جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کچرے میں گلی نظر آتی ہے،تحریر: انعم عباسی

نقطہ نظر
anam abbasi

ایک زمانہ تھا جب ہم گلی سے گزرتے ہوئے کہیں کچرے کا کوئی ڈھیر دیکھ لیتے تھے تو ناک پر رومال رکھ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔ اب زمانہ اتنا ترقی کر چکا ہے کہ گلی سے گزرتے ہوئے گلی تلاش کرنا پڑتی ہے، کیونکہ کچرا اس قدر فراخ دلی سے پھیل چکا ہوتا ہے کہ سڑک اور گندگی میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گویا کچرا اب گلی میں نہیں پڑا، بلکہ گلی کچرے کے اندر آباد ہو چکی ہے!


ہمارے ہاں صفائی کا ایک بڑا دلچسپ تصور پایا جاتا ہے۔ گھر کے اندر صفائی ہو، فرش چمک رہے ہوں، صحن دھلا ہوا ہو، کمروں میں خوشبو پھیلی ہو، تو سمجھ لیجیے زندگی کامیاب ہے۔ لیکن جونہی گھر کا دروازہ کھلتا ہے، صفائی کے تمام اصول دروازے کی دہلیز پر دم توڑ دیتے ہیں۔


گھر میں جھاڑو لگاتے ہوئے جو کچرا نکلتا ہے، اسے مناسب جگہ تک پہنچانے کے بجائے بعض لوگوں کے ہاتھوں ایک ایسا قومی فریضہ سرانجام پاتا ہے جس میں نہ کسی مشورے کی ضرورت ہے، نہ اجازت کی اور نہ ہی کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ بس دروازہ کھولا، کچرا اٹھایا اور گلی میں پھینک دیا!


اور یہ کام بھی ایسے اطمینان سے انجام دیا جاتا ہے جیسے گلی ہماری نہیں، کسی ایسے جانی دشمن کی ملکیت ہو جس سے کئی نسلوں کا حساب برابر کرنا باقی ہو۔ گویا برسوں کی دشمنی کا بدلہ لینا ہے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، بس گھر کا سارا کچرا اٹھائیے اور دشمن کی سرزمین، یعنی اپنی ہی گلی میں، نذرِ آتش کیے بغیر نذرِ کچرا کر دیجیے!


بعض حضرات تو اس معاملے میں اتنے خودکفیل ہیں کہ گھر کے باہر بیٹھ کر موبائل استعمال کر رہے ہوں گے، دنیا بھر کے حالات سے باخبر ہوں گے، ملک کے مسائل پر تبصرے کر رہے ہوں گے، لیکن عین ان کے سامنے گلی میں کچرے کا ڈھیر موجود ہوگا۔ انہیں دنیا کے بدلتے ہوئے حالات تو دکھائی دے رہے ہوں گے، مگر اپنے دروازے کے سامنے بکھرا ہوا کچرا شاید کسی ایسی ٹیکنالوجی کے ذریعے نظروں سے اوجھل ہو چکا ہوگا جس کی ایجاد ابھی تک سائنس دانوں سے پوشیدہ ہے!


اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ گلی کس کی ہے؟ کیا یہ کسی دوسرے ملک کا حصہ ہے؟ کیا یہاں رہنے والے لوگ اس جگہ سے محض عارضی سفارتی تعلقات رکھتے ہیں؟ یا پھر ہم نے اپنے گھروں کو اپنی جاگیر اور گھر سے باہر کی جگہ کو لاوارث سمجھ رکھا ہے؟


حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب خوب صورت علاقوں میں بڑے بڑے بنگلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بلند و بالا دروازے، دلکش تعمیرات، نفیس آرائش، خوب صورت باغیچے اور صفائی کا بہترین انتظام؛ لیکن انہی بنگلوں کے سامنے کی گلی میں کچرے کے ڈھیر ہمارا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔ کراچی کے دفاع، کلفٹن، طارق روڈ، ملیر اور کینٹ جیسے علاقوں میں بھی بعض مقامات پر ایسے مناظر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر کی خوب صورتی کا مقابلہ تو پوری سنجیدگی سے جاری ہے، مگر گھر کے باہر کی دنیا کو خوب صورت بنانے کا خیال ابھی تک زیرِ غور ہی نہیں آیا۔


حال ہی میں کراچی کی مشہور پیپر گلی اور پرفیوم گلی سے گزرنے کا اتفاق ہوا تو ایک اور حقیقت نے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بڑے بڑے کاروبار ہوتے ہیں، دکانوں پر خریداروں کا رش رہتا ہے اور بے شمار لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ مگر وہاں کی بعض جگہوں پر گندگی، ناقابلِ برداشت بدبو، کھلے گٹر اور کچرے کی صورتِ حال دیکھ کر افسوس ہوا۔


میں سوچنے لگی کہ اگر وہاں موجود ہر دکان دار اپنی استطاعت کے مطابق روزانہ صفائی کے لیے معمولی سا حصہ ڈال دے، حتیٰ کہ سو روپے فی دکان بھی جمع ہو جائیں، تو کیا اس رقم سے کسی مناسب صفائی کے انتظام میں مدد نہیں مل سکتی؟ یقیناً اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی، ذمہ دار افراد اور شفاف حساب کتاب ضروری ہوگا، لیکن جب اتنے بڑے کاروباری مراکز میں روزانہ ہزاروں افراد آتے جاتے ہوں تو وہاں صاف ستھرا ماحول برقرار رکھنا صرف کسی ایک ادارے کا نہیں، تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ترجیح ہونی چاہیے۔


