہیں کہ ہر شخص عزت سے زندگی گزار سکے؟ یا مسئلہ پیسے کی کمی سے زیادہ اس کی تقسیم کا ہے؟


ذرا تصور کریں کہ آج دنیا کی تمام دولت جمع کر کے ہر انسان میں برابر تقسیم کر دی جائے۔ امیر اور غریب کا فرق ختم ہو جائے اور ہر شخص کے بینک اکاؤنٹ میں ایک جتنی رقم موجود ہو۔ بظاہر یہ ایک خوبصورت خیال ہے۔ شاید اس لمحے ہر شخص خود کو خوش قسمت سمجھے اور یوں محسوس ہو کہ اب کسی کو کسی سے کم ہونے کا احساس نہیں رہے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ برابری ہمیشہ قائم رہ سکے گی؟


حقیقت یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد دولت دوبارہ چند ہاتھوں میں جمع ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ کسی نے دوبارہ سارا پیسہ چوری کر لیا ہوگا بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوگی کہ ہم سب پیسے کو استعمال کرنے کا ایک جیسا طریقہ نہیں جانتے۔ کوئی اپنی رقم سے کاروبار شروع کرے گا، کوئی زمین خریدے گا، کوئی نئی مہارت سیکھ کر اپنی آمدنی بڑھائے گا اور کوئی اسی رقم سے مہنگے موبائل، گاڑیاں، لباس اور دوسری خواہشات پوری کرنے لگے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ کسی کی رقم بڑھے گی اور کسی کی کم ہوتی جائے گی۔ یوں وہی فرق دوبارہ پیدا ہونے لگے گا جسے ختم کرنے کے لیے دولت برابر تقسیم کی گئی تھی۔


یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پیسہ صرف کمانے سے نہیں بڑھتا بلکہ اسے سنبھالنے، درست جگہ لگانے اور اس سے مزید آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اپنی ساری زندگی اس انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ ان کے پاس زیادہ پیسے آ جائیں تو وہ خوشحال ہو جائیں گے۔ لیکن جب پیسے آتے ہیں تو ان کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ آمدنی بڑھنے کے ساتھ گھر بڑا ہو جاتا ہے، گاڑی بہتر ہو جاتی ہے، لباس مہنگا ہو جاتا ہے اور رہن سہن کا معیار بدل جاتا ہے۔ چند سال بعد انسان وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں پہلے تھا، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اب اس کی ضروریات پہلے سے زیادہ ہو چکی ہوتی ہیں۔


ہمیں بچپن سے پیسے کی اہمیت تو بتائی جاتی ہے مگر پیسے کو سمجھنے کی تعلیم کم دی جاتی ہے۔ ہم بچوں کو اچھے نمبر لینے، اچھی ڈگری حاصل کرنے اور اچھی ملازمت ڈھونڈنے کی ترغیب دیتے ہیں لیکن انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ اپنی آمدنی میں سے بچت کیسے کرنی ہے، سرمایہ کاری کیا ہوتی ہے، کاروبار کیسے چلایا جاتا ہے اور مالی فیصلے کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے لوگ اپنی پہلی تنخواہ ملتے ہی اسے خرچ کرنے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں جبکہ بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس تنخواہ کا ایک حصہ مستقبل میں ان کے لیے آمدنی کا نیا ذریعہ کیسے بن سکتا ہے۔


اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غریب آدمی اپنی غربت کا خود ذمہ دار ہے یا ہر امیر شخص اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے ہی امیر ہوا ہے۔ معاشرے میں وراثت، مواقع، معیاری تعلیم، طبقاتی فرق، اجرتوں کی غیر مساوی تقسیم اور حکومتی پالیسیوں کا بھی بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ کسی کے لیے کاروبار شروع کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس سرمایہ اور خاندانی سہارا موجود ہوتا ہے، جبکہ کوئی شخص اپنی معمولی تنخواہ میں سے بچت کرنے کے بجائے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی قرض لینے پر مجبور ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں دونوں کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔


اسی لیے دولت کی منصفانہ تقسیم کی بحث کو صرف اس بات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے کہ کس کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کس کے پاس ترقی کرنے کے کتنے مواقع ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں غربت کم ہو تو لوگوں کو روزگار، معیاری تعلیم، ہنر سیکھنے کے مواقع، کاروبار کے لیے آسان شرائط اور ایسا معاشی نظام دینا ہوگا جس میں محنت کرنے والے کے لیے آگے بڑھنا ممکن ہو۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ دولت کے ارتکاز کو کم کرنے، اجارہ داریوں کی حوصلہ شکنی کرنے اور بنیادی سہولتوں تک منصفانہ رسائی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔


پیسہ بانٹ دینا ایک وقتی حل ہو سکتا ہے لیکن لوگوں کو پیسہ کمانے، بچانے اور بڑھانے کے قابل بنانا ایک دیرپا تبدیلی کی بنیاد ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں سیکھنا کہ پیسہ کہاں خرچ کرنا ہے بلکہ یہ بھی سیکھنا ہے کہ اسے کس طرح اپنی ترقی اور دوسروں کی بہتری کا ذریعہ بنانا ہے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف اچھی ملازمت کی تلاش میں نہ رہے بلکہ نئے مواقع پیدا کرنے، مسائل حل کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔


آخر میں سوال وہی ہے کہ اگر آج سب کو برابر پیسہ دے دیا جائے تو کیا کل سب برابر ہوں گے؟ شاید نہیں، کیونکہ انسانوں کی ضروریات، صلاحیتیں، حالات اور فیصلے مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن اگر سب کو آگے بڑھنے کے منصفانہ مواقع دیے جائیں تو ممکن ہے کہ کل کسی کو غربت کی وجہ سے اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہنا پڑے۔


کیونکہ معاشرے کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ سب کی جیب میں آج ایک جتنے پیسے ہوں بلکہ اس میں ہے کہ ہر شخص کو اپنی محنت سے بہتر کل بنانے کا حقیقی موقع حاصل ہو۔