مخملی ہاتھوں کے خواب اور گھریلو عورت کی حقیقت،تحریر:انعم عباسی
نقطہ نظر
موٹیویشنل اسپیکرز بھی کیا خوب مخلوق ہوتے ہیں! ان کی باتیں سننے کے بعد انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی تمام الجھنوں کی چابیاں بس انہی کے پاس ہیں۔ وہ چند منٹ بولتے ہیں اور سننے والا اپنے اندر ایک نئی شخصیت دریافت کرنے لگتا ہے۔ جو کام برسوں سے نہیں ہو پا رہے ہوتے، وہ چند لمحوں میں اتنے آسان دکھائی دینے لگتے ہیں کہ انسان دل ہی دل میں اپنے آپ سے وعدہ کر بیٹھتا ہے کہ بس، اب زندگی بدل کر رہے گی۔ اب نہ کوئی بہانہ ہوگا، نہ کوئی سستی، نہ کوئی مجبوری۔ آج سے ایک نئی زندگی شروع!
میں نے بھی ایک روز ایسی ہی ایک موٹیویشنل اسپیکر کو سنا۔ وہ خواتین کو سمجھا رہی تھیں کہ دوسروں کا خیال رکھتے رکھتے اپنی ذات کو فراموش نہ کریں۔ عورت کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے لیے وقت نکالے، اپنی شخصیت کو اہمیت دے اور اپنی دیکھ بھال کرے۔ ان کی گفتگو میں خاص طور پر ہاتھوں، پیروں، چہرے اور بالوں کی حفاظت کا ذکر تھا۔ وہ بتا رہی تھیں کہ صبح کے کام نمٹانے کے بعد کس طرح اپنے ہاتھوں اور پیروں پر لوشن لگایا جا سکتا ہے، جلد کی نمی برقرار رکھی جا سکتی ہے اور رات کو سونے سے پہلے اپنی دیکھ بھال کا ایک مستقل معمول بنایا جا سکتا ہے۔
ان کی باتوں میں ایسا اعتماد اور اندازِ بیان میں ایسی کشش تھی کہ مجھے لگنے لگا جیسے وہ کسی بڑے مجمع سے نہیں، صرف مجھ سے مخاطب ہیں۔ میں دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ واقعی! آخر میں کب تک گھر کے کاموں، بچوں کی ضروریات اور دوسروں کی مصروفیات کے درمیان اپنی ذات کو بھولتی رہوں گی؟ کیا میرے ہاتھوں کو نرمی کی خواہش نہیں ہو سکتی؟ کیا میرے پیروں کو بھی توجہ نہیں ملنی چاہیے؟ کیا میں صرف گھر کے کام نمٹانے والی ایک مشین ہوں، جسے ہر وقت چلتے رہنا ہے؟
بس، اسی لمحے میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب چاہے آر ہو یا پار، میں ان کی بتائی ہوئی باتوں پر ضرور عمل کروں گی۔ آخر اپنی ذات سے محبت کرنے کا آغاز بھی تو کہیں سے کرنا تھا!
لیکن انسان کے ارادے اور گھریلو زندگی کے معمولات میں جو فاصلہ ہوتا ہے، اس کا اندازہ مجھے اسی رات ہونے والا تھا۔
دن بھر کی مصروفیات میں وقت کا پتا ہی نہ چلا۔ جب رات ہوئی تو تھکن سے آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ میں بستر کی طرف بڑھی تو نیند نے تقریباً مجھے اپنی آغوش میں لے ہی لیا تھا کہ اچانک اسی موٹیویشنل اسپیکر کا ہنستا مسکراتا چہرہ ذہن میں نمودار ہوا۔ یوں محسوس ہوا جیسے وہ میرے سامنے کھڑی سوال کر رہی ہوں، ’’محترمہ! ابھی تو بڑے شوق سے میری باتیں سن رہی تھیں۔ اپنی ذات کو اہمیت دینے کے وعدے کر رہی تھیں۔ اور اب سیدھی سونے جا رہی ہیں؟ ہاتھوں اور پیروں کا خیال کون رکھے گا؟‘‘
میں نے نیند سے بوجھل آنکھوں کے باوجود خود کو ملامت کی۔ دل نے کہا کہ اگر آج ہی ہار مان لی تو پھر زندگی میں تبدیلی کیسے آئے گی؟ سو میں نے ہمت جمع کی، بستر کا ارادہ ترک کیا اور لوشن اٹھا کر اپنے ہاتھوں پر لگانا شروع کر دیا۔
ہاتھوں کی مالش کرتے ہوئے میں مستقبل کے حسین خواب دیکھنے لگی۔ تصور میں اپنے ہاتھوں کو مخمل کی طرح نرم محسوس کیا، گویا صبح اٹھتے ہی کوئی نیا اشتہار بننے کے لیے تیار ہوں گے۔ دل میں خیال آیا کہ اگر چند منٹ کی توجہ سے اتنا فرق پڑ سکتا ہے تو پھر باقاعدگی سے یہ معمول اپنایا جائے تو کیا ہی بات ہو!