آخر ہم اپنے کاروبار کی ترقی کے لیے تو سرمایہ لگاتے ہیں، اپنی دکان کی سجاوٹ پر خرچ کرتے ہیں، گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے اپناتے ہیں؛ پھر اس جگہ کی صفائی کے لیے مل جل کر کوشش کیوں نہیں کر سکتے جہاں انہی گاہکوں نے آنا ہے؟ گاہک اگر بدبو، گندگی اور کھلے گٹروں سے بچتا ہوا دکان تک پہنچے گا تو کاروبار کی چمک دمک بھی اس کی تکلیف کو کم نہیں کر سکتی۔


یہاں ایک اور اہم بات بھی قابلِ غور ہے۔ کچرا صرف بدنظری پیدا نہیں کرتا بلکہ مکھیاں، مچھر اور دوسرے جراثیم پھیلنے کے امکانات بھی بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے صفائی محض خوب صورتی کا معاملہ نہیں، ہماری صحت اور روزمرہ زندگی سے بھی تعلق رکھتی ہے۔


اب آئیے ذرا اپنے گھروں کی طرف لوٹتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ گھر صاف کرتے ہیں۔ کسی کے گھر میں پانچ کمرے ہیں، کسی کے گھر میں چھ؛ کسی کا وسیع صحن ہے، کسی کا لمبا برآمدہ۔ ہم یہ سب صاف کر سکتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں، تو اپنے دروازے کے سامنے موجود چند گز جگہ کو صاف رکھنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟


یہ بات درست ہے کہ ہر گھر کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ خواتین کی گھریلو مصروفیات، پردے کے تقاضے، صحت اور دوسری ذمہ داریاں بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن گھر کے مرد حضرات، جو اکثر فرصت کے اوقات میں گلی میں بیٹھتے ہیں، اگر اپنی سہولت کے مطابق کچھ وقت محلے کی صفائی کے لیے مختص کر لیں تو ایک مثبت تبدیلی کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ جہاں مناسب ہو، بچوں کو بھی صفائی کی عادت سکھائی جائے؛ انہیں بتایا جائے کہ کچرا مقررہ جگہ پر ڈالنا اور اپنے اردگرد کو صاف رکھنا اچھی شہریت کا حصہ ہے۔


البتہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ صفائی کی تمام ذمہ داری شہریوں پر ڈال کر متعلقہ اداروں کو بری الذمہ قرار دے دیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کچرا باقاعدگی سے اٹھائیں، نکاسیٔ آب کا انتظام بہتر بنائیں اور صفائی کا مؤثر نظام قائم رکھیں۔ شہریوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کچرا گلی میں نہ پھینکیں، اپنے حصے کی جگہ صاف رکھیں اور اداروں سے ان کی ذمہ داری پوری کرنے کا مطالبہ بھی کریں۔


کیونکہ کسی ایک گلی کا صاف ہونا ایک پورے محلے کے صاف ہونے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ایک محلہ صاف ہوگا تو علاقے میں بہتری آئے گی، کئی علاقے مل کر شہر کی صورت بدل سکتے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے اعلان، کسی عظیم منصوبے یا کسی غیر معمولی شخصیت کی منتظر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تبدیلی کی ابتدا اپنے گھر کے دروازے کے سامنے سے بھی ہو سکتی ہے۔


ذرا تصور کیجیے، اگر ہر شخص یہ سوچنا شروع کر دے کہ میرے گھر کے سامنے کی جگہ بھی میری ذمہ داری ہے، تو ہماری گلیوں کا منظر کتنا مختلف ہو سکتا ہے۔ ہمیں نہ ہر وقت دوسروں کو کوسنے کی ضرورت رہے گی، نہ ہر گندگی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر برداشت کرنا پڑے گا۔


بات صرف اتنی سی ہے کہ گھر ہمارا ہے، گلی بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے اور شہر بھی ہمارا ہے۔ گھر کے اندر صفائی اور باہر گندگی کے درمیان کھینچی گئی یہ لکیر ہم نے خود بنائی ہے؛ اسے مٹانے کے لیے بھی ہمیں ہی پہل کرنا ہوگی۔


ورنہ وہ دن دور نہیں جب کوئی مہمان ہمارے گھر کا پتا پوچھنے آئے گا تو ہمیں کہنا پڑے گا: مکان تو سامنے ہی ہے، بس ذرا کچرے کے پہاڑ کے بعد بائیں طرف مڑ جائیے گا!


اور ہاں، اگلی مرتبہ گھر کا کچرا اٹھاتے ہوئے ذرا رک کر سوچیے گا ضرور کہ آپ اسے پھینک کہاں رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے گھر کو صاف ستھرا بنانے کی کوشش میں آپ اپنی ہی گلی کو کچرے کا گھر بنا رہے ہوں..