ڈیجیٹل جال یا ترقی کا راستہ؟ تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
آج کا دور انگلیوں کی جنبش سے دنیا بدل دینے کا دور ہے۔ ایک چھوٹا سا موبائل فون انسان کو علم، تفریح، کاروبار اور رابطوں کی ایسی دنیا سے جوڑ دیتا ہے جس کا تصور چند دہائیاں پہلے مشکل تھا۔ مگر اسی اسکرین کے پیچھے کچھ ایسے خطرات بھی چھپے ہیں جو ہماری نوجوان نسل کے مستقبل، سوچ اور کردار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ٹک ٹاک اور ڈارک ویب اسی ڈیجیٹل دنیا کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک ہماری روزمرہ زندگی میں نمایاں ہے، جبکہ دوسرا انٹرنیٹ کا ایسا حصہ ہے جس کے بارے میں بہت سے لوگ کم جانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان دونوں کے خطرات کو سمجھتے ہیں یا اپنی نئی نسل کو انجانے راستوں پر چھوڑ چکے ہیں؟
ٹک ٹاک بظاہر تفریح، تخلیقی صلاحیتوں اور اظہارِ خیال کا ایک مقبول ذریعہ ہے۔ اس پلیٹ فارم پر نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے، معلوماتی ویڈیوز بناتے اور دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ بہت سے افراد نے اسی ذریعے سے اپنی پہچان بنائی اور روزگار کے مواقع حاصل کیے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ چند لمحوں کی شہرت کی خواہش، دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ، غیر ضروری نمائش اور نامناسب مواد نوجوان ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بعض نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اسکرین پر گزار دیتے ہیں، پڑھائی متاثر ہوتی ہے، نیند کم ہو جاتی ہے اور حقیقی رشتوں سے قربت بھی گھٹنے لگتی ہے۔ مسئلہ ٹک ٹاک کا وجود نہیں، بلکہ اس کا بے مقصد اور بے قابو استعمال ہے۔
دوسری طرف ڈارک ویب انٹرنیٹ کا وہ حصہ ہے جس تک رسائی کے لیے عام طور پر خصوصی سافٹ ویئر یا مخصوص ترتیبات درکار ہوتی ہیں۔ اس کے تمام استعمال غیر قانونی نہیں؛ بعض افراد اسے رازداری، صحافت اور پابندیوں کے ماحول میں آزادانہ رابطے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس کے بعض حصوں میں غیر قانونی خرید و فروخت، چوری شدہ معلومات، دھوکا دہی اور دیگر سنگین جرائم کا خطرہ موجود ہے۔ ناتجربہ کار نوجوان تجسس یا سنسنی کی تلاش میں ایسی جگہوں تک پہنچ سکتے ہیں جہاں ان کی ذاتی معلومات، مالی سلامتی اور ذہنی سکون خطرے میں پڑ جائیں۔ ایک معمولی سی غلطی انہیں بلیک میلنگ، فراڈ یا مجرمانہ سرگرمیوں کے جال میں پھنسا سکتی ہے۔
ٹک ٹاک اور ڈارک ویب میں بنیادی فرق ان کی نوعیت اور استعمال کا ہے، لیکن دونوں کے حوالے سے ایک بات مشترک ہے: ڈیجیٹل دنیا میں بے احتیاطی انسان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ٹک ٹاک پر ہر مقبول ویڈیو سچائی کی ضمانت نہیں اور ڈارک ویب پر ہر پوشیدہ سرگرمی جرم نہیں۔ اصل ضرورت سنسنی خیز دعووں کے بجائے درست معلومات، محتاط رویے اور ڈیجیٹل شعور کی ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز قابلِ اعتماد نہیں ہوتی اور ہر دلچسپ راستہ محفوظ منزل تک نہیں پہنچاتا۔
اس صورتِ حال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں پر محض پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ان کے ساتھ دوستانہ گفتگو کی جائے، انہیں آن لائن رازداری، مضبوط پاس ورڈ، دو مرحلہ جاتی تصدیق اور مشکوک روابط سے بچنے کی تربیت دی جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ اجنبی افراد کو ذاتی تصاویر، گھر کا پتا، مالی معلومات یا تصدیقی کوڈ فراہم کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی انہیں دھمکائے یا بلیک میل کرے تو خاموش رہنے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد بڑے سے مدد لیں اور متعلقہ پلیٹ فارم یا سائبر کرائم ادارے کو اطلاع دیں۔
حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی ڈیجیٹل آگاہی کو نصاب اور تربیتی سرگرمیوں کا حصہ بنانا چاہیے۔ نوجوانوں کے لیے کھیل، کتاب، مطالعہ، مثبت سرگرمیوں اور ہنر سیکھنے کے مواقع بڑھانا ضروری ہے تاکہ ان کی توانائی محض اسکرین تک محدود نہ رہے۔ یاد رکھیے، موبائل فون بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا؛ اس کا استعمال اسے فائدے یا نقصان کا ذریعہ بناتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ٹک ٹاک کو ختم کر دیا جائے یا ڈارک ویب کا نام سن کر خوف زدہ ہو جایا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی نسل کو شعور، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں جینا سکھا رہے ہیں؟ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت صرف دروازوں پر پہرے بٹھانے سے نہیں، بلکہ ذہنوں میں آگاہی کی روشنی پیدا کرنے سے ممکن ہے۔ اگر ہم نے آج انہیں درست اور غلط میں فرق کرنا سکھا دیا تو ٹیکنالوجی ان کے لیے خطرہ نہیں، ترقی کا راستہ بن سکتی ہے۔ ورنہ ایک بے احتیاط کلک، لمحاتی شہرت کی خواہش یا اندھا تجسس کسی روشن مستقبل پر سوالیہ نشان لگا سکتا ہے۔ آئیے! نوجوان نسل کو خوف نہیں، شعور دیں؛ پابندیوں کا بوجھ نہیں، ذمہ داری کا احساس دیں، تاکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں گم ہونے کے بجائے اپنی منزل تلاش کر سکے۔
مزید پڑھیں