مگر ابھی میرے خوابوں پر لوشن کی پہلی تہہ ہی جمی تھی کہ بچے کی آواز آئی۔ اسے پانی چاہیے تھا۔ میں گلاس لینے کچن میں پہنچی۔ میری عادت ہے کہ کسی کو پانی دینے سے پہلے برتن اچھی طرح کھنگالتی ہوں۔ چنانچہ گلاس کھنگالا، پانی دیا اور جب واپس اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے لوشن نے مجھ سے کوئی ذاتی دشمنی پال رکھی ہو۔ ابھی لگایا تھا اور اب پانی کے ساتھ رخصت ہو چکا تھا۔
میں نے خود کو تسلی دی، ’’کوئی بات نہیں، دوبارہ لگا لوں گی۔ آخر اتنی سی بات پر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔‘‘
دوسری بار لوشن لگایا ہی تھا کہ گھر کی کوئی اور ضرورت سامنے آ گئی۔ پھر ایک اور آواز، پھر ایک اور کام۔ میں ایک ہاتھ سے اپنے مخملی خواب کو سنبھالنے کی کوشش کرتی اور دوسرے ہاتھ سے گھریلو زندگی کے تقاضے پورے کرتی رہی۔ بالآخر رات گزر گئی، مگر میرے ہاتھوں کی وہ انقلابی تبدیلی ابھی تک کسی مناسب وقت کی منتظر تھی۔
صبح ہوئی تو میں نے رات کی ناکامی کو زیادہ دل پر نہیں لیا۔ خود کو سمجھایا کہ رات گئی، بات گئی! رات کو نیند غالب آ گئی تھی، مگر اب دن ہے، روشنی ہے، حوصلہ ہے اور سب سے بڑھ کر موٹیویشنل اسپیکر کی باتیں ابھی تک ذہن میں تازہ ہیں۔ آج صبح کے کام ختم کرتے ہی سب سے پہلے ہاتھوں اور پیروں پر لوشن لگاؤں گی۔ اس بار نہ کوئی کام بیچ میں آنے دوں گی، نہ کوئی بہانہ بناؤں گی۔ آخر عورت اگر اپنے لیے دس پندرہ منٹ بھی نہ نکال سکے تو پھر کب نکالے؟
میں نے گھر کے کام تیزی سے نمٹانے شروع کر دیے۔ ایک کام ختم ہوتا تو دوسرے کی طرف لپکتی، دوسرے سے فارغ ہوتی تو تیسرا سامنے آ کھڑا ہوتا۔ میں ہر کام کے ساتھ اپنے آپ کو یہ یقین دلاتی رہی کہ بس، اب فارغ ہو کر لوشن لگانا ہے۔ آخرکار جب مجھے لگا کہ اب کچھ دیر کے لیے فرصت میسر آ گئی ہے تو میں نے اطمینان کا سانس لیا، لوشن اٹھایا اور ہاتھوں اور پیروں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے ہی والی تھی کہ میری نگاہ واشنگ مشین کے قریب پڑے کپڑوں پر جا ٹھہری۔
وہ کپڑے نہیں تھے، گویا میری ساری منصوبہ بندی کے خلاف ایک خاموش احتجاج تھا!
بچوں کے کپڑے میرے سامنے یوں پڑے تھے جیسے کہہ رہے ہوں، ’’محترمہ! ہمیں بھول تو نہیں گئیں؟ ہماری حالت دیکھیں، پھر اپنے مخملی ہاتھوں کے خواب دیکھیے گا!‘‘
میں نے ایک نظر لوشن پر ڈالی اور دوسری کپڑوں پر۔ پھر وہی پرانا اصول یاد آیا کہ گھر کے کام پہلے، اپنی ذات بعد میں۔ سو لوشن ایک طرف رکھا اور واشنگ مشین کی طرف بڑھ گئی۔
کپڑے دھونے شروع کیے تو سفید کپڑوں پر جگہ جگہ داغ دکھائی دیے۔ اب انہیں صاف کرنا بھی ضروری تھا۔ میں نے بلیچ نکالی، پانی میں ملائی اور ہاتھوں سے اچھی طرح گھولنے لگی تاکہ محلول یکساں ہو جائے۔ پھر سفید کپڑوں کو اس پانی میں بھگو دیا۔ اس کے بعد مشین سے نکلے ہوئے صابن والے کپڑوں کو الگ کیا اور انہیں دھونے، رگڑنے اور بار بار کھنگالنے کا مرحلہ شروع ہوا۔
اب ذرا اس منظر کا تصور کیجیے: ایک طرف لوشن انتظار کر رہا تھا کہ کب اس کی باری آئے، دوسری طرف میرے ہاتھ صابن والے پانی میں مصروف تھے۔ کبھی کپڑے کو اچھی طرح صاف کرنا، کبھی اسے نچوڑنا، کبھی صاف پانی میں کھنگالنا اور کبھی یہ دیکھنا کہ کہیں صابن باقی تو نہیں رہ گیا۔ کپڑوں کی صفائی کا عمل جاری تھا اور میرے ہاتھوں پر لگی ہوئی کسی بھی قسم کی حفاظتی تہہ کا تصور بھی اس پانی میں بہتا جا رہا تھا۔
میں سوچنے لگی کہ جن ہاتھوں کو نرم رکھنے کے لیے اتنے اہتمام کی ترغیب دی جاتی ہے، انہی ہاتھوں کو روزانہ کتنی مختلف چیزوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کپڑوں کے لیے الگ صابن، برتنوں کے لیے الگ ڈٹرجنٹ، سفید کپڑوں کے لیے بلیچ اور کچن کے سنک کی صفائی کے لیے مختلف قسم کے کلینر۔ ہر کام کی اپنی ضرورت اور ہر محلول کی اپنی ترکیب۔ کبھی چکنائی صاف کرنی ہے، کبھی ضدی داغ، کبھی سنک میں جمی میل اور کبھی کچن کی سطحوں پر پڑے نشان۔
برتن دھوتے ہوئے ہاتھ بار بار پانی اور صابن میں جاتے ہیں۔ سنک صاف کرتے ہوئے مختلف صفائی کے محلولوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کپڑوں کو دھوتے، رگڑتے اور نچوڑتے ہوئے انگلیوں اور ہتھیلیوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اور جب باری آتی ہے بھاری کمبلوں، چادروں یا موٹے کپڑوں کی تو انہیں صاف کرنا ایک الگ مہم بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض خواتین کپڑے کو سنبھالنے، دبانے یا نچوڑنے کے لیے پاؤں کی مدد بھی لے لیتی ہیں۔ یعنی ہاتھوں کے ساتھ پاؤں بھی اس گھریلو مشقت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔
یہ سب کرتے ہوئے میں بار بار سوچتی کہ اگر میں اپنے ہاتھوں پر لوشن لگا بھی لوں تو اسے برقرار رکھنے کے لیے آخر کتنا وقت درکار ہوگا؟ ابھی لوشن لگایا، پھر برتن دھو لیے۔ دوبارہ لگایا، پھر کپڑے دھو لیے۔ تیسری بار لگایا، تو سنک کی صفائی سامنے آ گئی۔ اب اگر ہر کام کے بعد لوشن لگانے بیٹھ جاؤں تو گھر کے باقی کام کون کرے گا؟ اور اگر سارے کام مکمل ہونے کا انتظار کروں تو ممکن ہے دن ختم ہو جائے، رات آ جائے اور میں دوبارہ بستر پر پہنچ کر وہی موٹیویشنل تقریر یاد کرنے لگوں!
مجھے اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ محسوس ہوئی کہ گھر کے کاموں کا کوئی آخری سرا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک کام ختم ہوتا ہے تو اس سے دو نئے کام نکل آتے ہیں۔ کپڑے دھو لیں تو سکھانے ہیں، سکھا لیں تو تہہ کرنے ہیں، تہہ کر لیں تو الماری میں رکھنے ہیں۔ برتن دھو لیں تو کچن صاف کرنا ہے، کچن صاف کر لیں تو اگلے کھانے کی تیاری سامنے آ جاتی ہے۔ یوں گھریلو عورت کی زندگی میں فرصت اکثر کسی ایسے مہمان کی طرح ہوتی ہے جس کے آنے کی اطلاع تو ملتی ہے، مگر وہ دروازے تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خواتین اپنی دیکھ بھال نہ کریں۔ اپنی ذات کو اہمیت دینا، آرام کرنا اور صحت کا خیال رکھنا یقیناً ضروری ہے۔ مگر یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر عورت کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کے پاس گھر کے کاموں میں مدد موجود ہوتی ہے، کسی کے پاس نہیں۔ کسی کے پاس اپنے لیے وقت اور سہولت ہوتی ہے، کسی کے لیے چند منٹ نکالنا بھی پورے دن کی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ عورت کے ہاتھ کھردرے کیوں ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان ہاتھوں سے روزانہ کتنے کام لیے جاتے ہیں، ان کی تھکن کتنی بار نظرانداز ہوتی ہے اور ان کی محنت کو کتنی بار معمولی سمجھ کر گزر جایا جاتا ہے۔ ہم عورت کے ہاتھوں کی نرمی کو اس کی نفاست کا پیمانہ بنا دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی ہاتھوں نے بچوں کے کپڑے دھوئے، گھر کو صاف رکھا، کھانا بنایا اور نہ جانے کتنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
موٹیویشنل اسپیکرز کی باتیں حوصلہ دیتی ہیں، اور ان سے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن کسی بھی مشورے کو زندگی میں نافذ کرنے سے پہلے اپنے حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اپنی ذات سے محبت صرف لوشن کی بوتل، چہرے کی کریم یا بالوں کی حفاظت تک محدود نہیں۔ کبھی اپنے لیے آرام کے چند لمحے نکالنا، گھر کے افراد سے کام بانٹنے کی درخواست کرنا اور اپنی تھکن کو تسلیم کرنا بھی خود سے محبت ہے۔ گھر کی ذمہ داریاں صرف ایک فرد کی نہیں ہوتیں؛ جب سب ہاتھ بٹائیں گے تو شاید کسی ایک عورت کے ہاتھوں کو بھی اپنے لیے کچھ وقت مل سکے۔
اور جہاں تک میرے مخملی ہاتھوں کا تعلق ہے، تو اب میں نے طے کیا ہے کہ لوشن سے دوستی ضرور رکھوں گی، لیکن اس کے ساتھ اپنے ہاتھوں کی محنت کو بھی فراموش نہیں کروں گی۔ اگر ہاتھ ہر وقت مخمل جیسے نہیں رہ سکتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی خوب صورتی کم ہو گئی۔ بعض ہاتھ اپنی نرمی سے نہیں، اپنی محنت سے پہچانے جاتے ہیں۔
مخملی ہاتھ خوب صورتی کی علامت ہو سکتے ہیں، مگر محنت کش ہاتھ زندگی کی پوری کہانی سناتے ہیں؛ انہیں دیکھ کر شاید نرمی کا احساس نہ ہو، مگر ان کی محنت کا اعتراف ضرور ہوتا ہے۔...
مزید پڑھیں




.png%3F2026-10-26T14%253A04%253A02.956Z&w=3840&q=75)
